189

پروٹوکول کے طلسم سے فرار

متوقع وزیراعظم عمران خان25جولائی کے بعد گزشتہ روز پہلی بار بنی گالا کے گھر سے باہر نکلے اور پشاور میں نیب آفس گئے اس سے ایک دن پہلے جب وہ اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت کیلئے آئے تو ان کیلئے پروٹوکول کا مکمل اہتمام کیا گیا تھا اس بات کا عمران خان نے نوٹس لیا اور آئندہ غیر ضروری پروٹوکول سے منع کر دیا پشاور کیلئے روانگی تو ہیلی کاپٹر میں ہوئی‘ البتہ شہر میں سابق وزیر اعلیٰ پرویزخٹک کیساتھ گاڑی میں بیٹھ کر حیات آباد گئے اب یہ معلوم نہیں کہ یہ ہیلی کاپٹر سرکاری تھایاکسی دوست کا‘مگر اندازہ ہے کہ اب جبکہ وہ سرکار بننے کے قریب ہیں تو سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال نہیں کیا ہوگا خصوصاً ایسے وقت جب وہ سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال کی جوابدہی کیلئے جارہے تھے اور پشاور میں پرویز خٹک سے بہتر ڈرائیور کہاں مل سکتا ہے جہاں تک پروٹوکول اور شاہی رہائش گاہوں کا تعلق ہے تو ہمارے حکمرانوں کے دماغ میں خناس بھرنے اور گردن میں سریا لانے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے ایک اچھے بھلے انسان کو‘ اپنے جیسے انسانوں کے درمیان سے اٹھاکر ایک ایسی دنیا میں مقید کردیا جاتاہے ۔

جہاں وہ زمینی حقائق سے دور اور تصوراتی بلکہ دیومالائی دنیا میں چلا جاتا ہے بڑے گھروں میں ہاتھ باندھے ملازموں کی قطاریں‘ ایک اشارہ ابرو پر ہر نعمت حاضر‘ مہمان نوازی کے وسیع مواقع اور جب باہر نکلیں تو شہر بند ہو جائیں ہٹوبچو کا شور ‘یہ ایسا گھن چکر ہے کہ دماغ خراب کرکے ہی رہتا ہے اوران معاملات میں پروٹوکول مافیاخودصاحب پروٹوکول کی بھی نہیں سنتا ایک نادیدہ سا ذہنی حصار بھی قائم کردیا جاتا ہے اس ماحول میں عام شہری کیا ارکان پارلیمنٹ اور وزراء بھی ملنے کی صرف خواہش ہی کرسکتے ہیں اجازت ملنے کیلئے کئی دیواریں حائل ہوجاتی ہیں ایک بار کوئی بندہ اس ماحول میں کچھ عرصہ گزارے تو پھر وہ عام لوگوں میں گھل مل ہی نہیں سکتا پروٹوکول اور سکیورٹی سٹاف کئی قریبی رشتے اور تعلق ختم کروادیتا ہے ہر انسان کے رشتہ داراور برادری ہوتی ہے حلقہ احباب ہوتا ہے انکی خوشی غمی میں شرکت سماجی ضرورت ہوتی ہے مگر کورنش بجاکر سلام کرنے والے بڑی خوبصورتی سے یہ تمام تعلق تڑوا دیتے ہیں‘صبح شام کی مشق انسان کو باور کرادیتی ہے کہ وہ کوئی الگ مخلوق ہے یہ عام انسان اس قابل نہیں کہ انکے ساتھ زیادہ رابطہ رکھا جائے حد تو یہ ہے کہ بادشاہوں کو بھی دن میں کوئی وقت یا ہفتے میں کوئی دن ایسا ہوتا تھا جب وہ براہ راست رعایاکی فریاد سنتے تھے اس طرح انکو اپنے نظام اور عہدیداروں کی کارکردگی کا پتہ چلتا تھا مگر ان جمہوری بادشاہوں نے تو رابطے کایہ ذریعہ بھی نہ رکھا ہر ادارہ خود ہی اپنی کارکردگی کی رپورٹ دیتا ہے اور ہر وزیر اپنی کامیابیاں خود بتاتا ہے اسلئے ان بادشاہوں کے نزدیک ہمیشہ سب اچھا ہی رہتا ہے موجودہ دور میں صحافت ایک آئینہ بن کر حقیقت دکھانے کی کوشش کرتی ہے ۔

تو اس کو لالچ یا دھونس سے خاموش یا ہمنوا بنالیا جاتا ہے یا پھر دشمن قرار دیکر اسکی حقائق بیانی کو نظرانداز کردیا جاتا ہے مگر چونکہ یہ شاہی حصار ایک محدود مدت کیلئے ہوتا ہے اور جب یہ لیڈر اس طلسم کدہ سے باہر نکلتے ہیں تو دنیا بدلی بدلی نظرآتی ہے عوام طوطا چشم دکھائی دیتی ہے اور انتخابی نتائج قبول کرنا مشکل ہوجاتا ہے ہماری وہ سیاسی اشرافیہ جو سرکاری پروٹوکول کی عادی ہو چکی ہے وہ ہی اب عمران خان کے کچھ فیصلوں پر پریشان ہو رہے ہیں ان میں سب سے بڑا فیصلہ وزیراعظم ہاؤس میں رہائش نہ رکھنا اور پروٹوکول نہ لینا ہے سرکاری وسائل پر بادشاہی کرنے اور پورے خاندان کو بادشاہی کے مزے کرانے والوں کو اس بات سے خوف آرہا ہے کہ اگر عمران خان نے یہ ابتداء کردی تو انکی زندگی اجیرن ہو جائیگی بڑے دھڑلے سے اس کی مخالفت کر رہے ہیں پہلے تجویز آئی کہ عمران خان سپیکر ہاؤس میں رہیں گے فوری ردعمل آیا کہ یہ تو پارلیمنٹ کی ملکیت ہے یہاں وزیراعظم نہیں رہ سکتا اب بتایاگیا ہے کہ پنجاب ہاؤس میں رہیں گے تو بھی چین نہیں ہے کہاجاتا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس بنا ہے وزیراعظم کی فیملی کیلئے ہے۔

تو اس میں رہنے میں کیا حرج ہے اور یہ جو ایک ارب 80 کروڑ روپے سالانہ اسکی تزئین و آرائش اور دیکھ بھال پر خرچ آتا ہے اسکا کسی کو خیال نہیں‘ کہا جاتا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے وزیراعظم سیکرٹریٹ کے ایک واش روم کی تزئین پر 75 لاکھ روپے لگادیئے تھے اور سنا ہے کہ ایوان صدر میں سادہ مزاج ممنون حسین کے بیٹوں اوربیٹیوں کی طرف سے تین نسلیں آباد ہیں بہرحال جب تک جمہوری حکمرانوں کو اس شاہی جادونگری سے باہر نہیں نکالا جاتا اس وقت تک جمہوری رویے تبدیل نہیں ہوتے عمران خان نے یہ ابتداء کردی تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی مگر یہ اتنا آسان نہیں ہے اس کیلئے خوشامدی ٹولے سے بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔