91

دل دل پاکستان 

شاعر‘ ادیب‘ فنکار ایسے لوگ نہیں ہوتے جو بیمار ہو جائیں تو ان کی خبریں شائع ہوں ان کے علاج معالجے پر سرکاری توجہ دی جائے یہ تو معاشرے کا کسی حد تک وہ پسماندہ طبقہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی ان کو اخبارات میں جگہ نہیں ملتی‘ سنگل کالم کی خبر ہی ان کا استحقاق سمجھا جاتا ہے اور جہاں تک موجودہ حکومت کا تعلق ہے تو اسے تو ابھی اپنا ہوش نہیں‘ وزیراعظم کو بھی اب کچھ کچھ یقین ہونے لگا ہے کہ وہ وزیراعظم کی نشست پر براجمان ہیں عمران خان بلاشبہ اس ملک اور قوم کے ہمدرد ہونگے مگر انہیں ابھی حکمرانی کی اپرنٹس شپ مکمل کرنی ہے وجہ یہ ہے کہ ابھی ان کے احکامات پر بس نوکر شاہی میں جوں تک ہی رینگتی ہے‘ معیشت ہی انہیں سر اٹھانے کا موقع نہیں دے رہی‘ ٹیکس پر ٹیکس لگا کر وہ کام چلاناچاہتے ہیں‘ بڑے بڑے مگر مچھ ٹیکس دینے کی بجائے اپنے علاقے کے انکم ٹیکس افسران کو راضی رکھتے ہیں اور ٹیکس کا زیرہ قومی خزانے کے اونٹ کے منہ میں دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں‘ سو مہنگائی نے مت مار رکھی ہے ایسے میں معاشرے کے فنکاروں اور تخلیق کاروں کےلئے کون سوچے گا ۔عمران خان کیا ‘ان کے ثقافتی وزیر کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں کہ پاکستان کی شناخت بننے والا تخلیق کار چپکے سے اس جہان فانی سے کوچ کر گیا‘ جی ہاں محمد نثار ناسک ایک اہم تخلیق کار تھا‘وہ بائیس کروڑ لوگوں کے دلوں میں پاکستان کو چراغ کی طرح روشن کرگیا تھا وہ دل دل پاکستان تخلیق کر گیا اسے ہر پاکستانی کا دل اور جاں پاکستان کی صورت دکھائی دیتا تھا وہ ایک جےنوئن شاعر تھا ریڈیو پاکستان سے بطور سکرپٹ ر ائٹر وابستہ تھا اور اپنے لہو سے شعر تخلیق کرتا تھا ۔

 نثار ناسک سے قبل نظم کا بڑا شاعر عبدالرشید اور ڈرامہ نگار‘ ناول نویس‘ اداکار ڈاکٹر انور سجاد ہم سے رخصت ہوئے‘ ان کےلئے ہمارے میڈیا نے کیا کیا‘ انور سجاد کو طویل علالت کے آخری ایام میں سوشل میڈیا کی وساطت سے ان کے بقایا جات اور اکادمی کی طرف سے علاج معالجہ کے لئے امداد مہیا کی گئی لیکن کافی تاخیر ہو چکی تھی‘ انور سجاد چپ چاپ چل بسے‘نثار ناسک ایک سچے اور کھرے پاکستانی شاعر تھے وہ قوم کے گیت نگار تھے‘ دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان‘ جیسے شاہکار گیت کے خالق تھے جو آج بھی ہر دل میں دھڑکتا ہے مگر اس گیت کے خالق کی طرف کبھی کسی کی توجہ نہیں گئی‘ حکومتی چرنوں میں اس نے نہایت کسمپرسی کے عالم میں ہولی فیملی ہسپتال میں آخری سانسیں لیں اور ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گیا‘ ہم جےسے کئی لکھنے والے اس سے زیادہ دور نہ تھے مگر کسی نے بھی دل دل پاکستان کے خالق کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا البتہ اب نثار ناسک کی موت پر ہم کالم لکھ رہے ہیں‘اس کی موت کوایک محب وطن پاکستانی شاعر کی موت قرار دے رہے ہیں ‘مرنے کے بعد شاعروں ادیبوں کےلئے بہت کچھ لکھا جاتا ہے مگر زندگی میں کبھی ان کی قدر نہیں کی جاتی بہت شکریہ کہ آج نصیر احمد ناصر جو خود ایک بڑے نظم گو شاعر ہیںنے انہیں یاد کیا اور ان کی نظم فیس بک پر پوسٹ کی ۔اے پہاڑ کے لوگو ...آج رات مت سونا... آج مل کے روئیں گے...

 ساری عمر کا رونا محبوب ظفر نے اسلام آباد سے اطلاع دی کہ دل دل پاکستان کے خالق نثار ناسک اب ہم میں نہیں رہے انہیں ڈھوک رتہ قبرستان میں دفنایا جائے گا انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ جبار مرزا صاحب نے مختصر تعارف فیس بک پر لکھ دیا کہ آپ 15فروری 1943ءکو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور 76برس عمر پائی‘ نثار ناسک محلہ میلادنگر رتہ امرال راولپنڈی میں رہائش پذیر تھے وہ ریڈیو پر اختر امام رضوی کی تخلیقی ٹیم کا حصہ تھے نثار ناسک کا اولین شعری مجموعہ ہمدم دیرینہ آصف بھلی کی کاوشوں سے ماورا پبلشرز کے روح رواں خالد شریف نے شائع کیا ”میں چوتھی سمت آنکلا “میں ان کی شاہکار غزلیں اور نظمیں شامل ہیں‘ مجھے ذاتی طور پر اسلئے بھی عزیز تھے کہ ان کے نام کا آدھا حصہ میرے دوست اطہر ناسک نے بھی اپنے نام کےساتھ لگا رکھا تھا اب دونوں اس جہان فانی سے جا چکے ہیں‘نثار ناسک کے چند اشعار نذر قارئین ہیں ۔
 میں سازشوں میں گھرا اک یتیم شہزادہ 
یہیں کہیں کوئی خنجر مری تلاش میں ہے 
ہم کو آزادی ملی بھی تو کچھ ایسے ناسک 
جیسے کمرے سے کوئی صحن میںپنجرہ رکھ دے 
قتل طفلاں کی منادی ہو رہی ہے شہر میں 
ماں مجھے بھی مثل موسیٰ تو بہا دے نہر میں