69

ایک اور کاردار کی ضرورت

کرکٹ کے ناقدین نے تو بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ 2019ءکا ورلڈ کپ ٹورنامنٹ بھارت‘ آسٹریلیا ‘ انگلستان اور نیوزی لینڈ میں سے کوئی بھی جیت سکتا ہے‘ پاکستان کا شمار توروز اول سے ہی نہ تین میں تھا اور نہ تیر ہ مےں‘ یار لوگوں نے نہ جانے کیوںاپنی ٹیم سے حد سے زیادہ امیدیں باندھ لی تھیں‘ آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ نے بڑے پتے کی بات چند روز قبل کر دی تھی کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم اس قدر نا قابل اعتبار ہے کہ وہ دنیا کی بہترین ٹیم کو ہرا بھی سکتی ہے لیکن دنیا کی کمزور ترین ٹیم سے مات بھی کھا سکتی ہے‘ اب کی دفعہ اگر پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی اوسط درجے کی تھی تو ویسٹ انڈیز ‘ جنوبی افریقہ اور سری لنکا کی ٹیموں نے بھی نہایت پست کھیل کا مظاہرہ کیا‘ افغانستان کی کرکٹ ٹیم پر سردست کسی قسم کا گلہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ابھی بین الاقوامی سطح پر نووارد ہے اسے مزید کچھ عرصہ لگے گا کہ وہ اپنے پاﺅں پر کھڑی ہو سکے‘ اب کی دفعہ بنگلہ دیش کی ٹیم کا قدرت نے ساتھ نہیں دیا حالانکہ اسکے کھلاڑیوں نے ٹورنامنٹ میں کافی جان ماری اس ٹورنامنٹ کے اختتام پر دنیا کی کئی ٹیموں کے کئی پرانے اور عمر رسیدہ کھلاڑی ریٹائر ہو جائیں گے اور یاپھرانہیں فارغ کر دیاجائے گاشاید ہم حفیظ ‘ شعیب ملک ‘ آملہ ‘ دھونی ‘ عامر‘وہاب ‘ سرفراز ‘ کرس گیل ‘مالنگا وغیرہ کا آخری میچ دیکھ چکے ہوں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا کپتان اس شخص کو ہونا چاہئے جو وےرات کوہلی جیسا ہو اور وہ ٹیم کے کھلاڑیوں کو اس قسم کے ڈسپلن کے اندر رکھے کہ جس طرح عبدالحفیظ کاردار رکھا کرتے تھے کہ جو پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان تھے اور ایک بڑے عرصے تک غالباً سب سے زیادہ عرصے تک وہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی قیادت کرتے رہے‘ ان کے دور میں بیرونی دوروں کے دوران کسی کھلاڑی کی یہ جرات نہ تھی کہ وہ اپنے ہوٹل کے کمرے سے رات نو بجے کے بعد کسی کلب جا سکے‘ ۔

یہ تھا ڈسپلن کا عالم‘ آج کل تو کھلاڑی کپتان کو گھاس نہیں ڈالتے ‘ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی کپتان کے انتخاب میں ان خاصیتوں کو مد نظر نہیں رکھتا کہ جو اس میں ہونی چاہئیں‘ایک زمانے میں مشہور تھا کہ بھارت کی ٹیم میں کبھی بھی اچھا فاسٹ باﺅلر پیدا نہیں ہوا لیکن اب چند برس سے بھارت بہت اچھے قسم کے تیز باﺅلنگ کرنے والے باﺅلرپیدا کر رہا ہے‘ سپنر تو خیر بھارت ہمیشہ سے پیدا کرتا رہا ہے ایک بڑے عرصے تک ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باﺅلروں کا خوف دنیا کی دوسری ٹیموں کے بلے بازوں پر طاری رہا اس زمانے میں ہےلمٹ کا رواج عام ہوا نہ تھا 1960ءمیں ویسٹ انڈیز کے دورے کے دوران بھارت کے اوپننگ بلے باز فاری کنٹریکٹر کے سرپر ویسٹ انڈیز کے ایک فاسٹ باﺅلر کا بال لگا وہ اتنا بری طرح زخمی ہوا کہ اگر اسے فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے امریکہ نہ لے جایا جاتا تو اسکی موت کا خطرہ تھا۔

 اس واقعے کے بعد فاری کنٹریکٹر پھر کرکٹ نہ کھیل سکا‘ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم ایک بڑے عرصے تک آسٹریلیا اور انگلستان کے ہم پلہ رہی لیکن اب اس پر زوال آ چکا ہے آج ویسٹ انڈیز ان ٹیموں سے پٹ رہی ہے جن کو کبھی وہ کسی شمارمیں ہی نہ لاتی تھی اب صرف آسٹریلیا ایسا ملک ہے کہ جس نے اپنے ہاں ایسا بہترین کرکٹ کا نظام بنا رکھا ہے کہ اسکی ٹیم میں ہروقت ہر پوزیشن پرکھیلنے والے کئی کئی کھلاڑی بیک وقت موجودرہتے ہیں لہٰذا کسی کھلاڑی کے زخمی یا ریٹائرمنٹ پر جانے کی صورت میں اس کا نعم البدل ہر وقت باآسانی دستیاب ہوتا ہے‘ بھارت نے بھی کافی حد تک اپنے کرکٹ نظام کو مضبوط کر لیاہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس معاملے میں کیا کرتے ہیں۔