214

انتخابات: آبی قلت اور خطرات!

پاکستان میں پانی کی قلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تربیلا ڈیم کی جھیل میں پانی کی سطح کم ہوتے ہوئے اس مقام تک جا پہنچی ہے کہ ڈیم کی تہہ میں صرف کیچڑہی باقی رہ گیا ہے‘ 8 جولائی کی صبح تربیلا جھیل میں پانی کی سطح 1 ہزار 386 میٹر ریکارڈ کی گئی جو ڈیڈ لیول کے نہایت ہی قریب ہے‘ تربیلا میں فی الوقت یومیہ 1 لاکھ 15 ہزار کیوسک پانی کی آمد اور یومیہ 1 لاکھ 23 ہزار کیوسک پانی کا اخراج ہو رہا ہے۔ اِسی طرح چشمہ بیراج میں بھی زیادہ سے زیادہ 2 یا 3 دنوں کی ضروریات کیلئے پانی کا ذخیرہ موجود ہے‘امیدوں اور دعاؤں کا مرکز مون سون ہے جسکے سلسلے میں 12 جولائی سے بارشیں شروع ہونگی لیکن اگر مون سون بارشوں میں تاخیر ہوتی ہے تو پانی کے دیگر ذخائر سے پانی روکنا پڑیگا‘ جس سے خریف کی فصلیں بری طرح متاثر ہوں گی‘ارسا نے پہلے ہی خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی لیکن آبی ذخائر میں پانی تاریخ کی کم ترین سطح تک پہنچنے کا نوٹس لینے والے کردار ان دنوں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں! کسی کے پاس پانی کی کم ہوتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرنے کی فرصت نہیں‘یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ پاکستان کا مسئلہ ہی نہ ہو‘ دوسری طرف بھارت نے پاکستان کا پانی روک رکھا ہے‘ دریائے چناب میں اٹھارہ ہزار کیوسک پانی کی کمی کے علاوہ بگلیہار ڈیم پر غیر قانونی پانی کی بندش سے دریائے چناب کا پانی بھی کم ہو گیا ہے!پاکستان بدترین ماحولیاتی تبدیلیوں سے دوچار ہے۔ جن کی وجہ سے اوسط بارشوں کی کمی اور شمالی علاقہ جات میں درجہ حرارت میں اضافے جیسے محرکات سرفہرست ہیں‘ بارشیں روٹھ جانے کی وجہ سے دریا اور ڈیم پانی کی کمی کا شکار ہیں‘ملک کے ڈیموں میں مجموعی پانی کا ذخیرہ دس لاکھ چالیس ہزار ایکڑ فٹ رہ گیا ہے جس کی وجہ سے پنجاب اور سندھ میں پانی کی پندرہ فیصد کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پاکستان کے لئے کیا ضروری ہے‘ انتخابات یا آبی ذخیرے۔

پانی کی کمی سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے اور اگر ہمارے فیصلہ سازوں نے جلد از جلد بڑے آبی ذخائر کی تعمیر شروع نہ کی‘ تو پورا ملک آبی قلت کی وجہ سے صحرا میں تبدیل ہو جائے گا۔ بڑے آبی ذخائر کی تعمیر میں تاخیر خودکشی کے مترداف ہے‘پاکستان میں پانی کی کمی کے علاوہ اس کا معیار بھی نہایت پست ہے اور عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق پاکستان کی صرف پندرہ فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی ملتا ہے۔ آلودہ پانی کے باعث پھیلنے والی بیماریوں خصوصاً اسہال سے سالانہ قریب چالیس ہزار بجے لقمہ اجل بن جاتے ہیں‘ جبکہ ہیضے اور دیگر بیماریوں سے ہلاک ہو جانیوالے صرف بچوں ہی کی تعداد باون ہزار ہے‘ صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے پاکستان کا کوئی ایک شہر یا علاقہ بھی ایسا نہیں جسکی صورتحال مثالی ہو۔ کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں سے حاصل کردہ پانی کے نمونوں کی جانچ سے جو نتائج حاصل ہوئے ہیں وہ آبی قلت کی صورتحال کو مزید تشویشناک بنا رہے ہیں!

خوش آئند ہے کہ دیامیربھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر اپنی مدد آپ کے تحت کرنے کیلئے مسلح افواج نے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ افسران 2دن جبکہ دیگر فوجی اہلکار ایک ایک دن کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر بطور عطیہ دیں گے یاد رہے کہ یہ فنڈ چیف جسٹس نے اپنی طرف سے دس لاکھ روپے دیتے ہوئے قائم کیا ہے‘ اپنی نوعیت کی اس منفرد چندہ مہم سے اس تشویشناک صورتحال کو سمجھنا قطعی مشکل نہیں جو پاکستان کو آبی قلت سے درپیش ہے۔ سپریم کورٹ نے بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کا حکم دیا ہے‘ جس پر فوری عمل ہونا چاہئے مگرانکے ساتھ کالا باغ ڈیم منصوبہ سردخانے کی نذر کرنا داخلی قومی سلامتی اور دفاع کو نظرانداز کرنے جیسی کوتاہی ہوگا‘ جب تک یہ ڈیم عملی جامہ نہیں پہنے گا‘ اس وقت تک پاکستان کے عوام اور معیشت موسموں کے رحم و کرم پر ہی رہیں گی! ۔