108

مچھلی پہلے اوپر سے سڑتی ہے

آڈیٹر جنرل آف پاکستان ایک اہم منصب ہے اس کے ماتحت آڈٹ کے دفاتر ہر شہر میں قائم ہیں ان کا بنیادی کام ہی بس یہی ہے کہ وہ ہر سال ہر سرکاری آفس کا ریکارڈ چیک کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کسی سرکاری محکمہ کے سربراہ نے کوئی گھپلا تو نہیں کیا اور سرکاری فنڈز کا صحیح استعمال کیا ہے آڈٹ والے عرصہ دراز سے سرکاری فنڈز کے استعمال کی چھان پھٹک تو باقاعدگی سے کرتے آ رہے ہیں لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ شاطر قسم کے اکثر محکموں کے سربراہان آڈٹ پارٹی کو ’’خوش‘‘ کر دیتے ہیں اب اس لفظ ’’خوش‘‘ کا آپ جو مطلب بھی نکالنا چاہیں اسے ہم آپ پر چھوڑ دیتے ہیں قصہ کوتاہ چونکہ آڈٹ کے بنیادی قوانین کی اکثر سرکاری اہلکار پابندی نہیں کرتے اور بعد میں جب کسی اور ذرائع سے انکشاف ہوتا ہے کہ سرکاری فنڈز کا غلط استعمال ہوا ہے یا اسے غبن کر دیاگیا ہے تو پھر لا محالا غیر قانونی طور پر فنڈز خرچ کرنے والوں کو نیب کا سامنا کرنا پڑتا ہے مختصر یہ کہ اگر آڈٹ والے بلا خوف و خطر اور بغیر کسی لالچ کے کانے کہ منہ پر کانا کہیں اور وہ رقم اس سرکاری اہلکار کی جیب سے یا اس کی پراپرٹی نیلام کرکے ریکور کی جائے کہ جو اس نے غلط طور پر استعمال کی ہے۔

تو اس مرض کا بروقت علاج ممکن ہے نیب تک کسی بھی کیس کا پہنچنا اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ آڈٹ والے اپنے فرائض بخوبی سر انجام نہیں دے رہے ہیں‘ ایک دور تھا کہ جب قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی بڑی متحرک ہوا کرتی تھی لیکن بعد میں وہ بھی سیاسی مصلحت اور مفادات کا شکار ہو گئی ہم نے تو آج تک مندرجہ بالا دو اداروں یعنی آڈٹ ڈیپارٹمنٹ اور قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو صحیح معنوں میں متحرک نہیں پایا ان کی باتیں زبانی جمع خرچ تک ہی محدود رہیں عمران خان یہ نہ بھولیں کہ ان کے وضع کردہ منصوبے بھلا کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں انکو کامیابی سے ہمکنار کرانے کیلئے اچھی انتظامیہ اور پولیس درکار ہو گی ایسے لوگ چاہئے ہوں گے کہ جن میں تکبر کم ہو اور عوام دوستی زیادہ اس لئے بیورو کریسی میں بھرتی کا معیار صرف اور صرف میرٹ ہو نہ کہ کوئی سیاسی مصلحت اس مقصد کیلئے پبلک سروس کمیشنوں کی تشکیل نو کرکے انہیں وسعت دی جائے تاکہ کم سے کم وقت میں وہ بیورو کریسی میں جہاں جہاں سرکاری اہلکاروں کی بھرتی ضروری ہو انہیں بھرتی کر سکیں بیورو کریسی کو غیر ضروری پروٹوکول ڈیوٹیوں میں الجھادیا گیا ہے۔

ان ڈیوٹیوں سے اسے آزاد کیا جائے اور انتظامیہ اور پولیس کے اہلکاروں کو غیر مبہم الفاظ میں یہ پیغام دے دیا جائے کہ قانون کی کتابوں میں ان کے جو فرائض منصبی درج ہے وہ بس اپنا سارا وقت ان فرائض کی بجا آوری میں لگائیں تمام پارلیمنٹرینز پر قدغن لگا دی جائے کہ وہ نہ تو کسی ملزم کی سفارش کیلئے تھانے کے ایس ایچ او کو فون کرینگے اور نہ تحصیلدار کو دبائیں گے کہ وہ فلاں فلاں شخص کے حق میں فیصلے کرے ہر کن اسمبلی کے ذاتی اثاثوں کی تفصیلات ہر سال یکم جنوری کو پارلیمنٹ میں پیش کرنا ضروری ہو گی حکومت ایک ٹیلی ویژن چینل خصوصی طور پر پارلیمنٹ کی کاروائی کو لائیو پیش کرنے کا حکم دے تاکہ عوام کو پتہ چلتا رہے کہ کونسا رکن اسمبلی کیا کر رہا ہے اب تک تو ہم نے درجنوں ارکان اسمبلی ایسے بھی دیکھے ہیں کہ جو گونگے پہلوان ثابت ہوئے ہیں اور انہوں نے شاذ ہی کوئی عوامی مسئلہ پارلیمنٹ کے ایوان میں اٹھایا ہو بس وہ اپنی تنخواہ اور الاؤانسز کھرا کرنے کیلئے خانہ پری کے طور پر پارلیمنٹ آتے جاتے رہے ہیں۔