85

اپوزیشن کا اتفاق

 اپوزیشن نے بالآخر کسی محاذ پر حکومت کو شکست دینے کا فیصلہ کر ہی لیا‘ عجیب اتفاق ہے کہ اپوزیشن کی اے پی سی میں جس رہبر کمیٹی کو چیئرمین سینٹ کےخلاف تحریک عدم اعتماد لانے اور اپوزےشن کا متفقہ امیدوار نامزد کرنے کا اختیار دیاگےا ہے ان میں سے دو ایسی پارٹیوں کے نمائندے بھی شامل ہیں جن کی سینٹ توکیا قومی اسمبلی میں بھی کوئی نمائندگی نہیں مگر وہ چیئرمین سینٹ جیسے عہدے کیلئے فیصلہ ساز کمیٹی میں بیٹھے ہیں اور اس پر کسی بھی جمہوری پارٹی کو اعتراض نہیں‘بہرحال کمیٹی نے پہلے ہی باقاعدہ اجلاس میں ایک دوسرے پر عدم اعتماد کرتے ہوئے سب کے موبائل فون جمع کرلئے اور سب سے حلف بھی لیا کہ کمیٹی کے فیصلوں کو افشاءنہیںکریں گے‘ پہلے اعلان کے مطابق9جولائی کو تحریک جمع کرائی جانی ہے جبکہ11 جولائی کو یہی کمیٹی اپوزیشن کے متفقہ امیدوار کے نام کا اعلان کرے گی مگر حلف اٹھانے والوں نے یہ بات باہر بیان کردی کہ اصل فیصلہ ہوگیا ہے اور سینٹ میں بڑی پارٹی مسلم لیگ ن کے چیئرمین اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق کو چیئرمین کا امیدوار نامزد کردیاگیا ہے اور یہ بھی کہ یہ حق مسلم لیگ ن کو نہیں دیاگیا کہ وہ خود اپنا امیدوار نامزد کرے اگر مسلم لیگ نے امیدوار تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تو رہبر کمیٹی بھی اپنا فیصلہ تبدیل کر سکتی ہے‘گزشتہ گیارہ ماہ کی حکومت کے دوران اپوزیشن پہلی بار متفق ہوئی ہے اور وہ بھی اس میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں بظاہر جیت یقینی ہے حالانکہ اس اپوزیشن کو خوش قسمتی سے ایک ایسی حکومت ملی تھی جو اپنی بے وقوفیوں اور غلط فیصلوں سے پہلے دن سے ہی ناکام اور بدنام ہو رہی ہے‘حالیہ بجٹ کے بعد تو اپوزیشن کے بغیر ہی عوام پھٹ پڑے ہیں اور ہر طبقہ سڑکوں پر آرہا ہے حالانکہ بجٹ کے اصل جوہر ابھی کھلے ہی نہیں ۔

‘اپوزیشن نے عوام کی آواز بننے اور حکومت کےخلاف محاذ کھولنے کی بجائے چیئرمین سینٹ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا جن کوحکومتی پارٹی نے نامزد کےاتھا اور نہ ہی ان کا تعلق حکومتی جماعت سے ہے بلکہ یہ پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے مگر اپنے ہی لگائے ہوئے پودے کو اکھاڑنے کیلئے سابقہ حریف مسلم لیگ کےساتھ مل گئی ہے ابھی یہ گیم شروع ہوئی ہے لیکن بظاہر گنتی اپوزیشن کے حق میں ہے اس میں کچھ بلوچستان کے سینیٹر تحریک کی مخالفت کرسکتے ہیں لیکن شاید اس سے بھی نتیجے پر فرق نہیںپڑےگا جہاں تک چیئرمین صادق سنجرانی کا تعلق ہے تو انہوں نے پہلی بار سینٹ رکن بنتے ہی اس اعلیٰ ترین پارلیمانی ایوان کے چیئرمین کا منصب سنبھال کر ایک ریکارڈ قائم کرلیا ہے انہوں نے کسی بھی وجہ سے حاصل ہونےوالے اس منصب کی تکریم اور تقدیس کے تقاضے پورے کئے اور پورے ایوان کے چیئرمین ہونے کا تاثر مضبوط کیا انہوں نے حکومت کےخلاف بھی کئی فیصلے دیئے جن میں سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو ایوان سے بے دخل کرنے سے لیکر جسٹس فائز عیسیٰ کے حق میں قرارداد منظور کروانے کے فیصلے بھی شامل تھے ‘دیکھا گیا تھاکہ ایوان میں چیئرمین کے تعلقات کار قائد ایوان سے زیادہ قائدحزب اختلاف کےساتھ استوار تھے مگر اب یہی مدمقابل ہوں گے جہاں تک مسلم لیگ ن کے اندر سے چیئرمین کے امیدوار کاتعلق ہے تو یہ سب کو معلوم ہے کہ مسلم لیگ ن کے سینیٹرز کی اکثریت ان کی حامی نہیں ہے بلکہ وہ صادق سنجرانی کو ان سے زیادہ مسلم لیگی سمجھتے ہیں‘راجہ ظفرالحق ایک سینئر سیاستدان ضرور ہیں مگر وہ دھیمے لہجے کے بے ضرر انسان ہیں۔

 وہ اپنی پارٹی کے ارکان کا جائز کام بھی نہیں کرتے اور نہ کسی کی جائز سفارش کرتے ہیں مسلم لیگی سینیٹر جانتے ہیں کہ اگر وہ چیئرمین سینٹ بن گئے تو اسکا مطلب یہی ہوگا کہ سینٹ میں مسلم لیگ یتیم ہوگئی ‘شاید یہی وجہ تھی کہ 2018ءکے الیکشن میں مسلم لیگ کو چیئرمین کیلئے نام دینا مشکل ہوگیا تھا اور اکثریت نے پیپلز پارٹی کو پیشکش کی تھی کہ وہ رضا ربانی کو نامزد کرے تو بلامقابلہ منتخب کروادےں گے‘ اسکے باوجود آصف زرداری نے یہ بات قبول نہیں کی تھی اور آخری لمحات میں راجہ ظفر الحق کو نامزد کیاگیا تھا اب بھی اندازہ یہی ہے کہ مسلم لیگ ن رہبر کمیٹی سے چیئرمین کی نامزدگی کا اختیار مانگے گی جو مخالف ووٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے نہیں مل سکے گا‘یہاں مولانا فضل الرحمن کی سیاست دیکھیں کہ رہبر کمیٹی میں دیگر جماعتوں کے مقابلے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے دو دو ممبران ہیں مگر کسی فیصلہ کیلئے ان کے پاس ووٹ صرف ایک ہی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دیگر جماعتوں کا ایک ایک ووٹ ہے مگر عملی طورپر مولانا فضل الرحمن کے پاس3 ووٹ ہیں ایک جے یو آئی(ف)ایک جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) اور ایک مرکزی جمعیت اہل حدیث ‘اتنی سیاست تو آصف زرداری بھی نہیں کر سکتے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے راجہ ظفر الحق کا نام دیکر مسلم لیگ کو پھنسا لیا ہے اب اگر یہ نام تبدیل کرتی ہے تو سارا فیصلہ ہی تبدیل ہوگا اور فیصلہ وہی ہوگا جو مولانا فضل الرحمن چاہیں گے حکومت کو چیئرمین کی تبدیلی سے فرق نہیں پڑے گا مگر وقتی طورپر یہ فائدہ ضرور ہو جائے گا کہ میڈیا کی توجہ مہنگائی اور عوام کی بے چینی سے ہٹ کر نئی سیاسی جنگ کی طرف آجائے گی۔