94

نئے ڈیموں کی تعمیر

واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین نے قبائلی ضلع مہمند کی تحصیل پنڈیالی میں مجوزہ مہمند ڈیم کی سائیٹ کا دورہ کرنے کے بعد ضلعی ہیڈ کوارٹر ژ غلنئی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہمندڈیم کی تعمیر سے وطن عزیز میں بجلی کے بحران پرقابوپانے کیساتھ ساتھ مقامی نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع دستیاب ہونگے‘چیئرمین واپڈا کے مطابق اس ڈیم سے 800 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جبکہ ڈیم سے نکالی جانے والی نہروں سے گرد ونواح کی ہزاروں ایکڑ اراضی کی سیرابی کے علاوہ اس ڈیم سے نوشہرہ‘چارسدہ اور پشاور کے اضلاع میں آنیوالے سیلابوں کی روک تھام بھی ممکن ہو سکے گی‘انہوں نے کہا کہ اس ڈیم پر تعمیراتی کام کا آغاز اگلے سال جنوری میں ہوگا جبکہ اس منصوبے کو پانچ سال میں مکمل کیاجائے گا‘چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثارنے ملک میں توانائی کے بحران پرقابو پانے کیلئے جن دو نئے ڈیموں کی تعمیر کیلئے وسائل کی دستیابی کی غرض سے ملک گیر سطح پر فنڈ ریزنگ کا اعلان کیا ہے اس میں ایک بھاشا دیامیر ڈیم ہے جبکہ دوسرا ضلع مہمند میں منڈ اہیڈ ورکس سے پانچ کلومیٹر اوپر دریائے سوات پر تعمیرکیا جانیوالا مہمند ڈیم ہے‘ بظاہر اس بات میں کافی وزن نظر آتاہے کہ ڈیم بنانا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے اور عدالت عظمیٰ نے بھاشا دیامر ڈیم اور مہمند ڈیموں کی تعمیرکیلئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں فنڈ ریزنگ کااعلان کر کے عملاً اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔

لیکن اگر دوسری جانب وطن عزیز کی زندگی اور موت کے حامل توانائی کے بحران اور ہر سال کم از کم 21ارب ڈالر مالیت پر مشتمل پاکستانی دریاؤں کا میٹھا پانی ضائع ہوکر سمندر برد ہونے کے مسئلے پر حکومتی عدم توجہی اور اس ضمن میں کسی خاص پلاننگ کے فقدان کو مد نظر رکھا جائے تو ایسے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ صرف مبنی برانصاف نظر آتا ہے بلکہ اس سلسلے میں اب تک جمع ہونیوالے 65 کروڑ روپے کی رقم بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے عوام ملک کودرپیش سنگین مسائل پر قابو پانے کیلئے کتنے متوشش ہیں اور اس ضمن میں اپنے تئیں ہرقدم اٹھانے کیلئے ہمہ وقت کتنے تیاراور بیدار ہیں لیکن اصل مسئلہ حکمرانوں کی نااہلی اور ان کی ترجیحات کا ہے‘ پاکستان میں پچھلے دس پندرہ سال سے جاری بجلی کے بحران پر نہ تو جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت اور نہ ہی ان کے بعد آنے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی سول حکومتیں کوئی خاطر خواہ قابو پانے میں کامیاب ہوئیں بلکہ ہر گزرتاہوا دن اس بحران میں اضافے کا باعث ہی بنتا رہا ہے۔

اس عرصے میں عوام کے غیض و غضب کوکم کرنے اور کسی حد تک ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کبھی لوڈ مینجمنٹ اور کبھی لوڈ شیڈنگ کے نام پر ان کوبے وقوف بنانے کی کوششیں ضرورکی گئی ہیں جبکہ اسی اثناء قوم کو کبھی ایران اور کبھی تاجکستان سے اور کبھی چین اور بھارت سے سستی بجلی کی دستیابی کی نویدیں بھی سنائی گئیں لیکن تاحال یہ مسئلہ جوں کا توں موجود ہے پاکستان میں ہونیوالی تحقیق کے مطابق یہاں پانی سے بجلی کی پیداوار کے اتنے وسیع ذرائع موجود ہیں جو اگر ایک جانب انتہائی سستی بجلی پیدا کرنے کی استعداد رکھتے ہیں تو دوسری طرف ان ڈیموں کی تعمیر سے آئندہ کئی سالوں تک ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیساتھ ساتھ ان ڈیموں میں ذخیرہ ہونیوالے پانی کولاکھوں ایکڑ پر مشتمل بنجر زمینوں کی کاشتکاری اور مختلف اقسام کی فصلوں کی پیداوار کیلئے بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے‘ لہٰذاعمران خان کی قیادت میں متوقع نومنتخب حکومت جو سٹیٹس کو کیخلاف برسراقتدار آنیوالی ملک کی شاید پہلی حکومت ہوگی سے بجا طور پر یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ملک کے بعض دیگر پیچیدہ اور پرانے حل طلب مسائل کیساتھ ساتھ اپنی اولین ترجیح وطن عزیز میں نئے ڈیموں کی تعمیرکو دیکر توانائی کے گھمبیر بحران پر قابو پانے کے چیلنج سے نمٹنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی۔