124

نیا عمران خان

مخالفین کہاکرتے تھے کہ احتجاجی سیاست کے یہ ماہر کسی صورت حکومت نہیں کرسکتے ان کا تلخ لب ولہجہ ہی ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے گا سیاسی تقاضوں سے بابلد ا س جماعت سیاسی میدان میں دیگر جماعتوں کاراستہ روکنے میں کسی صورت کامیاب نہیں ہوسکے گی مگر پچیس جولائی کو بعدسے قوم کو ایک نیا عمران خان مل چکاہے جو پرانے عمران خان سے بہت مختلف دکھائی دیتاہے نئے عمران خان نے جب اپنی پہلی تقریر کی توبڑے بڑے ناقدین بھی حیران ہوکررہ گئے بات بات پر مخالفین پرگرجنے والا عمران خان کہیں نظر نہیں آیا پہلی تقریر کے ذریعہ عمران خان نے ثابت کردیاکہ پاکستان کی حکومت سنبھالنے کی پوری صلاحیت موجود ہے اب جبکہ ان کی جماعت نے ان کو پاکستان کی وزارت عظمیٰ کیلئے باضابطہ طورپر نامزد کر دیاہے تو پوری قوم بلکہ پوری دنیا کی نگاہیں ان پر مرکوز ہوگئی ہیں اور حقیقت تویہ ہے کہ ان کو واقعی کانٹوں بھر ا بستر ملاہے عمران خان ایک ایسے مرحلہ پر حکومت بنارہے ہیں کہ ڈالر کی پرواز قابو سے باہرہوتی جارہی ہے بجلی بحران عروج پر ہے سی پیک کو اب گلگت بلتستان میں ہدف بنانے کی سازشیں شروع ہوچکی ہیں ۔

ملک میں پانی کی قلت پورے عرو ج پرہے بھارت ہمارے پانیوں پر قبضہ کرتا جا رہاہے سب سے بڑھ کر اندرونی محاذ پر پہلی بار حکومت سے پہلے اپوزیشن تشکیل پاچکی ہے گرینڈ اپوزیشن کی طرف سے 8اگست کو احتجاج کااعلان ہوچکاہے سوائے پی ٹی آئی کے باقی کوئی بھی جماعت نتائج تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں گویا حکومت کی تشکیل سے پہلے ہی اس کے خلاف بھرپور محاذکھل چکاہے دوسری طرف پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی میں برائے نام اکثریت کیساتھ حکومت بنانی پڑ رہی ہے سندھ میں اسے ایم کیو ایم کیساتھ ہاتھ ملانا پڑرہاہے جبکہ پنجاب اور مرکز میں ق لیگ کیساتھ اتحاد کا کڑوا گھونٹ بھی پینا پڑ رہاہے ان حالات میں پی ٹی آئی اپنے قیام کے بعدسے اب تک کی سب سے مشکل آزمائش سے گزرنے جارہی ہے کیونکہ جن نوجوانوں نے اسے اقتدار دلانے میں اہم کردار ادا کیاتھا وہ پہلے دن سے ہی کاؤنٹ ڈاؤن شروع کرنیوالے ہیں ویسے بھی حقیقت یہی ہے کہ اپوزیشن کرنے سے زیادہ مشکل کام قوم کی توقعات کے مطابق حکومت کرناہے جہاں تک پی ٹی آئی کاتعلق ہے تو اپوزیشن میں رہتے ہوئے کردار کی ادائیگی کا یقیناًاس نے حق ادا کیاہے پی ٹی آئی کو ملک کی واحد پارٹی قرار دیا جا سکتا ہے کہ جس نے اگست 2014میں دھرنے سے ہی حالیہ الیکشن کیلئے انتخابی مہم شروع کردی تھی یوں اس نے پونے چارسال تک انتخابی مہم چلائی لیکن اس کااصل امتحان وہ مہم نہیں بلکہ حکومت سازی اور اسکے بعدکے اقدامات ہوں گے اگر دیکھا جائے تو انتخابی کامیابی کے بعد پہلی تقریر اوربعد ازاں جب جیل میں نوازشریف کی طبیعت خراب ہوئی تو ان کیلئے دعائیہ کلمات سے نیا عمران خان سامنے آچکاہے جس نے بظاہر تو ناقدین کے منہ بند کردیئے ہیں تاہم اب جبکہ وہ چند دنوں میں منتخب وزیر اعظم کے عہدے کاحلف اٹھانے والے ہیں تو اپنے فوری اقدامات سے ناقدین کے منہ بند رکھنے کی حکمت عملی روز اول سے اختیار کرنا ہوگی کیونکہ قوم ان کو زیادہ مہلت نہیں دے گی۔

اسکی وجہ صاف ظاہر ہے کہ خودعمران خان نے اپنے اوپر قوم کی توقعات جس تیزی سے بڑھائی ہیں اب اس سے کہیں زیادہ تیزی سے ان توقعات پر پورا اترنے کیلئے اقدامات بھی کرنا ہونگے پہلے تو اپنے سوروزہ پروگرام پر من وعن عمل درآمد کرکے دکھانا ہوگا اس کے بعدبالادست طبقات کے حوالہ سے کڑوے فیصلے کرناہونگے اسد عمرکایہ کہنا کہ پہلے چند ماہ قوم کو کڑوے فیصلوں کیلئے تیار رہنا ہوگا‘ سابقہ حکمرانوں کی پالیسیوں کے تسلسل کی طرف اشارہ ہے جن کے تما م کڑوے فیصلے ہمیشہ قوم کیلئے ہوا کرتے تھے جبکہ بالادست طبقات ہمیشہ سے محفوظ رہتے تھے اسدعمر کی اس بات کے بعد اب پی ٹی آئی کے طرز حکومت کے حوالہ سے سوالات جنم لینے لگے ہیں جن کاجواب عمران خان کو اپنے اقدامات کے ذریعے فوری طور پر دینا ہوگا پہلے چھ ماہ کے دوران اگر عمران خان نے اپنی پہلی تقریر اور سوروزہ پروگرام کے چالیس فیصدحصہ پر بھی عملدرآمد ممکن کرکے دکھایا تویہ ان کی کامیابی تصور ہوگی اور گرینڈ اپوزیشن کو حکومت مخالف تحریک چلانے میں مشکلات کاسامنا کرنا پڑسکتاہے لیکن بات اگر تقریر اور پروگرام سے آگے نہ بڑھ سکی تو پھر اپوزیشن کاراستہ روکنا نئی حکومت کیلئے کسی صورت آسان نہیں ہوگا۔