124

ٹیکس اور تجسس

تحریکِ انصاف حکومت کی جانب سے عوام کوبے نامی اثاثے اور آمدنی کے بے نامی ذرائع ظاہر کرنے اور ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے کےلئے دی جانے والی تازہ ترین ایمنسٹی سکیم میں تین دن کی توسیع بھی ختم ہو چکی ہے‘ جس سے فائدہ اٹھانے اور نہ اٹھانے والوں کو یکساں تجسس ہے کہ نتیجہ کیا نکلے گا! کیا ٹیکس ایمنسٹی سکیم کامیاب رہی؟اس بارے میں اعدادوشمار سے حکومتی جماعت اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکین اپنے اپنے مطلب کے معانی نکال رہے ہیں لیکن اگر قریب ایک لاکھ افراد ٹیکس نیٹ میں شامل ہوئے ہیں‘ جن کی اکثریت اس سے قبل نان فائلزتھی تو یہ اپنی جگہ ایک اہم کامیابی ہے کیونکہ کسی بھی ایک سال کے دوران نئے ٹیکس دہندگان کی تعداد اتنی زیادہ نہیں رہی! اور دیکھا جائے تو حکومت کا مقصد بھی یہی تھا کہ سکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ ٹیکس ایمنسٹی سے قومی خزانے کو پچاس ارب کے لگ بھگ آمدنی حاصل ہوئی ہے جبکہ ظاہر کئے گئے اثاثہ جات کی کل رقم کا تخمینہ لگانا بھی مشکل نہیں کیونکہ پچاس ارب اس کالے دھن کا صرف چار فیصد ہے‘ جو ظاہر کیا گیا ہے۔ تصور کیجئے کہ پاکستان میں کس قدر کالادھن زیرگردش ہے!ایمنسٹی سکیم کا یہ رخ بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ ٹیکس وصولی کے دعوو¿ں اور برسرزمین حقائق میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ تین دن کا اضافہ قطاروں میں لگے افراد کی سہولت سے زیادہ اس مجبوری کے باعث بھی کیا گیا تاکہ حکومت اور ایف بی آر کی عزت رہ جائے وگرنہ پاکستان میں آج تک ایسا سورج طلوع نہیں ہوا‘ ۔

جب قطار میں لگے پاکستانیوں کی تکلیف پر حکمران تڑپ اٹھے ہوں۔ یہ مناظر دیکھنا تو اب معمول بن چکا ہے کہ پنشن کے لئے بزرگ چلچلاتی دھوپ میں بینکوں کے باہر بیٹھے ہوتے ہیں‘دراصل انکا سڑک کنارے دھوپ میں بیٹھنا اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ وہ احتجاجاً ایسا کرتے ہیں بلکہ ضعیف العمری‘ تھکاوٹ اور کمزوری کے باعث ان سے کھڑا نہیں رہا جاتا!آخر ٹیکس ادا کرنےوالوں نے اپنی ذمہ داریاں وقت پر کیوں ادا نہیں کیں؟انہیں ٹیکس ایمنسٹی کیوں دی گئی جو ایف بی آرسے جھوٹ بولتے رہے؟ پاکستان کے ان لوگوں کےلئے بھی کوئی رعایت ہوگی‘ جو اپنے حصے سے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں‘یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ آئی ایم ایف نے ایمنسٹی سکیم پر اپنی ناپسندیدگی اور اس میں کسی بھی قسم کی توسیع نہ کرنے کا پیغام دے رکھا ہے‘ اسلئے آئی ایم ایف بورڈ اجلاس سے پہلے سکیم کو نمٹا دیا گیا ہے ظاہر سی بات ہے کہ حکومت کی طرف سے ٹیکس ایمنسٹی سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد سے زیادہ یہ بات معانی رکھتی ہے کہ اس سے حکومت کو کل کتنی آمدنی حاصل ہوئی اور کل کتنی مالیت کے اثاثہ جات ظاہر ہوئے۔ ایمنسٹی کی مکمل تصویر تب واضح ہو گی۔

 جب کل آمدن اور ظاہر کئے گئے کل اثاثہ جات کے اعدادوشمار سامنے آئیں گے‘ نواز لیگ کے دور میں متعارف کروائی جانےوالی ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں تقریباً 1.7کھرب روپے کے اندرون و ملک اثاثہ جات ظاہر ہوئے تھے اور اس سے قریب 124ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا ہوا تھا‘وزارت خزانہ کی مالیاتی پالیسی اسٹیٹمنٹ2018-19ءمیں دیئے گئے اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ برس نواز لیگ کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں 75ہزار افراد ٹیکس نیٹ میں شامل ہوئے اور اس سے قومی خزانے میں 90ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔