وقت آ گیا ہے کہ وطن عزیز کی تمام سیاسی جماعتوں کے کرتا دھرتا road sanctity یعنی روڈ کے تقدس کا خیال رکھیں‘احتجاج کرنا بلا شبہ ہر شہری کا حق ہے پر اس کو بروئے کار لانے کے واسطے ایسا طریقہ اپنایا جائے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کسی بھی سڑک پر اگر پانچ منٹ بھی ٹریفک بندہو جائے تو خلقت خدا جس میں بڑے بوڑھے‘ بچے‘ خواتین اور طلبا و طالبات کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوتے ہیں‘ طلبا و طالبات وقت مقررہ پر سکول کالج نہیں پہنچ پاتیں اور بیمارہسپتال اور جھولی اٹھا اٹھا کر ٹریفک کی بندش سے متاثر افراد روڈ بند کرنے والوں کو جو بد دعا دیتے ہیں وہ اپنی جگہ ایک علیحدہ بات ہے تمام سیاسی رہنما آپس میں مل جل کر ہر شہر میں ایسی جگہ کا انتخاب کریں کہ جہاں اگر کسی نے حکومت وقت کے خلاف کسی بات پر احتجاج رجسٹر کرانا ہو تو وہ وہاں یکجا ہو کر اسے رجسٹر کرا لیں‘ایسا نہ کرنے سے لا محالہ پولیس کو لاٹھی چارج اور آ نسو گیس کا استعمال کرنا پڑتا ہے جس سے بد مزگی پھیلتی ہے‘اس لحاظ سے پھر قبائلی علاقے کافی بہتر تھے کہ جب تک ان کو خیبر پختونخوا میں ضم نہیں کیا گیا تھا ہر قبیلہ اجتماعی طور پر پولیٹیکل ایجنٹ کو جواب دہ تھا کہ اس کے علاقے سے جو سرکاری سڑک گزرتی ہے وہ ہر وقت کھلی رہے گی اور اس کی کسی وجہ سے بندش کی صورت میں اس قبیلے پر بھاری جرمانہ لگتا تھا اور جرمانے کے خوف سے اس علاقے کے قبائل خود اس بات کا دھیان رکھتے تھے کہ ان کے علاقے سے گزرنے والی سڑک کو کوئی بند نہ کرے‘ خیبر پختونخوا کا گورنر پولیٹیکل ایجنٹوں کی میٹنگز میں ان افسروں کو شاباش دیا کرتا کہ جن کے زیر نگرانی سڑکوں پر ٹریفک میں کوئی بندش نہ ہوتی۔
‘ ویسے بھی فاٹا میں سیاسی جماعتوں کا وجودہھی کہاں تھا جو کوئی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے واسطے روڈوں کو بند کرتا‘کہنے کا مقصد یہ ہے کہ روڈ کے تقدس کو قائم رکھنے کے لئے اگر تمام سیاسی پارٹیاں ایک آ ل پارٹیز کانفرنس بلائیں اور اس ضمن میں ایک متفقہ فیصلہ کریں تو یقیناعوام میں ان کی قدرو منزلت زیادہ ہو جائے گی اور عوام کو بھی ہر روز کی مشکلات سے نجات ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔