88

بارش کی جیت

کرکٹ کے جاری عالمی مقابلوں میںچیونٹی (نیوزی لینڈ) کے ذریعے ہاتھی (بھارت) کو شکار ہوتے دیکھ کر یہ بات مسلمہ ہو گئی ہے کہ دنیائے عمل حتیٰ کہ کھیل کے میدان میں بھی جیساکرو گے ویسا ہی بھرو گے کا اصول حکمران ہے اور جو دوسروں کے لئے گڑھا کھودتا ہے‘ وہ دائمی فائدے میں نہیں رہتا! بہرحال بھارت کی شکست میں پاکستانیوں کی جیت اور خوشی چھپی رہتی ہے اور کرکٹ تو ایسے کھیل کا نام ہے کہ جس میں چھوٹی غلطیوں کی بڑی سزا ملتی ہے۔ بھارتی ٹیم کی بیٹنگ کا مڈل آرڈر ایک عرصے سے تنقید کی زد میں رہا لیکن چونکہ پہلے تین بیٹسمینوں پر انحصار فخریہ طور پر کیا جاتا تھا‘ اسلئے شائقین کی تنقید کو کبھی بھی خاطر میں نہیں لایا گیا اور بالآخر وہ گھڑی آئی جب 10جولائی کے روز بھارت نے نیوزی لینڈ کےخلاف ایک جیتا ہوا نسبتاً آسان میچ ہار دیا جبکہ افغانستان کےخلاف مقابلے میں بھی وہ مڈل آرڈر بیٹسمینوں کی کمی کے باعث ہارتے ہارتے رہ گیا تھا۔ تصور کریں کہ جس ایک ٹیم میںون ڈے کا نمبر ون بولر ہو‘ بہترین لیگ سپنر ہو‘ بہترین لیفٹ آرم سپنر ہو‘ دھونی جیسا مڈل آرڈر بلے باز ہو اور پھر کوہلی کپتان ہو‘ روہت شرما اوپنر ہو جس کےلئے 100رنز کرنا گویا فطرت رہی ہو تو ایسی ٹیم کا عروج کیوںنہ ہو؟ ورلڈ کپ کے شروع ہوتے ہی پیشگوئیاں ہو رہی تھیں کہ بھارت اور برطانیہ فائنل کھیلیں گے۔ گو آسٹریلیا بھی نہایت مضبوط ٹیم ہے‘ جنوبی افریقہ سے بھی کئی امیدیں جڑی تھیں۔ نہیں تھی تو بس نیوزی لینڈ کسی شمار قطار میں نہیں تھا! فائنل کھیلنا تو دور کی بات‘ کوئی یہ بھی نہیں کہہ رہا تھا کہ نیوزی لینڈٹےم سیمی فائنل تک پہنچ پائے گی! کیونکہ اسکے اوپنرز کی کارکردگی زیادہ متاثر کن نہ تھی اکیلے ولیم سن اس بیٹنگ لائن کو دھکا لگا رہے تھے اور واضح سی بات ہے کہ ایک اکیلا کھلاڑی بھلے کتنی ہی اچھی فارم میں ہو‘ تن تنہا اتنے بڑے ٹورنامنٹ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔

 اگر پاکستان ویسٹ انڈیز کے خلاف برے طریقے سے نہ ہارتا تو شاید ولیم سن کی ٹیم ایک ہفتہ پہلے ہی نیوزی لینڈ واپس پہنچ چکی ہوتی لیکن تمام توقعات کو شکست دے کر‘ سبھی خدشات کو درست ثابت کرتے یہ ٹیم فائنل فور میں پہنچی۔کپتان کوہلی کے سامنے صورتحال اس قدر شفاف تھی کہ انہیں ٹیم سلیکشن سے لے کر کھیل کی منصوبہ بندی تک کہیں کسی تردد کا شکار نہیں ہونا پڑا۔ بھلے ولیم سن نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کر لی مگر کوہلی مطمئن تھے کہ اس شکستہ حال بیٹنگ لائن کے سامنے ان کا بولنگ اٹیک کافی ثابت ہو گا۔ پہلے پاور پلے میں انڈین بولنگ اس قدر مو¿ثر تھی کہ کیویز کے قدم ڈگمگاتے نظر آئے اور لڑکھڑاتی اننگز پر کوہلی اس قدر مسرور تھے کہ اوورز کے درمیان کہیں ہلکا پھلکا ناچتے بھی دکھائی دیئے۔ کوہلی بجا تھے‘ وہ ناچ بھی سکتے تھے کیونکہ اتنے بڑے پریشر میچ میں مخالف ٹیم پہلے دس اوورز میں ہی یوں بیک فٹ پہ جا چکی تھی اور پھر اچانک بارش نے آ لیا جس سے قبل بھارت کےلئے میچ میں کامیابی قطعی مشکل نہ تھی کیونکہ ایک طرح کا دباو¿ بنا ہوا تھا مگر مانچسٹر کے بادل کچھ اور ہی سوچ رہے تھے۔ جہاں تین گھنٹے بعد کوہلی کی ٹیم فتح کا جشن منانے کا سوچ رہی تھی‘ وہاں جیت بارش کی ہوئی اور یوں تاریخ میں پہلی بار ون ڈے انٹرنیشنل 2روزہ میچ بن گیا۔ رات بھر کی بارش‘ ابر آلود صبح اور سست وکٹ نے حالات فاسٹ بولنگ کےلئے سازگار کئے۔

 کوہلی کی ٹیم کو یہ تبھی بھانپ لینا چاہئے تھا جب صبح سویرے تین اوورز میں ہی کیویز کی تین وکٹیں گر گئیں‘روہت شرما کو محتاط ہو جانا چاہئے تھا‘ کے ایل راہول اور کوہلی کو بھی وکٹ کی طبیعت کے مطابق اپنی شاٹس میں بدلاو¿ لانا چاہئے تھا مگر ایسا کچھ نہ ہوا اور حد سے زیادہ اعتماد و فخر بھارت کو لے ڈوبا! شائقین کرکٹ کے حافظوں میں محفوظ رہے گا کہ کیوی اننگز کے آخری چار اوورز میں کوہلی کیویز کو چڑانے میں پیش پیش رہے‘ بھد اڑانے کی بھرپور کوشش کی اور ٹیل اینڈرز تک کا مذاق اڑانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بھلے وکٹ گیلی تھی اور کیوی پیسرز بھی بھرپور ردھم میں تھے لیکن اس قدر طویل اور ان فارم بیٹنگ لائن کے لئے یہ ہدف کچھ بھی نہیں تھا۔ صرف وکٹ پہ رکنے کی ضرورت تھی مگر کوہلی کا دھیان شاید وکٹ کو سمجھنے سے زیادہ ناچنے پہ تھا۔ جبھی اس قدر سنسنی خیز میچ کے بعد‘ ہدف کے عین قریب آ کر بھی کوہلی کو دوبارہ ناچنے کا موقع نہ مل سکا۔ کپتان کوہلی کو جس خوشی کا اظہار میچ ختم ہونے کے بعد کرنا تھی‘ وہ کافی پہلے اور میچ کے دوران کثرت سے کر چکے‘ جس کی وجہ سے صرف بھارتی ٹیم اور عوام ہی نہیں اچھاکھیل دیکھنے کے منتظر شائقین بھی مایوس ہوئے ہیں۔