مہنگائی بڑھنے کا مطلب غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ گزشتہ تین برس کے دوران‘ آبادی کے ایک بڑے حصے کے ذریعہ استعمال کی جانے والی متعدد ضروری اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر سال دوہزاراکیس کے بعد سے پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں تقریباً ڈیڑھ سو فیصد اضافہ ہوا حیرت انگیز ہے چونکہ زیادہ تر گھرانے بجلی کا استعمال کرتے ہیں، اس لئے بجلی پر خرچ ہونے والے ماہانہ اخراجات کا تناسب کم آمدنی والے اور متوسط آمدنی والے گھرانوں کے لئے زیادہ آمدنی رکھنے والے گھرانوں کے مقابلے کہیں زیادہ (بوجھ) ہے۔ بجلی کی قیمت میں آئے روز اضافے سے کم اور درمیانی آمدنی والے افراد زیادہ کمانے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ متاثر ہیں جس کی وجہ سے آبادی کا ایک بڑا حصہ ’غربت کی لکیر‘ سے نیچے جا رہے ہیں۔ بجلی کی قیمت میں نمایاں اضافہ حکومت کا واحد پالیسی اقدام نہیں جس نے غربت میں اضافہ کیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ہر پانچ میں سے دو شہری خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ دیگر اقدامات میں گزشتہ تین سے چار برس میں بنیادی طور پر تمام اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ انکم ٹیکس کی شرح میں اضافہ بھی شامل ہے۔ جہاں تک مؤخر الذکر کا تعلق ہے‘ یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ انکم ٹیکس کی شرح میں اضافے سے زیادہ آمدنی والے طبقے کے لوگ زیادہ متاثر ہوں گے لیکن قابل ٹیکس آمدنی کی نچلی حد میں اضافہ کیا گیا ہے اور تمام آمدنی کے سلیبز کے لئے ٹیکس شرحوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے لہٰذا درمیانی آمدنی والے طبقے کے لوگوں پر منفی اثر پڑنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غربت میں نمایاں اضافے کی اطلاع دینے والے انہی کثیر الجہتی اداروں نے حال ہی میں کہا ہے کہ ملک کی میکرو معیشت مستحکم ہوگئی ہے اور انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ 2024-25ء کے لئے جی ڈی پی کی نمو ابتدائی پیش گوئی ڈھائی فیصد سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ عام طور پر حقیقی جی ڈی پی میں مستقل اضافہ، جو لوگوں کی حقیقی آمدنی میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے مؤثر طریقے سے انسداد غربت کرتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے علاؤہ پاکستان کی زیادہ تر تاریخ میں ایسا ہی ہوا، جہاں سیاسی طور پر پولرائزڈ اور غیر مستحکم معاشی پالیسی سازی‘ نفاذ اور بدعنوانی نے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی میں اضافہ کیا ہے۔ اگر اس کو بدلنے کی مسلسل کوشش کی جاتی ہے تو نہ صرف لوگوں کی حقیقی آمدنی اور دولت میں اضافہ کرنے والے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بلکہ ایسی پالیسیاں بھی بنانے کی ضرورت ہے جو آمدنی کی زیادہ منصفانہ اور متوازن تقسیم کو ممکن بنائیں۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں کسی ملک میں آمدنی کی تقسیم یا آمدنی کی عدم مساوات کی پیمائش ہوتی ہے۔عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق سال 2024ء کے لئے پاکستان کی کارکردگی بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا سے بہتر ہے، جو ایک خوشگوار حیرت کی بات ہے کیونکہ عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان خطے میں فی کس آمدنی کے لحاظ دیگر ممالک سے پیچھے ہے اور یہ سب سے زیادہ غیرمساوی مالی وسائل کی تقسیم رکھتا ہے۔ حکومتی پالیسوں کا بہ نظر غائز جائزہ لیا جائے تو اِن کا بنیادی مقصد ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافہ ہے اور ضروری نہیں کہ اس بڑھے ہوئے ریونیو کو غریبوں میں دوبارہ تقسیم کیا جائے۔ پاکستان کا ’آئی ایم ایف پروگرام‘ خاص طور پر سبسڈی پر خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ کہنا درست ہوگا کہ حقیقی جی ڈی پی نمو میں اضافے کا کوئی بھی فائدہ ان لوگوں تک نہیں پہنچے گا جو غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں یا مہنگائی میں اضافے اور آمدنی میں کمی کے باعث تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ (بشکریہ دی نیوز۔ تحریر عمر قریشی۔ ترجمہ اَبواَلحسن اِمام)
غربت میں اضافہ
مہنگائی بڑھنے کا مطلب غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ گزشتہ تین برس کے دوران‘ آبادی کے ایک بڑے حصے کے ذریعہ استعمال کی جانے والی متعدد ضروری اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر سال دوہزاراکیس کے بعد سے پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں تقریباً ڈیڑھ سو فیصد اضافہ ہوا حیرت انگیز ہے چونکہ زیادہ تر گھرانے بجلی کا استعمال کرتے ہیں، اس لئے بجلی پر خرچ ہونے والے ماہانہ اخراجات کا تناسب کم آمدنی والے اور متوسط آمدنی والے گھرانوں کے لئے زیادہ آمدنی رکھنے والے گھرانوں کے مقابلے کہیں زیادہ (بوجھ) ہے۔ بجلی کی قیمت میں آئے روز اضافے سے کم اور درمیانی آمدنی والے افراد زیادہ کمانے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ متاثر ہیں جس کی وجہ سے آبادی کا ایک بڑا حصہ ’غربت کی لکیر‘ سے نیچے جا رہے ہیں۔ بجلی کی قیمت میں نمایاں اضافہ حکومت کا واحد پالیسی اقدام نہیں جس نے غربت میں اضافہ کیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ہر پانچ میں سے دو شہری خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ دیگر اقدامات میں گزشتہ تین سے چار برس میں بنیادی طور پر تمام اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ انکم ٹیکس کی شرح میں اضافہ بھی شامل ہے۔ جہاں تک مؤخر الذکر کا تعلق ہے‘ یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ انکم ٹیکس کی شرح میں اضافے سے زیادہ آمدنی والے طبقے کے لوگ زیادہ متاثر ہوں گے لیکن قابل ٹیکس آمدنی کی نچلی حد میں اضافہ کیا گیا ہے اور تمام آمدنی کے سلیبز کے لئے ٹیکس شرحوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے لہٰذا درمیانی آمدنی والے طبقے کے لوگوں پر منفی اثر پڑنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غربت میں نمایاں اضافے کی اطلاع دینے والے انہی کثیر الجہتی اداروں نے حال ہی میں کہا ہے کہ ملک کی میکرو معیشت مستحکم ہوگئی ہے اور انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ 2024-25ء کے لئے جی ڈی پی کی نمو ابتدائی پیش گوئی ڈھائی فیصد سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ عام طور پر حقیقی جی ڈی پی میں مستقل اضافہ، جو لوگوں کی حقیقی آمدنی میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے مؤثر طریقے سے انسداد غربت کرتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے علاؤہ پاکستان کی زیادہ تر تاریخ میں ایسا ہی ہوا، جہاں سیاسی طور پر پولرائزڈ اور غیر مستحکم معاشی پالیسی سازی‘ نفاذ اور بدعنوانی نے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی میں اضافہ کیا ہے۔ اگر اس کو بدلنے کی مسلسل کوشش کی جاتی ہے تو نہ صرف لوگوں کی حقیقی آمدنی اور دولت میں اضافہ کرنے والے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بلکہ ایسی پالیسیاں بھی بنانے کی ضرورت ہے جو آمدنی کی زیادہ منصفانہ اور متوازن تقسیم کو ممکن بنائیں۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں کسی ملک میں آمدنی کی تقسیم یا آمدنی کی عدم مساوات کی پیمائش ہوتی ہے۔عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق سال 2024ء کے لئے پاکستان کی کارکردگی بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا سے بہتر ہے، جو ایک خوشگوار حیرت کی بات ہے کیونکہ عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان خطے میں فی کس آمدنی کے لحاظ دیگر ممالک سے پیچھے ہے اور یہ سب سے زیادہ غیرمساوی مالی وسائل کی تقسیم رکھتا ہے۔ حکومتی پالیسوں کا بہ نظر غائز جائزہ لیا جائے تو اِن کا بنیادی مقصد ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافہ ہے اور ضروری نہیں کہ اس بڑھے ہوئے ریونیو کو غریبوں میں دوبارہ تقسیم کیا جائے۔ پاکستان کا ’آئی ایم ایف پروگرام‘ خاص طور پر سبسڈی پر خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ کہنا درست ہوگا کہ حقیقی جی ڈی پی نمو میں اضافے کا کوئی بھی فائدہ ان لوگوں تک نہیں پہنچے گا جو غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں یا مہنگائی میں اضافے اور آمدنی میں کمی کے باعث تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ (بشکریہ دی نیوز۔ تحریر عمر قریشی۔ ترجمہ اَبواَلحسن اِمام)