92

جینے کی تمنا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے عالمی مقابلہ وقت سے پہلے ہی اختتام پذیر ہو چکا ہے اور یہ ناقابل ہضم حقیقت ہے۔ ٹیم گرین کی مایوس کن کارکردگی ملکی و غیرملکی شائقین کے لئے کسی صدمے سے کم نہیں۔ برطانیہ کے لارڈز کرکٹ گراو¿نڈ پر ورلڈ کپ 2019ءکے سلسلے میں کھیلے گئے ٹیم گرین کے آخری میچ بمقابلہ بنگلہ دیش میں 94رنز سے کامیابی بھی پاکستان کے کام نہیں آ سکی یعنی پاکستانی ٹیم اس مقام پر جا پہنچی جہاں اس کی فتح بھی کارآمد نہیں رہی تاہم بنگلہ دیش سے چار مسلسل شکستوں کے سلسلے کو روکنا اپنی جگہ کچھ نہ کچھ اہمیت تو رکھتا ہی ہے اور اس کا ذکر بھی ہونا چاہئے بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان نے ورلڈ کپ مہم کو نسبتاً اچھے طریقے سے ختم کیا ہے۔ کرکٹ کھیل کےساتھ ریکارڈز بنانے اور توڑنے کا نام بھی ہے‘ بنگلہ دیش کےخلاف فتح کے بعد پاکستان مسلسل چار میچز جیت کر بھی ٹورنامنٹ سے باہر ہونے والی عالمی کپ مقابلوں کی پہلی ٹیم بن گئی ہے! مذکورہ میچ کھیلے جانے سے پہلے ہی قومی ٹیم کے سیمی فائنل تک پہنچنے کی امیدیں دم توڑ چکی تھیں۔ پاکستان کے کپتان سرفراز نے میچ سے پہلے کہا کہ بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے پانچ سو رنز کا ناقابل یقین سکور کرنے کی کوشش کی جائے گی‘ یہ بیان کسی مذاق سے کم نہیں تھا بلکہ پاکستانیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ثابت ہوا اور یہی وجہ رہی کہ سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں گرما گرم بحث سے ماحول کچھ ایسا بن گیا کہ جیسے پاکستان واقعی میں اِس ناممکن کو ممکن بنا دے گا۔

 بہرحال ٹاس جیت کر جب پاکستان نے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو مداحوں کو امید تھی کہ جیسے کوئی معجزہ ہونے جارہا ہے لیکن ابتدائی سات اوورز میں جب سست روی سے کھیلتے ہوئے صرف 23رنز بنائے گئے تو حکمت عملی واضح ہوگئی کہ قومی ٹیم سراب کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنے مقررہ 50اوورز میں قدم جما کر آہستہ آہستہ ایک ایسے سکور تک پہنچنا چاہتی ہے جس کا دفاع کرتے ہوئے فتح کو یقینی بنایا جاسکے کیونکہ اگر پانچ سو رنز کی لالچ میں پوری ٹیم پچاس رنز پر ڈھیر ہو جاتی جو کہ ممکن تھا تو یہ زیادہ بدمزہ اختتام ہوتا۔ بنگلہ دیش سے واجبی سکور کے ساتھ جیت کے پیچھے کیا سوچ کارفرما تھی اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان ورلڈ کپ مقابلوں سے باہر کیوں ہوا؟ خراب کارکردگی کی وجہ سے؟ ویسٹ انڈیز کے خلاف بدترین شکست کی وجہ سے؟ سری لنکا کے خلاف میچ میں بارش ہونے کی وجہ سے؟ نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف بڑے مارجن سے جیتنے کی پوزیشن کے باوجود ایسا نہ کرنے کی وجہ سے؟ یا پھر آسٹریلیا کے خلاف آخری اوورز میں ہمت ہار جانے کی وجہ سے؟ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان ٹیم کی ٹورنامنٹ سے قبل ہی وطن واپسی کے پیچھے یہ محرک کارفرما ہیں لیکن ویسٹ انڈیز کےخلاف شکست شاید سب سے بڑی وجہ بنی! اگر اس میچ میں ٹیم گرین عزت کے ساتھ بھی ہار جاتی تو آج نیوزی لینڈ کی جگہ پاکستان سیمی فائنل کھیل رہا ہوتا!ویسٹ انڈیز اور پاکستان کا ورلڈ کپ میں کچھ خاص تعلق بھی ہے! عالمی مقابلوں کی تاریخ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان کےلئے ہمیشہ مشکل رہی ہے۔

 یہ دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ 1975ءکے عالمی کپ میں آمنے سامنے آئیں اور پاکستان نے ویسٹ انڈیز کی مضبوط ٹیم کو شکست سے دوچار کر ہی دیا تھا کہ ان کے آخری کھلاڑیوں نے دھواں دار بیٹنگ کر کے پاکستان کی یقینی فتح کو شکست میں بدل دیا۔ دوسری مرتبہ یہ 1979ءکے ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کے مقابلے فاتح ویسٹ انڈیز ہی رہی! 1983ءکا ورلڈ کپ تیسرا موقع تھا جب دونوں ٹیمیں ورلڈ کپ میں مدمقابل ہوئیں اور اس میچ میں بھی ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 8وکٹوں جیسے بڑے مارجن سے شکست دی جبکہ ابھی 68گیندوں کا کھیل ہونا باقی تھا۔ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو ورلڈ کپ میں پہلی مرتبہ لاہور کے میدان میں 1987ءمیں شکست دی لیکن ٹیم گرین نے یہ میچ اننگ کی آخری گیند پر صرف ایک وکٹ سے جیتا تھا!1992ئ‘ 2007ءاور 2019ءکے عالمی کپ مقابلوں میں پاکستان نے اپنے ابتدائی میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے اور تمام میں ہی قومی ٹیم کو شکست ہوئی لیکن جتنی ذلت آمیز شکست کا سامنا جاری ورلڈ کپ میں کرنا پڑا وہ شاید کبھی نہیں ہوا ہو کیونکہ اس مرتبہ نتیجہ یہ نکلا کہ ویسٹ انڈیز نے ہمیں ورلڈ کپ مقابلوں ہی سے باہر کر دیا اور میچ میں ہونے والی شکست کے علاوہ پاکستان کے نیٹ رن ریٹ پر ایسی کاری ضرب لگی کہ ٹیم کا رن ریٹ پورے ایونٹ میں منفی ہی رہا! احتساب ضروری ہے کہ کھلاڑی‘ ٹیم مینجمنٹ اور کرکٹ بورڈ اپنی غلطیوں کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالنے کی بجائے ایمانداری اور غیر جانبداری سے جائزہ لیں اور مستقبل کےلئے ایسی ٹیم تشکیل دیں جس کی کارکردگی میں تسلسل ہو‘ جو ٹورنامنٹ کے ابتدائی مقابلوں سے ہی جیت کی راہ پر گامزن رہے اور وہ دوسری ٹیموں کی خراب کارکردگی کی دعائیں مانگ مانگ کر اپنی فتح کے خواب نہ دیکھے! ’مرنے کی دعائیں کیوں مانگو‘ جینے کی تمنا کون کرے .... یہ دنیا ہو یا وہ دنیا‘ اب خواہش دنیا کون کرے (معین احسن جذبی)۔