کرکٹ کے کھیل سے جڑے چند حقائق

کرکٹ کے مبصرین کی ایک بڑی تعداد اس بات پر متفق ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے بہترین کپتانوں میں سے ایک عبدالحفیظ کاردار بھی تھے‘ گو کہ بحیثیت ایک کھلاڑی وہ ایک اوسط درجے کے آ ل راﺅنڈر تھے ‘ہر انتظامی صلاحیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری پڑی تھی‘ وہ ڈریسنگ روم کے اندر اور باہر دونوں جگہ ڈسپلن کے سخت پابند تھے اور ان کی ٹیم کے سب کھلاڑی ان سے بیک وقت خائف بھی رہتے اور ان کی عزت بھی کرتے تھے ان کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ ان کی قیادت میں پاکستان نے 1954 ءمیں انگلستان کی ٹیم کو ان کے ہوم گراﺅنڈ اوول کے میدان میں ہرایا جو پھر پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کی اجازت کا موجب بنا ‘ان دنوں ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کا چلن عام نہیں ہوا تھا اور صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیلی جاتی تھی ‘کاردار کی قیادت میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے ٹیسٹ میچوں میں نیوزی لینڈ‘آسٹریلیا ‘ ویسٹ انڈیز اور بھارت کو بھی ٹیسٹ میچوں میں ہرایا تھا کرکٹ میں لٹل ماسٹر little master کی اصطلاح تین بلے بازوں کے واسطے استعمال ہوئی ہے جو جسامت کے لحاظ سے پستہ قد تھے پر اپنے اپنے وقتوں میں غضب کے بلے باز تھے‘ ایک کا نام تھا حنیف محمد جنہوں نے ایک عرصہ دراز تک پاکستانی کرکٹ ٹیم میں بطور اوپننگ بیٹسمین حصہ لیا بھارت کی کرکٹ ٹیم کے بلے باز سنیل گواسکر کو بھی لٹل ماسٹر کہا گیا اور بھارت کے ہی سچن ٹنڈولکر بھی لٹل ماسٹر کہلائے گئے وہ بھی سنیل گواسکر کی طرح اوپننگ بلے باز تھے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ گواسکر نے حنیف کو اور ٹنڈولکر نے گواسکر کو اپنا رول ماڈل کہا ہے ‘ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آسٹریلیا کے بلے باز سر ڈونلڈ بریڈمین کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے وقت ان کی بیٹنگ میں رنز بنانے کی اوسط 99.9 تھی اور یہ ریکارڈ آج بھی کئی دہائیوں کے گزر جانے کے بعد بھی قائم و دائم ہے اور کوئی بلے باز اسے توڑ نہیں سکا۔

‘ جس وقت ون ڈے کرکٹ کے اجراء کا فیصلہ کیا جا رہا تھا تو کئی پرانے تجربہ کار کرکٹرز نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اس سے کرکٹ کرپشن کا شکارہو جائے گی ‘وقت نے ان کے اس خدشے کو صحیح ثابت کیا‘ کئی کھلاڑی بال ٹیمپرنگ اور میچ فکسنگ میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے اور کئی کو جیل کی سزا بھی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔