133

کمزور اپوزیشن

الیکشن کے نتائج کے بعد تبصرے جاری ہیں‘ہر کوئی اپنی اپنی بساط کے مطابق ان نتائج پر تبصرے کر رہا ہے‘ کوئی ان کو انجینئرڈ کہتا ہے تو کوئی اسے الیکشن کمیشن کی کمزوریو ں پر معمو رکر تا ہے۔چیف جسٹس صاحب کی طرف سے بھی ایک تبصرہ آیا کہ الیکشن کے دن انہوں نے تین دفعہ الیکشن کمشنر کو ٹیلیفون کیا مگر جواب ندارد شاید چیف صاحب سو رہے تھے۔ ووٹنگ کا دن تو خیریت سے گزر گیا ۔کوئی بڑا واقعہ پیش نہ آیا سوائے بلوچستان میں ایک خود کش حملے کے ۔ باقی دن پر سکون گزرا اور کسی قسم کی دھاندلی یا لڑائی جھگڑے کی اطلاع کہیں سے بھی نہ آئی۔ پرسکون ووٹنگ کے بعد جو گنتی کا مرحلہ آیا تو ڈھیروں شکایات سامنے آ گئیں ‘کہیں گنتی کے وقت سب لوگوں کو باہر نکال دیا گیا جبکہ گنتی سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے سامنے ہونی ضروری ہے اور اس کے بعد نتیجہ فارم 45 پر ان نمائندوں کو دینا لازمی ہوتا ہے مگر اکثر پولنگ سٹیشنوں سے یہ شکایت آتی رہی کہ ان میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو نتیجہ مخصوص فارم پر نہیں دیا گیا‘اکثر سٹیشنوں پر تو نتیجہ دیا ہی نہیں گیا‘جو الیکٹرانک طریقہ نتیجہ بھیجنے کے لئے استعمال کیا گیا۔

اس نے عین وقت پر جواب دے دیا‘اب الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ نتائج ارسال کرنے کا طریقہ فیل ہو گیا اور اس کے ذمہ دار کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا مگر ایک بات صاف ہے کہ عام طریقے پر جو الیکشن ہوتے تھے ان میں بھی الیکشن کمیشن پہلا سرکاری نتیجہ اس رات دو بجے تک سنا دیا کرتا تھا مگر اس دفعہ اتنی زیادہ دولت خرچ کرنے کے باوجود پہلا نتیجہ دوسرے دن تین بجے چیف الیکشن کمشنر نے سنایا مگر وہ بھی غیر حتمی غیر سرکاری جو ایک عجوبہ ہی کہلایا جا سکتا ہے‘نتیجے کی اس سستی نے سارے الیکشن کو ہی مشکوک بنادیا‘اب لاکھ کہاجائے کہ الیکشن صاف شفاف ہوئے مگر نتائج میں یہ سستی بہت سے سوالات چھوڑ گئی ہے‘ اس کے بعد اپنی مرضی کے مطابق کسی سٹیشن پر دوبارہ گنتی کو جائزاورکہیں ناجائز قرار دیکر اور بھی نتیجے کو مشکوک بنادیاگیا ہے‘ اسکے بعد جو جیتنے والوں اور کم سیٹیں حاصل کرنے والوں میں نوک جھونک شروع ہوئی تو اس نے سیاست میں اور بھی گرمی پیداکر دی ہے‘ عمران خان کی جماعت زیادہ سیٹیں لیکر حکومت بنانے کی تگ و دو میں لگ گئی ہے اس نے الیکشن سے پہلے جو الیکٹ ایبلز کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی تو اس نے بھی اس جماعت کے ارادوں پر دھول ڈال دی ہے اور الیکشن کے بعد جس قسم کی خریدوفروخت کی گئی ہے اس نے اور بھی مٹی اڑا دی ہے‘ اسکے بعد جو دعوے عمران خان نے حکومت ملنے کے بعد کئے ہیں اس نے صداقت کو دھندلا دیا ہے‘ اسکی وجہ یہ ہے کہ اس سے قبل کی حکومتوں میں جو کچھ لیڈروں کیساتھ ہو ا ہے اس سے یہ لگتا ہے کہ عمران خان کیساتھ بھی وہی کچھ ہونیوالا ہے چاپلوسوں نے وزیر اعظموں اور صدور کو جس طرح گھیرے میں لیا ہوتا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ عمران خان صاحب کے گرد بھی ایسے ہی لوگ آئیں گے اور گھیرا ڈال کر اسکی آنکھیں اور کان بن جائیں گے جسکے بعد خان صاحب کے سارے خواب افسانے بن جائیں گے ‘۔

خان صاحب کے ریمارکس پر کہ انکے خلاف جو اپوزیشن ہے وہ اخلاقی طور پر بہت کمزور ہے تو ان کو اپنے گرد کے لوگوں پر بھی ایک نگاہ ڈال لینی چاہئے کہ انکے پاس کتنے اخلاقی طور پر اعلیٰ لوگ ہیں ‘یہ وہی لوگ ہیں جن کے ہاتھوں8 بہت سے ایماندار لیڈرخوار ہوئے ہیں‘جہاں تک اخلاقی طور پر کمزور یا اعلیٰ ظرف لوگوں کا تعلق ہے تو وہ ساری پارٹیوں میں ایسے ہی ہیں‘ایک عمران خان کے اعلیٰ اخلاق سے کوئی فرق نہیں پڑیگا اسلئے کہ جو لوگ ان کو گھیرے میں لئے ہوئے ہیں ان سے کوئی بھی توقع نہیں رکھی جا سکتی‘ جب یہ لوگ لیڈر کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہیں تو وہ بڑے پیارے طریقے سے لیڈر کو گھیر لیتے ہیں ‘ ایوب خان صاحب کے زمانے کے ایک ذرائع ابلاغ کے افسر نے بتایا تھا کہ وہ لوگ صدر پاکستان کیلئے مخصوص اخبار تیار کرتے اور انکی میز پر رکھتے جن میں صدر صاحب کے اقدامات کی تعریفیں درج ہوتیں‘ ان میں ایسے کالم ہوتے کہ جس میں حکومت کی تعریفیں ہوتی تھیں‘ آخری دن تک خان صاحب کو اندھیرے میں رکھا گیا اور جب انکے گھر سے آوازیں انکے کانوں میں پڑیں توانہوں نے حکومت جنرل یحیےٰ خان کے حوالے کی اور خود واپس گھر چلے گئے۔ وزیر اعظموں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور خان صاحب کے گرد بھی ایسے ہی لوگوں کی بہتات ہے اور ہمیں شک ہے کہ ایسا ہی ہو گا۔