184

نیا بین الا قوامی منظر عامہ

ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک ہزاروں سال مےں بن نوع انسان کو سچائی اور اچھائی کا راستہ دکھایاگےا پر انسانی مخلوق کی ایک اکثریت آج بھی راہ راست پر چلنے سے گریزاں ہے‘ ظلم ویسا ہی ہے کہ جیسا کبھی تھا‘ بھوک اور ننگ نے آج بھی قدم جمائے ہوئے ہیں‘ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو کئی سلطنتوں اور تہذیبوں کا پتہ چلتا ہے ’ہر کمالے را زوالے‘ وہ سب کی سب یا تو اپنے وزن کو نہ سنبھال سکیں اور اس کے نیچے دب کر قصہ پارینہ ہوگئیں اور یا پھر خبط عظمت نے ان کو اس قسم کے مہنگے ایڈونچر زلینے پر مجبور کیا کہ جو ان کی تباہی کا باعث بنے‘ کہاں گئیں یونان ‘ روم ‘ چین اور فارس کی تہذیبیں ‘ زار روس کا ذکر اب کتابوں میں ہی ملتا ہے دور نہ جاےئے سلطنت برطانیہ کا ہی ذکر کر لیتے ہیں کہ جس پر کبھی سورج غریب ہی نہ ہوتا تھا کہ اس کا وجود ہر براعظم میں تھا‘ دوسری جنگ عظیم برطانیہ جیت تو گیا پر اندر سے اس کی بنیادیں کھوکھلی ہوگئی تھیں برطانوی سلطنت کے زوال کے بعد کمیونسٹوں نے سوویت یونین کو ایک بڑی سیاسی قوت میں بدل ڈالاپر جب اس نے بھی حد سے زیادہ اپنے پاﺅں پھیلانے کی کوشش کی تو اس کا بھی وہی حشر ہوا کہ جو ماضی میں اس سے کئی گنا زیادہ سیاسی اور عسکری قوت رکھنے والی تہذیبوں کا ہوا تھا ہاں یہ بھی درست ہے کہ امریکہ نے اس کے خلاف جو سرد جنگ 1950 سے جاری کر رکھی تھی۔

 اس نے بھی اس کی بربادی میں اپنا حصہ ڈالا‘ سوویت یونین کا جب شیرازہ بکھرا تو امریکہ نے یہ سمجھا کہ اب بس دنیا میں اس کا سکہ چلے گا‘اسے کیا معلوم تھا کہ قدرت کسی بھی سیاسی خلاءکو زیادہ دیر تک خالی رہنے نہیں دیتی‘ چین جو کہ 1980 سے ماﺅزے تنگ کی وفات کے بعد کچھوے کی چال چل رہا تھا اور دنیاوی جھگڑوں سے اپنے آپ کو دور رکھ کر اپنی تمام تر توجہ معیشت اور سائنس کے فروغ پرمبذول کررہا تھا بہت جلد دنیا میں ایک ایسی طاقتور معیشت کے ساتھ ابھرے گا کہ امریکہ جیسے ملک کو اپنا قرض دار بنا دے گا‘ یہ چینی قیادت کی اگر سیاسی دور اندیشی نہیں تو پھر کیا ہے کہ اس نے دیگر مسائل کو بالائے طاق رکھ کر گزشتہ 30برس میں اپنی تمام تر توجہ اپنے ہیومن ریسورس پر ہی مرکوز رکھی اور اس کا کماحقہ فائدہ اٹھایا‘سوویت یونین کا بخیہ ادھیڑنے کے بعد امریکہ یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ بس اب وہ ہی اس دنیا کا واحد بادشاہ ہے ماسکو کی جگہ اب بیجنگ کا سامنے آجانا اس کیلئے پریشانی کا باعث بن چکاہے ‘اسے ہر محاذ پر زچ کرنے کیلئے امریکی تھنک ٹینک مختلف قسم کی سازشوں میں چوبیس گھنٹے مشغول ہیں‘ امریکہ ان ممالک پر ہاتھ پھیر رہا ہے ان سے محبت کی پینگیں بڑھا رہا ہے کہ جن کی چین کےساتھ پرانی رقابت ہے وہ ’دشمن کا دشمن دوست ‘ والے کلیے پر عمل پیرا ہے۔

 کبھی وہ ہانگ کانگ کے چین دشمن عناصر کو تھپکی دے رہا ہے تو کبھی تبت کے ان سیاسی عناصر سے گلے مل رہا ہے جو چین کے باغی ہیں‘سنکیانک کے اندر بھی وہ گڑبڑ کو فروغ دے رہا ہے اس خطے میں بھارت کو بھی وہ اسی مقصد کیلئے بروئے کار لا رہا ہے‘ امریکہ کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ روس اور چین میں آج کل اس قسم کی چپقلش کیوں نہیں کہ جو ماضی میں ایک لمبے عرصے تک رہی ہے اب وہ کیوں آپس میں شیر و شکر ہو رہے ہیں کیونکہ یہ کمیونزم کے پرچارک ملک اگر آپس میں صدق دل سے ایکا کر لیتے ہیں تو امریکہ کا وہ کام کافی مشکل ہو جاتا ہے کہ جس میں وہ مصروف ہے اور وہ کام یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح چین کو بھی اسی طرح عدم استحکام کا شکار کیا جائے کہ جس طرح امریکی صدر ریگن کے دور میں امریکہ نے اس وقت کے سوویت یونین کو کیا تھا جہاں تک روس کا تعلق ہے سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس کی ساکھ کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے‘ روسی صدر پیوٹن کی طرح روس میں کروڑوں ایسے کمیونسٹ آج اپنے وہ زخم چاٹ رہے ہیں جو کہ ان کو اس وقت سے لگے ہوئے ہیں جب کئی سوویت ریاستوں کو ماسکو کو آزاد کرنا پڑا تھا چنانچہ کریملن کے پاس بھی بجز اس کے کوئی دوسرا آپشن نہیں کہ وہ چین کے ساتھ بنا کر رکھے‘ چین کی قیادت نے تو خیر شروع سے ہی ماﺅزے تنگ کی وفات کے بعد ماسکو کےساتھ اپنے تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کی ٹھان رکھی تھی لگ یہ رہا ہے کہ آئندہ کچھ عرصے تک دنیا کا سیاسی منظر نامہ اس منظر نامے سے کافی مختلف ہوگا کہ جو دوسری جنگ عظیم کے بعد بنا تھا۔

امریکہ اپنی چودھراہٹ کبھی نہیں چھوڑے گا اور اس خطے میں چین کو خصوصی طور پر زک پہنچانے کیلئے وہ بھارت کو استعمال کرے گا کوشش اس کی کل بھی یہ تھی آج بھی یہی ہے اور آئندہ بھی یہ ہوگی کہ سی پیک کا کسی نہ کسی طریقے دھڑن تختہ کیا جائے‘بھارت اس مشن مےں اس کی پوری حمایت کرے گا‘ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ماہ عمران خان سے ملاقات کے دوران امریکی صدر ان سے کیا تقاضا کرتے ہیں یہ عمران خان کی قیادت‘ سیاسی فہم اور دور اندیشی کا بھی لٹمس ٹیسٹ ہوگا کہ وہ ٹرمپ کی کونسی بات مانتے ہیں اور کس سے انکار کرتے ہیں‘ چین اور روس دونوں اس اہم ملاقات کی گہرائی سے مانیٹرنگ کریں گے‘ دوست بدلے جا سکتے ہیں پر ہمسائے نہیں ‘آزمائے ہوئے انسان یا ملک کو دوبارہ آزمانا جہالت ہے‘ آج یہ بات پاکستان کے مفاد میں ہے کہ وہ اب چین اور روس دونوں کےساتھ بنا کر رکھے ا ور ان دو ممالک کےخلاف کسی قیمت پر بھی امریکہ کی پراکسی نہ بنے ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ روسیوں کا ابھی تک پاکستان کے بارے میں سو فیصد دل صاف نہیں ہوا عمران خان کو اس ضمن میں ایکسٹرا سفارتی محنت کرنا ہوگی ۔