118

روڑئے نہ اٹکائیں

اب تو یہ سن کر قوم کے کان پک چکے ہیں کہ اس ملک کا ہر فرد آج1,44,256 روپے کا مقروض ہو چکا ہے تاریخ کے مطالعہ سے عیاں ہوتا ہے کہ پاکستان نے پہلا غیر ملکی قرضہ 1950ء میں اپنے پہلے پانچ سالہ منصوبے کیلئے حاصل کیا اور پھر ہمارے حکمرانوں کو جیسے قرضے لینے کا چسکا پڑ گیا اور قرضہ لینا روایت بن گئی آج ہماری حالت زاریہ ہے کہ ان قرضوں کیلئے ہم اپنے موٹرویز ‘ ائیر پورٹس اور دیگر قومی اثاثے قرضہ دینے والے اداروں کے پاس گروی رکھوا چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ نئے حکمران بیرونی قرضے حاصل کرنے کے سلسلے میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں‘ عمران خان نے بیرون ملک اور اندرون ملک پاکستانیوں سے نئے ڈیمز بنانے کیلئے رقوم جمع کروانے کا فیصلہ کرلیاہے اور بلاشبہ ایک بڑی رقم اس ضمن میں مہیا بھی کر دی جائے گی لیکن یہ بات بہت ضروری ہے کہ ایسا اہتمام کیا جائے کہ ان فنڈز کا غلط استعمال نہ ہو کیونکہ اس ضمن میں ہم ایک تلخ تجربہ کا شکار ہو چکے ہیں۔

میاں نوازشریف نے 1998ء میں قرض اتارو‘ملک سنوارو کے نام سے ایک چندہ سکیم شروع کی تھی جس میں پاکستانیوں نے دل کھول کر پیسے جمع کرائے تھے نہ حکومت نے عوام کو بتانے کی تکلیف کی کہ اس سکیم کے تحت کتنی رقم جمع ہوئی اور پھر وہ کب اور کہاں کہاں خرچ ہوئی اور نہ ہی تحقیقاتی جرنلزم سے منسلک کسی صحافی نے اس معاملے کا کھوج لگایا اور نہ ہی کسی نیوز چینل کے کسی اینکرنے عوام کو بتلایا کہ اس رقم کا کیا مصرف ہوا‘ سانپ کا ڈسا ہوا رسی سے بھی ڈرتا ہے اب اگر عمران خان کی اس چندہ مہم میں حسب ضرورت پیسے جمع نہ ہوئے تو اس کی بڑی وجہ یہ ہو گی کہ عوام کو حکمرانوں پر اعتماد نہیں رہا کہ وہ ان سے وصول کیا گیا پیسہ صرف اسی مقصد کیلئے استعمال کریں گے کہ جس کیلئے وہ یہ اکٹھا کر رہے ہیں اس ملک میں جہاں لو گ اگر ٹیکس کسی اور وجہ سے نہیں دیتے وہاں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کوشک ہے کہ ان سے وصول کیا گیاپیسہ ان کی فلاح پر کم اور حکمرانوں کے اللوں تللوں پر زیادہ لگتا ہے ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں۔

اور ایک مرتبہ پھر یہ کہیں گے کہ پاکستان تحریک انصاف جس ایجنڈے پر 2018ء کے الیکشن میں کامیاب ہوئی وہ اینٹی کرپشن ایجنڈا تھا عوام دیکھنا چاہتے ہیں کہ کرپٹ افراد کا بلا امتیا ز کڑا احتساب ہو اور جو قومی دولت انہوں نے مختلف طریقوں اور حیلے بہانوں سے لوٹی ہے وہ ان سے وصول کی جائے اور وہ حریص لالچی اور مفاد پرست سرمایہ دار جو کمال چالاکی اور قانونی موشگافیوں سے ابھی تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں ان پر بے رحمانہ ٹیکس لاگو کیا جائے اگر تو پاکستان تحریک انصاف اسی ایجنڈے سے رتی بھر بھی انحراف کرے گی تو جتنا وقت اسے فرش سے عرش تک پہنچنے میں لگا تھا اس سے بہت کم وقت میں وہ اوندھے منہ دھڑام سے فرش پر گر سکتی ہے اور یہ بات اس کے تھنک ٹینک کوقطعاً نہیں بھولنی چاہئے ‘کچھ لوگوں کو یہ بات بالکل نہیں کرنی چاہئے کہ عمران خان بھکاریوں کی طرح ڈیم کیلئے چندہ مانگ رہے ہیں بھئی انہوں نے غیر ملکیوں کے آگے تو ہاتھوں نہیں پھیلائے ان کے آگے کشکول تو نہیں لے گئے؟وہ تو اپنے ہم وطنوں سے مالی معاونت کے طلبگار ہیں‘ بڑے بڑے عوامی فلاحی ادارے سرگنگارام ہسپتال‘ گلاب دیوی ہسپتال‘ شوکت خانم میموریل کینسراور ایدھی فاؤنڈیشن کے ملکی سطح کے فلاحی ادارے کیسے بنے؟ یہ چندے کے پیسوں سے تو ہی بنے اوردن بہ دن ان میں وسعت بھی آ رہی ہے۔