410

حکومت نے تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس رعایت کم کر دی

وفاقی حکومت نے فنانس ایکٹ 2018 کے انکم ٹیکس آرڈیننس میں بعض ترامیم کر دی ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے فنانس ایکٹ آرڈیننس 2018 میں ترمیم کے ذریعے تنخواہ دار طبقے کے لیے دی گئی رعایت کم کردی گئی ہے۔چار لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں ہو گا جب کہ 4 لاکھ سے 8 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ایک ہزار روپے ٹیکس ہو گا۔

آٹھ لاکھ روپے سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 2 ہزار روپے ٹیکس ہو گا جب کہ 12 لاکھ روپے سے 24 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 5 فیصد انکم ٹیکس ہو گا۔

حکومت کی جانب سے فنانس ایکٹ 2018 میں کی گئی نئی ترمیم کے مطابق 24 لاکھ روپے سے 48 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 60 ہزار روپے ٹیکس ہو گا، چوبیس لاکھ سے زیادہ اور 48 لاکھ روپے سےکم رقم پر10 فیصد اضافی ٹیکس دینا ہو گا۔اڑتالیس لاکھ روپے سے زیادہ سالانہ آمدن پر 3 لاکھ فکسڈ ٹیکس اور اضافی 15 فیصد دینا ہو گا۔

ایسوسی ایشن آف پرسنز کی 4 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن 4 فیصد ٹیکس ہو گا جب کہ ایسوسی ایشن آف پرسنز کی 12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 40 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ہو گا۔

ترمیم کے مطابق ایسوسی ایشن آف پرسنز کی 12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 10 فیصد اضافی ٹیکس ہو گا۔

ایسوسی ایشن آف پرسنز کی 24 لاکھ سے 36 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر1 لاکھ 60 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ہو گا۔ایسوسی ایشن آف پرسنز کی 24 لاکھ سے 36 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 15 فیصد اضافی ٹیکس عائد ہو گا۔

ترمیم کے مطابق حکومت کی جانب سے ایسوسی ایشن آف پرسنز کی 36 لاکھ روپے سے 48 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 3 لاکھ 40 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ہو گا۔ایسوسی ایشن آف پرسنز کی 36 لاکھ روپے سے 48 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 20 فیصد اضافی ٹیکس ہو گا۔

ایسوسی ایشن آف پرسنز کی 48 لاکھ سے 60 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 25 فیصد اضافی ٹیکس ہو گا۔ایسوسی ایشن آف پرسنز کی 60 لاکھ روپے سے زیادہ سالانہ آمدن پر 8 لاکھ 80 روپے فکسڈ ٹیکس ہو گا جب کہ 60 لاکھ روپے سے زیادہ سالانہ آمدن پر 30 فیصد اضافی ٹیکس ہو گا۔

بینک کے سوا کمپنیز کی آمدن پر ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہو گی،

کمپنیز کی آمدن پر ہر سال ٹیکس کی شرح میں کمی ہو گی جس میں ہر سال ایک فیصد کمی ہو گی اور 2023 اور اس کے بعد کمپنیز پر ٹیکس کی شرح 25 فیصد رہےگی۔

چھوٹی کمپنیوں کی آمدن پر ٹیکس کی شرح 24 فیصد سالانہ ہو گی، چھوٹی کمپنیوں کی آمدن پر ہرسال ٹیکس کی شرح میں ایک فیصد کمی ہوگی، چھوٹی کمپنیوں کی آمدن پر 2023 کے بعد ٹیکس کی شرح 20 فیصد ہو جائے گی۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے فنانس آرڈیننس 2018 میں کی گئی ترامیم کا اطلاق فوری طور سے ہو گا یعنی ماہ ستمبر کی تنخواہوں سے نئے ٹیکس ریٹ کے مطابق ٹیکس کٹوتی ہوگی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اس قسم کی خبریں سامنے آئی تھیں کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ حکومت کا پیش کردہ فنانس بل 19-2018 میں ترمیم کر کے نیا بجٹ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔