173

برما‘امریکہ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے

برما کا نیا نام میانمار ہے گو پرانے لوگ اب بھی اسے برما کے نام سے یاد کرتے ہیں اور ان کے منہ پر لفظ میانمار بہ آسانی نہیں چڑھتا‘ برما کے بارے میں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی سابقہ امریکی صدر بارک حسین اوبامہ سے کافی مختلف ہے ٹرمپ نے جتنی توجہ دیگر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی طرف دی ہوئی ہے اتنی برما کو نہیں دی وہ ایسا کیوں کر رہا ہے ؟ کیا وہ برما کے شمالی کوریا کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پر نالاں ہے یا پھر وہ بارک اوباما کی ضد میں ایسا کر رہا ہے ؟ گزشتہ نومبر میں جب ٹرمپ اس خطے کے ممالک کے دورے پر آیا تھا تو اس نے برملا کہا تھا کہ وہ رکین کے علاقہ میں برما کی حکومت کی پر تشد د کاروائیوں کو ختم کرنے کا خواہشمند ہے اور ان مہاجرین کو واپس اپنی سرزمین پر آباد ہوتے دیکھنا چاہتا ہے کہ جو روہنگیا سے بھاگ کر بنگلہ دیش چلے گئے ہیں اس بیان پر بعد میں امریکہ نے کوئی فالو اپ ایکشن نہیں لیا اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلے نے برما کی حکومت پر روہنگیا کے مہاجرین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے کا الزام لگایا ہے آج امریکہ کی برما کے بارے میں پالیسی صرف وہاں انسانی حقوق اور جمہوریت کے فروغ اور نشوونما تک محدود ہے جبکہ بارک اوباما کا پورا زور اس بات پر تھا کہ برما کو چین کے اثر سے باہر نکالا جائے کیونکہ 2008ء میں نومبر کے مہینے میں اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ برما نے شمالی کوریا کیساتھ بھی ایک خفیہ ملٹری معاہدہ کیا ہوا اس دوران چین نے برما میں چین ‘ برما اکنامک کاریڈور‘‘ کے نام سے بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

جس کے تحت وہ برما میں ’’کایوک پایو‘‘ بندرگاہ کو وسیع کر رہا ہے جو چین کو بحرہند تک رسائی دے گی جس سے چین کو مشرق وسطی سے اپنی تیل کی ضروریات پورا کرنے کیلئے ایک متبادل راستہ میسر آ جائے گا چین پہلے ہی برما کے مغربی ساحل سے اپنے صوبے (ینن) کے لئے 2.45 ارب ڈالر کے خرچے سے تیل اور گیس کی پائپ لائن بچھا رہا ہے روہنگیا کے مسئلہ کی وجہ سے کئی مغربی ممالک برما کے ساتھ سرد مہری کا سلوک کر رہے ہیں لیکن چین برما میں وسیع پیمانے پر ترقیاتی کاموں میں سرمایہ کاری کررہا ہے اب تک چین نے برما کو روہنگیا میں انسانی حقوق کیخلاف ورزیوں پر ممکنہ اقوام متحدہ کی معاشی پابندیوں سے بچایا ہے اور اس کیساتھ ساتھ برما سے اپنے تجارتی روابط بھی بڑھائے ہیں ٹرمپ انتظامیہ نے اس مسئلے پر چپ سادھ رکھی ہے برما کیساتھ امریکہ کے تعلقات ماضی میں کافی مدو جذر کا شکار رہے 1948 میں جب برما آزاد ہوا تو امریکہ نے اس کی کافی مالی امداد کی یہ تعلقات اس وقت خراب ہو گئے جب برما کو یہ پتہ چلا کہ امریکن سی آئی اے قوم پرست چینی (کوفنتانگ) کی افواج کی مدد کر رہی ہے جو برما کے مفادات کے خلاف کام کر رہی تھیں اسکے رد عمل میں برما نے امریکہ کیساتھ تمام معاہدے ختم کر ڈالے امریکہ اور برما میں تعلقا ت 1956 میں دوبارہ بحال ہوئے جب برما نے 1962 میں سوشلزم کی راہ اپنائی تو یہ تعلقات ایک مرتبہ خراب ہو گئے ۔

اس کے بعد جنرل نیون کے دور حکومت میں کچھ عرصے تک یہ تعلقات پھر معمول پر آ گئے1988 میں ان تعلقات میں پھر کشیدگی دیکھنے میں آئی جب برما کے فوجیوں نے وہاں کے جمہوریت پسند سیاسی گرووں کیخلاف کریک ڈاؤن کیا ان حالات کی وجہ سے برما امریکہ سے کٹ کر چین کے گروپ میں چلا گیا برما کی موجودہ سیاسی قیادت کی سیاسی اصلاحات کی وجہ سے امریکہ اور برما کے تعلقات میں کچھ بہتری تو ضروری آئی ہے لیکن ابھی تک نہ امریکہ برما پر سو فیصد اعتبار کرتا ہے اور نہ برما کی سیاسی قیادت امریکہ پر جہاں تک چین کا تعلق ہے اسکے نزدیک برما اسے جنوب مشرقی ایشیا تک رسائی کیلئے ایک پل فراہم کرتا ہے ‘مغرب کو معیشت کے میدان میں نیچا دکھلانے کیلئے بھی اسے برما کے جغرافیائی محل وقوع کو استعمال کرنے کی از حد ضرورت ہے لگتا یوں ہے جب تک ٹرمپ واشنگٹن میں برسر اقتدار رہتا ہے برما امریکہ کی ترجیحات کی فہرست سے باہر رہے گا۔