210

بجلی کے نرخ‘ پانی کی کمی

گرانی کی چکی میں پسنے والے‘ لوڈشیڈنگ کا عذاب سہنے اور اسکے باوجود بھاری یوٹیلٹی بل ادا کرنے والے وطن عزیز کے بجلی صارفین پر گردشی قرضے کی مد میں150 ارب روپے کا مزید بوجھ ڈال دیاگیا تکنیکی مہارت سے عاری حکومتی پالیسیوں اور شاہانہ سرکاری اخراجات کے نتیجے میں کھربوں روپے کے قرضوں تلے دبی معیشت میں گرانی کے ہاتھوں مشکلات کا شکار غریب اور متوسط شہریوں پر اس سے قبل پٹرول بم گرایا جاچکا ہے اس پٹرول بم کے نتیجے میں بجلی کی پروڈکشن کاسٹ بھی بڑھی ہے جبکہ مجموعی گرانی کا گراف مسلسل اوپر ہی جاتا جارہا ہے بجلی کی قلت اور قیمت پر قابو پانے کا بہتر راستہ آبی ذخائر کی تعمیر ہے جس پر ایک کے بعد دوسری برسراقتدار آنیوالی حکومتوں نے چشم پوشی کی مشترکہ حکمت عملی اختیار کئے رکھی‘قومی مفاد میں نئے ڈیموں کی تعمیر سے انحراف کا نتیجہ آج عالمی اداروں کی جانب سے قلت آب سے متعلق بڑے خطرات کی وارننگ کی صورت میں موجود ہے خود سابق حکومت کے ذمہ دار وفاقی وزیر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ملک میں کوئی مستقل آبی پالیسی نہیں اس بات کا احساس بھی موجود تھا کہ 2025ء تک پانی کی طلب میں مزید اضافہ ہوگا سابق حکومت کی رخصتی سے کچھ ہفتے قبل ایک واٹر پالیسی دی بھی گئی اس ساری صورتحال میں اس بات کا کوئی ادراک صحیح معنوں میں نہیں کیا گیا کہ ملک میں سالانہ30 ارب ڈالر مالیت سے زائد کا پانی ضائع ہو رہاہے ۔

پانی کی قلت کا شکار15 ممالک میں شامل پاکستان کی معیشت زرعی کہلاتی ہے جبکہ ہمارے پاس لاکھوں ایکڑ اراضی پانی نہ ہونے کے باعث بنجر پڑی ہے اس سب کیساتھ انتظامی ابتری الگ ہے صرف خیبر پختونخوا اور وزارت پانی و بجلی کے درمیان متعدد اہم معاملات اس قدر الجھ چکے ہیں کہ اب عدالت عظمیٰ کو حکم دیناپڑا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر حل تلاش کریں قابل اطمینان ہے کہ نگران وزیراعظم نے واٹر کونسل کا اجلاس طلب کیا ہے اس وقت ضرورت پہلے سے شروع منصوبوں کی بروقت تکمیل ہر صورت یقینی بنانے کی ہے ضرورت واٹر پالیسی میں دیئے گئے اہداف پانے کیلئے ٹھوس حکمت عملی کی ہے ضرورت وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے موثر پلاننگ کی ہے ضرورت معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سیاسی اتفاق رائے کی بھی ہے ضرورت اس ضرورت کا احساس کرنے کی بھی ہے کہ اگر آج پانی کے مسئلے پر روایتی چال ہی سے چلا جاتا رہا تو کل صورتحال قابو سے باہر ہوگی جس کے ذمہ دار ہم سب کہلائیں گے۔

حقیقت کا سامنا

لاہور کی ترقی سے متعلق تمام دعوے بارشوں میں بہہ گئے یہ بھی حقیقت ہے کہ بارش نے بھی38سال کا ریکارڈ توڑا‘تاہم خدمات کی فراہمی کے انتظامات کا پول بھی کھل کر سامنے آگیا بات صرف لاہور تک محدود نہیں خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت ہر چھوٹے بڑے شہروں میں آندھی یا بارش کے ساتھ خدمات کی فراہمی سے متعلق دعوؤں کی حقیقت سامنے آجاتی ہے ہمارے ہاں اعلانات اور عملی اقدامات کے درمیان طویل فاصلہ رہتا ہے ہماری پالیسیاں وقتی ضرورت پوری کرنے کیلئے فریم ہوتی ہیں ہمارے منصوبے خاص علاقوں اور خاص افراد کیلئے بنائے جاتے ہیں جب تک اس طرح کے سقم دور نہیں ہوتے وفاق اور صوبوں کے سروسز سے متعلق ذمہ دار محکموں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہی رہے گی۔