200

سمگلنگ روکنے کا اعلان؟

حکومت نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں سمگلنگ کا جاری سلسلہ روکنے کے لئے اقدامات کا عندیہ دیا ہے‘ا س ضمن میں بتایا جارہا ہے کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کیساتھ ایک اجلاس میں آپریشن کا فیصلہ کرلیاگیا ہے‘ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین شبر زیدی موجودہ اقتصادی منظرنامے میں یقین دہانی کراتے ہیں کہ ملک میں گھی مہنگا نہیںہونے دیا جائے گا‘ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ چینی اور سیمنٹ کے ڈیلرز پر عائد ٹرن اوور ٹیکس 1.5کم سے کرکے 0.25فیصد کردیاگیا ہے‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ریٹیلرز کے لئے تین حصوں پر مشتمل ٹیکس کا نیا نظام تشکیل دیا گیا ہے‘ ایف بی آر کی جانب سے خریداری کے لئے شناختی کارڈ کی شرط اگست سے لاگو کرنے کا اعلان بھی کیاگیا ہے‘ وطن عزیز کو درپیش معاشی بحران میں ایف بی آر کے بعض فیصلے یقینا سخت ضرور ہیں تاہم مشکلات سے نکلنے کے لئے بعض اوقات تلخ گھونٹ پینا ضروری ہوتے ہیں‘ جہاں تک ملکی صنعت کا تعلق ہے تو پروڈکشن کاسٹ میں اضافے اور ٹیکسوں کے رائج نظام نے نہ صرف پیداوار کو متاثر کیا ہے بلکہ تجارتی خسارے کی شرح کو بھی بڑھایا ہے‘ قرضوں تلے دبی معیشت میں صورتحال ایک قرضے کی قسط چکانے کے لئے دوسرا قرضہ لینے تک پہنچ چکی ہے جبکہ قرضے کی منظوری کو کامیابی قرار دیاجاتا ہے‘ مسئلے کا عارضی حل یقینا یہی ہے کہ ایک کے بعد دوسرا قرضہ اٹھایاجائے تاہم مستقل حل ملکی صنعت کا فروغ اور ایکسپورٹ میں اضافے سے جڑا ہے‘ملکی صنعت کو متاثر کرنے والے عوامل میں ایک سمگلنگ بھی ہے۔

 افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں ہونیوالی سمگلنگ نے صورتحال کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے‘ اس سمگلنگ کو روکنے کا اعلان ایف بی آر کے احساس وادراک کی عکاسی ضرور کرتا ہے تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب تک اس کو آزاد چھوڑنے کا ذمہ دار کون ہے‘ اس کو روکنا تو ذمہ دار اداروں کا مینڈیٹ تھا ان اداروں پر یہ بات واضح تھی کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال اور انڈر انوائسنگ کا مسئلہ حل کئے بغیر ملکی صنعت نہیں چلے گی‘ ایف بی آر کے تازہ فیصلے کو بعد از خرابی بسیار سہی قابل اطمینان قرار دیاجاسکتا ہے‘ تاہم اس پر عملدرآمد اسی صورت ممکن ہے کہ اوور سائٹ کے لئے ایک فول پروف مکینزم دیاجائے بصورت دیگر اعلان صرف اعلان ہی رہے گا۔

سیاسی گرماگرمی

پاکستان مسلم لیگ ن گزشتہ روز اچانک العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ آڈیو ویڈیو سامنے لے آئی ہے‘ اس آڈیو وڈیو میں جج مبینہ طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے نوازشریف کو سزا دباﺅ پر سنائی‘ اطلاعات ونشریات کے لئے وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ ویڈیو کا فارنزک آڈٹ کرایا جائیگا‘ وزیر قانون فروغ نسیم کہتے ہیں کہ ٹیپ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا‘ ویڈیو اس وقت منظرعام پر آئی جب اپوزیشن جماعتیں کل چیئرمین سینٹ کے خلاف قرارداد جمع کرارہی ہیں جبکہ 25جولائی سے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کرنے کا کہا جارہا ہے‘ جمہوری نظام میں سیاسی اختلافات معمول کا حصہ ہیں تاہم ملک کو درپیش چیلنج اس بات کے متقاضی ہیں کہ تمام تر گرماگرمی کے ساتھ کم ازکم اہم امور پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے باہمی مشاورت کی روایت بھی جاری رکھی جائے تاکہ عوام کے لئے ریلیف ممکن ہوسکے۔