235

داخلی خارجی محاذ!

کیا کوئی اور ایسی مثال موجود ہے؟ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے چیئرمین کو ’وزیراعظم‘ نامزد کرنے کے اگلے ہی روز ’قومی اِحتساب بیورو (نیب)‘ حکام کے سامنے عمران خان کی پیشی نے ثابت کردیا ہے کہ وہ قانون دوست ہیں اور قومی اداروں کا احترام کرنا جانتے ہیں! ’ یاد رہے کہ نیب چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے رواں سال فروری میں عمران خان کی جانب سے صوبائی حکومت کے 2 سرکاری ہیلی کاپٹرز (MI-17 اور ایکیوریل) کو ’74 گھنٹوں‘ تک نہایت اَرزاں نرخوں پر فراہم کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے ’نیب خیبر پختونخوا‘ کے ڈائریکٹر جنرل کو معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کی تھی‘ نیب کی رپورٹ کے مطابق بتایا گیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے کل 52گھنٹے پروازیں کیں‘ جن کا انہوں نے اوسطاً فی گھنٹہ 28ہزار روپے کرایہ ادا کیا‘ نیب رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اگر عمران خان نجی کمپنیوں کے ہیلی کاپٹر استعمال کرتے تو انہیں ’ایم آئی سترہ‘ کا فی گھنٹہ خرچ دس سے بارہ لاکھ جبکہ ایکیوریل ہیلی کاپٹر کا فی گھنٹہ کرایہ پانچ سے چھ لاکھ روپے ادا کرنا پڑتا‘ رپورٹ میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے پرنسپل ایڈوائزر برائے ٹیکنیکل ٹریننگ اینڈ ایوی ایشن کے بیان کا حوالہ بھی دیا گیا جس کے مطابق ’’خیبرپختونخوا کے ہیلی کاپٹرز کے استعمال پر تقریباً 2لاکھ روپے فی گھنٹہ خرچ آتا ہے‘‘‘ لیکن عمران خان نے فی گھنٹہ ’172 ہزار روپے‘ کم کرایہ ادا کیا ہے یعنی اُنہیں کل ایک کروڑگیارہ لاکھ روپے اَدا کرنا چاہئے تھے لیکن اُنہوں نے مجموعی طور پر اِکیس لاکھ روپے اَدا کئے!

’نیب‘ حکام کی ’پھرتیاں اور اِحتساب‘ کا رخ بظاہر عمران خان کی طرف دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت اِس کے نتیجے میں ’طرزحکمرانی‘ کی اصلاح ہوگی اور مستقبل میں کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ یا وزیراعلیٰ تو کیا سیکرٹریز بھی جرأت نہیں کر سکیں گے کہ وہ سرکاری وسائل کا ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کریں‘ ماضی میں چونکہ سیاسی فیصلہ ساز سرکاری وسائل کی ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر لوٹ مار کو اپنا ’حق‘ سمجھتے رہے اِسلئے دیکھا دیکھی انتظامی کمزوریاں اداروں کی کارکردگی کو دیمک کی طرح نقصان پہنچاتی چلی گئیں!عمران خان کیلئے داخلی محاذ پر مسائل سے نمٹنا قطعی مشکل نہیں لیکن درپیش ’خارجہ چیلنجز‘ ایک ایسا موضوع ہے‘ جس نے عمران خان کی پیشانی پر سلوٹوں میں اضافہ کر دیا ہے‘ عام انتخابات سے انعقاد سے قبل ہی امریکہ نے نتائج کو بھانپ لیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ جو چہرہ اب سامنے آ رہا ہے وہ ماضی سے بہت مختلف ہے‘ جس طریقے سے آج امریکہ اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے وہ بہت مختلف ہے‘ ماضی میں امریکہ عالمی طاقت ہونے کے ناطے مسائل نمٹاتا تھا لیکن اب ۔۔۔‘ پاکستان کا فائدہ اسی میں ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایک حد تک تعلقات کو باہمی احترام کے تحت برقرار رکھے‘ امریکہ کے ساتھ دوستانہ نہ رکھنا بھی دانشمندی نہیں اور یہی وہ مرحلہ ہے جو خارجہ پالیسی کو ذمہ دارانہ طریقے سے چلانے کا تقاضا کر رہا ہے‘ تحریک انصاف پر لازم ہے کہ وہ دنیا کو باور کرائے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو نہ صرف داخلی بلکہ خطے میں بھی اَمن چاہتا ہے اُور خاص طور پر اَفغانستان میں مثبت کردار اَدا کرنے کا خواہاں ہے۔

‘ امریکہ کیلئے افغانستان ایک دکھتے ہوئے دانت کی طرح ہے جس کا وہ فوری لیکن مؤثر علاج بھی چاہتا ہے‘ پاکستان کی طرف سے افغان قیام عمل کی کوششوں میں دلچسپی اور تعاون کے ذریعے امریکہ کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے‘ خارجہ پالیسی کے بعد داخلہ اقتصادی مسائل سے توجہ طلب ہیں‘کیا نئی حکومت کو دوبارہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے ’’آئی ایم ایف‘‘ کے پاس جانا پڑے گا یا کوئی اور طریقہ ہے تو ان کا کہنا تھا پاکستان پر قرض بہت زیادہ ہو گیا ہے اور سب سے اہم بات ’قرض مینجمنٹ‘ ہے کہ قرض کے حجم کو بتدریج ہر سال کم کیا جائے‘ سی پیک سے پاکستان کے نوجوان کس طرح زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں‘ اِس سلسلے میں بھی غوروخوض اور چین کے ساتھ سرکاری طور پر طلباء کے تبادلے (ایکسچینج پروگرام) کا آغاز ہونا چاہئے‘ پاکستان میں اپنا مکان ایک ایسا تصور ہو گیا ہے‘ جو متوسط ذرائع آمدن رکھنے والوں کیلئے خواب جیسا ہے‘ بھارت کی مثال موجود ہے جہاں مرکزی بینک گھروں کی تعمیر کیلئے آسان شرائط اور کم شرح سود پر قرض دیتا ہے‘ اگرچہ تحریک انصاف کی حکومت آنے سے قبل ہی سٹیٹ بینک نے اِس سلسلے میں کچھ پیشرفت کی ہے لیکن مکانات کی تعمیر کیلئے قرضہ جات اُنہی شرائط پر عوام کو بھی ملنے چاہئیں جن شرائط سے ’سٹیٹ بینک ملازمین‘ فائدہ اٹھاتے ہیں! بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ’ترسیلات زر‘ کا ہر حکومت کو انتظار رہتا ہے لیکن بیرون ملک مقیم پاکستان کو ووٹ کا حق دینے سے لیکر کسی بھی شعبے میں ترجیح نہیں دی جاتی تو اِس توازن کو بحال کرنا ہوگا۔