180

اربوں روپے کے قرضوں کا حساب

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ اگر قوم کے پیسے واپس نہ لاسکے تو کرسی پر بیٹھنے کاکوئی حق نہیں قرضہ معافی ازخود نوٹس کی سماعت میں ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا ہے کہ اب صرف دو راستے ہیں رقم واپس کریں یا مقدمات کا سامنا کریں پرنسپل اماؤنٹ کا75فیصد واپس کردیں تو مارک اپ بھی معاف ہو سکتا ہے بصورت دیگرمعاملہ نیب کو بھیجا جائیگا چیف جسٹس آف پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ قوم کا ایک ایک پیسہ وصول کرنا ہے جس کیلئے قرضہ ہڑپ کرنیوالوں کی جائیدادیں بھی ضبط کی جا سکتی ہیں وطن عزیز کی معیشت اس وقت ہر جانب سے مشکلات کاشکار ہے کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں کی اقساط ادا کرنے کیلئے نئے قرضے لینا پڑتے ہیں یوٹیلٹی بل عالمی اداروں کی ڈکٹیشن پر بنانا پڑتے ہیں تجارتی خسارہ تشویشناک صورت اختیار کرتا جارہا ہے توانائی کا بحران اپنی جگہ عالمی ادارے قلت آب سے متعلق وارننگ دے رہے ہیں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے عام شہری مہنگائی کی چکی میں پس رہاہے ہمارے بینکاری نظام میں طویل دستاویزی کاروائی پر سفید پوش طبقے کو ملنے والے قرضے کی واپسی کیلئے اتنی شدت سے دباؤ پڑتا ہے۔

کہ چند لاکھ روپے کا ادھار لینے والا بھاری سود کیساتھ واپسی میں خود کنگال ہوجاتا ہے گھر سے زیورات لے جاکر قرض اٹھانے والے کا سونا معمولی تاخیر پر نیلام ہو جاتا ہے جبکہ54ارب روپے قرضے معاف ہو جاتے ہیں یہی طبقہ ٹیکس اوردوسری مدوں میں وقت کیساتھ مراعات بھی حاصل کرتا ہے عدالت عظمیٰ نے چند روز قبل کے ریمارکس میں یہ بھی کہا تھا کہ ان لوگوں کی اعلیٰ گاڑیاں ویسی ہی چل رہی ہیں ایک جانب ہڑپ کئے گئے قرضے وصول کرنا ضروری ہیں تو دوسری طرف آئندہ کیلئے پیش بندی بھی ناگزیر ہے ضروری یہ بھی ہے کہ قرضے معاف کرانے والوں کی معاونت کرنیوالوں سے بھی پوچھ گچھ ہو سرمایہ کاری کیلئے قرضہ لینے والوں کو قرضے کی واپسی کیساتھ اس شرط کا بھی پابند بنایا جائے کہ وہ اس قرض سے ہونیوالی سرمایہ کاری میں روزگار کے مواقع فراہم کرے گاقرضہ واپسی ہو یا پھر قومی دولت کا کوئی اور حساب ‘ضروری یہ بھی ہے کہ ملک میں احتساب کے عمل کو فول پروف اور بے لاگ بنایا جائے اس کیلئے حکمت عملی باہمی مشاورت سے طے ہوسکتی ہے تاکہ کل کسی کو اعتراض کی گنجائش ہی نہ ہو۔

خیبرپختونخوا کا اہم ایشو

نگران وزیراعلیٰ جسٹس(ر) دوست محمد خان کی زیر صدارت پری بجٹ اجلاس کو صوبے کے مالی امور سے متعلق بریفنگ دی گئی بریفنگ کے اہم نکات میں وفاق سے ملنے والے وسائل‘ اے جی این قاضی فارمولے پر عملدرآمد‘ پن بجلی منافع اور گیس کی رائلٹی بھی شامل ہے نگران وزیر اعلیٰ یہ بھی کہتے ہیں کہ اے جی این قاضی فارمولہ کے نفاذ سے پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں صوبے کا شیئر خاطر خواہ حد تک بڑھ جائیگا خیبرپختونخوا کا جغرافیہ یہاں کے مخصوص حالات اور مالی دشواریاں تو اس بات کی متقاضی ہیں کہ بریفنگ کے اہم نکات کو وفاق اور صوبے کے درمیان رابطے میں یکسو کر دیا جائے اس مقصد کیلئے متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی رابطہ یقینی بناناہوگا کیا ہی بہتر ہو کہ وفاق اس مقصد کیلئے فوری اجلاس طلب کرکے حکمت عملی طے کرے تاکہ خیبرپختونخوا کی تعمیر وترقی ممکن ہو سکے اور ماضی کی اس ضمن میں سست روی اور چشم پوشی کا ازالہ ممکن ہو۔