115

تبدیلی اور عام آدمی

الیکشن ہو چکے مگر ابھی تک نئی حکومت قائم نہیں ہوئی‘ عام لوگ ‘عمران خان سے توقعات رکھے ہوئے ہیں اور تو اور اب تو مخالف دھڑے کے کالم نگار اور اینکر حضرات بھی عمران کی نہ صرف یہ کہ دبے دبے لفظوں میں تعریف کرنے لگے ہیں بلکہ گڈ گورننس کے مشورے بھی دے رہے ہیں ‘ادھر انتخابات میں شکست کھانے والے رہنما سبھی عمران خان کے خلاف اکٹھے ہوگئے ہیں ‘الیکشن سے قبل یہ سبھی ایک دوسرے پر سخت تنقید کر رہے تھے ‘پیپلز پارٹی کے آصف زرداری اور بلاول تو مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کو ایک ہی سکے کے دورُخ قرار دے رہے تھے پی پی کے رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں بارہا کہا کہ میاں نواز شریف سے کسی صورت دوبارہ دوستی نہیں ہو سکتی ‘الیکشن سے قبل کچھ ایسی ہی تقاریر مسلم لیگ ن کے لیڈرز بھی کر رہے تھے ‘ لیکن جیسے ہی پی ٹی آئی کو کامیابی ملی اور ابھی عمران خان نے بطور وزیر اعظم حلف نہیں اٹھایا‘ساری جماعتیں اسکے خلاف اکٹھی ہو گئی ہیں ‘ مولانا فضل الرحمان کوتو اپنی ہر سیٹ پرشکست سے دوچار ہونا پڑ ا‘محمود اچکزئی ‘ اسفند یارولی‘ سراج الحق جیسے اپنی پارٹیوں کے سربراہ بھی ہار گئے ‘انہیں اپنی ہار کا نہایت صدمہ ہے ۔

مولانا فضل الرحمان تو اس قدر غصے میں تھے کہ وہ آل پارٹیز کانفرنس میں سبھی کو حلف نہ لینے کا مشورہ دے بیٹھے ‘وہ تو جیتی ہوئی پارٹیوں نے یہ فیصلہ ماننے سے انکا ر کردیا‘ اب سبھی پارلیمنٹ میں رہتے ہوئے اپنا احتجاج بھی جاری رکھیں گے‘ یہی نہیں عمران خان کا راستہ روکنے کے لئے وہ ہر سطح تک جانے کا مصمم ارادہ کئے ہوئے ہیں ‘وجہ صرف یہ ہے کہ عمران خان کرپشن کیخلاف بات کرتا ہے ‘وہ عوام کے ٹیکس کے پیسے کو امانت سمجھتا ہے ‘ اور اب تک باریاں لینے والے‘نیب کے کیسوں میں الجھے ہوئے ہیں ‘مسلم لیگ ن کے ایک سر براہ تو نااہل ہوکر جیل میں اپنی سزا بھگت رہے ہیں ‘ عمران خان بد دیانت نہیں ‘ وہ آج تک کسی سرکاری عہدے پر نہیں رہا ‘اسکے باوجود وہ اپنے مخالفین کے لگائے الزامات کا جواب دیتا رہا ہے ‘اسے عدالت نے صادق امین قرار دیا‘ اس نے تو اپنی پارٹی کے لوگوں سے بھی صاف کہہ دیا ہے کہ وہ کوئی پروٹو کول نہ لے گا اور نہ کسی اور کو فضول پروٹوکول لینے اور قومی خزانے کو لوٹنے کی اجازت دے گا ‘ عمران اب تک سبھی کے احتساب کی بات کرتا رہا ہے سبھی ڈرے ہوئے ہیں کہ نیب تو پہلے ہی سبھی کیخلاف انکوائریاں کر رہا ہے۔

عمران نے وزیر اعظم ہاؤس میں بھی نہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے ‘اس پر بھی بہت سے بن مانگے مشورے دئیے جا رہے ہیں ‘ بعض سیاستدانوں کو عمران کا یہ فیصلہ بھی نجانے کیوں پسند نہیں آیا ‘ وطن عزیز معاشی طور پر جس مقام پر کھڑا ہے ‘اس وقت بچت کی اشد ضرورت ہے ‘ اگر وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات بچائے جا سکتے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے ‘غیر ملکی دوروں پر بھی بے پناہ رقم خرچ کی جاتی ہے ‘میاں نوازشریف تو اپنے دور حکومت میں پاکستان میں کم ہی رہے‘جب دیکھو وہ کسی ملک کے دورے پر ہوتے تھے‘جبکہ پارلیمنٹ میں بھی وہ بہت کم دکھائی دئیے‘ اپنے دور حکومت میں انہوں نے اپنے پسندیدہ بیوروکریٹس کو نوازا ‘ پچیس لاکھ روپے تک کی ماہانہ تنخواہیں لگائی گئیں ‘اب عدلیہ ان سب کو کٹہرے میں لے آئی ہے‘عمران خان نے درست کہا کہ اگر سربراہ دیانت دار ہو تو نیچے والے بھی محتاط رہتے ہیں ‘ اللہ کرے اس ملک میں ایسا کلچر پروان چڑھے‘اس وقت حکومت قائم نہیں ہوئی مگر عوام الناس تبدیلی دیکھنے کیلئے بے تاب ہیں‘ عام آدمی سے گفتگو کر کے دیکھیں کہ وہ کیا چاہتا ہے ‘ہم شام کو کبھی کبھی واک بھی کر لیتے ہیں ‘ اس دوران میں کئی قسم کے افراد سے ملاقات ہو جاتی ہے ‘ان میں سے جس سے بھی بات ہوئی‘ پرانے چہروں سے تنگ نظر آیا ‘ ایک صاحب بولے ’اب بھی اگرچہ پارلیمان تک نئے چہرے زیادہ نہیں پہنچے مگرباریاں لینے والی دونوں پارٹیوں سے جان ضرور چھوٹ گئی ہے ‘ پارک کے سامنے مکئی کے بھٹے بیچنے والاکہنے لگا ہمارا ملک بہت امیر ملک ہے ‘اسے ہر حکمران نے کھایا ہے مگر یہ پھر بھی سلامت ہے ‘اللہ کرے عمران خان وزیر اعظم بن جائے ‘اس سے کچھ امید ہے کہ وہ چور نہیں ‘ پارک میں چپس بیچنے والے نوجوان نے بتایا کہ وہ اپنے بھائی بہنوں میں سب سے بڑا ہے ‘ انڈر میٹرک ہے ‘کوئی روزگا ر نہیں‘ یہاں چل پھر کرجوس اور چپس بیچتا ہوں میں نے ووٹ پچھلے سال بنوایا اس بار بلے پر مہر لگائی ہے تاکہ عمران وزیر اعظم بنے اور وہ ملک میں تبدیلی لائے‘ سب کو نوکریاں ملیں گی انصاف ملے گا اور سب سے پہلے تو ملک لوٹنے والوں کو جیلوں میں ڈالاجائے۔