وزیراعظم شہبازشریف نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے‘ درپیش اقتصادی صورتحال اور توانائی بحران کے تناظر میں بجلی بلوں کی مد میں ریلیف قابل اطمینان ہی ہے‘ مہیا اعدادوشمار کے مطابق گھریلو صارفین کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں7روپے41پیسے جبکہ صنعتوں کیلئے7.69 روپے کمی کی گئی ہے‘ اعلان کے مطابق گھریلو صارفین کو ماہ مئی کا بجلی بل رعایتی قیمتوں کے مطابق ادا کرنا ہوگا‘ ایک ایسے وقت میں جب وطن عزیز میں حکومت کوعوام کو ریلیف دینے کیلئے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے اجازت لینا پڑتی ہے حکومت نے اس ضمن میں آئی ایم ایف حکام کو مشکل سے قائل کیا ‘فیصلہ سازی اور منصوبہ بندی کے ذمہ دار دفاتر کو اب مزید تاخیر کے بغیر سوچنا ہوگا کہ ملکی معیشت کا قرضوں پر سے انحصار ختم ہو اور قرض دینے والوں کی شرائط پر عملدرآمد اس طرح سے مجبوری نہ بن پائے کہ بجلی کے بلوں میں ریلیف کیلئے بھی حکومت کو اجازت لینا پڑے‘ قابل توجہ یہ بھی ہے کہ بجلی کے گھریلو صارفین کو تو بل کم ہونے پر ریلیف کا احساس براہ راست ہوگا صنعتوں کیلئے 7.69روپے کے ریلیف کا فائدہ کس طرح عام صارف کو مل پائے گا‘ ہمارے ہاں تو یہ معمول چلا آرہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کسی بھی سیکٹر میں کوئی نیا ٹیکس لگے یا پھر پیداواری لاگت میں کوئی اضافہ ہو تو اس کا لوڈ فی الفور عام صارف پر ڈال دیا جاتا ہے اور اس میں ایک دن بھی نہیں لگتا متعدد مرتبہ تو مارکیٹ میں موجود سٹاک پر بھی کچھ ادارے پروڈکشن کاسٹ کے اس اضافے کا لوڈ فوراً ڈال دیتے ہیں دوسری جانب حکومت کی جانب سے مراعات ملنے یا پھر پیداواری لاگت میں کمی کی صورت میں عام صارف کو اکثر کیسوں میں محسوس ہی نہیں ہوتاکہ مارکیٹ میں کوئی ریلیف دیا گیا بھی ہے یا نہیں‘اب کی بار جبکہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو بجلی کے بلوں میں رعایت دی جارہی ہے تو اس کا فائدہ پیداواری لاگت میں کمی کے تناسب سے عوام کو پہنچانا بھی ضروری ہے اور اس مقصد کیلئے ایک طریقہ کار اس طر ح سے وضع کرنا ضروری ہے کہ جس کیلئے مشاورت میں صنعت‘ تجارت اور زراعت کے شعبوں سے نمائندہ افراد شریک ہوں اور ان کا مو¿قف بھی سنا جائے تاکہ برسرزمین ثمرآور نتائج حاصل ہو سکیں۔