قارئین کرام‘ گر ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا واشنگٹن پر ہونیوالے سفید نسل پرستوں کے حملے کے بارے میں لکھنا ضروری تھا اسکے بعد روز مرہ کی مصروفیات آڑے آتی رہیںچند برقی پیغامات سے اس سلسلے میں آپکی دلچسپی کا اندازہ ہواگذشتہ سے پیوستہ کالم میں یہ کہانی یہاں تک پہنچی تھی کہ بن لادن کے جسد خاکی کو جلال آباد ائیر بیس پہنچا دیا گیا تھا ایبٹ آباد کمپاﺅنڈ میں تباہ ہونیوالے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کی تصویریں انٹر نیٹ پر گردش کر رہی تھیںتخلیق خالق کے ہاتھ سے نکل کر اپنی مرضی کی اڑان بھر رہی تھی کہتے ہیں کینوس پر برش کی پہلی سٹروک مصور کی اپنی مرضی کی ہوتی ہے اسکے بعد اسنے اپنی تخلیق کا تعاقب کرنا ہوتا ہے شائد اس اصول کا اطلاق اوباما کی اس مہم جوئی پر نہ ہوتا ہو کیونکہ اسنے پہلے ہی سے ایک حکمت عملی طے کی ہوئی تھی کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں اسے کیا کرنا تھا دونوں سکرپٹ اسکے سامنے پڑے ہوے تھے اسکے باوجود ہیلی کاپٹر کی تباہی نے وقت کی طنابیں اسکے ہاتھ سے چھین لی تھیںان حالات میں اسکی ٹیم نے فیصلہ کیا کہ سب سے پہلے پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے رابطہ کیا جائے جوائنٹ چیفس آف سٹاف مائیکل مو لن کو یہ ذمہ داری سونپی گئی جنرل کیانی کیساتھ اسکی گفتگو اوباما کے الفاظ میں Polite تھی اس بات چیت کا دورانیہ کتنا تھا اسکے بارے میں کچھ نہیں لکھا گیا صرف چار سطروں میں یہ بتایا گیا ہے کہ جنرل کیانی نے درخواست کی کہ امریکہ اس حملے کے بارے میں اصل صورتحال جلد از جلد بتا دے تا کہ انکا سٹاف پاکستانی پبلک کے رد عمل کو سنبھال سکے کتاب میں لکھا ہے کہ " Kayani had requested that we come clean on the raid and its target as quickly as possible in order to help his people manage the reaction of the Pakistani public" یہاں حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ اوباما نے اپنی بیوی مشیل رابنسن( شادی سے پہلے کا نام) سے اپنے رومانس کا ذکر پندرہ صفحات میں کیا ہے پھر 2008 کی صدارتی مہم کی تفصیلات دوسو سے زائد صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں اور مائیک مولن کی جنرل کیانی سے گفتگو صرف چار لائینوں میں بیان کر دی گئی ظاہر ہے کہ دو ملکوں کے فوجی سربراہوںکی اتنے اہم واقعے پر ہونیوالی گفتگو صرف تیس سیکنڈ کی نہ ہوگی زیادہ طویل نہ سہی دو چار منٹ تو ضرور بات ہوئی ہو گی اوباما نے کمال مہارت سے اس سارے قصے کو گول کر دیا اتنا تو ہم جانتے ہیں کہ صدر امریکہ‘ انکے وزرا اور کسی بھی سٹاف ممبر کی کتاب نیشنل سیکیورٹی کی چھلنی سے گذر کرشائع ہوتی ہے مگر اتنی اہم گفتگو کا اتنا مختصر بیان بہر حال ناقابل فہم ہے اپنے دیس میں تو اس قسم کے ڈرامائی مکالمے کے طشت از بام کئے جانے کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا مگر آزادی اظہارکے چیمپئن ملک کے سربراہ سے تو اسکی توقع کی جا سکتی ہے اسکے بعد موضوع بدلتے ہوے اوباما نے لکھا ہے کہ اگلا اہم مرحلہ قوم سے خطاب کا تھا اسے مﺅخر نہیں کیا جا سکتا تھااس مقصد کیلئے صدر اوباما Situation Room سے نکل کراپنے دفتر گئے وہاں انہوں نے اپنے تقریر نویس Ben کو اس واقعے کے بارے میں اپنے خیالات سے آگاہ کیا اس دوران وائٹ ہاﺅس کے ویسٹ ونگ کا سٹاف مکمل طور پر مصروف تھا امریکی سفارتکار احکامات کے مطابق اہم سربراہوں سے رابطے کر کے انہیں تفصیلات بتا رہے تھے اوباما نے جارج ڈبلیو بش اور بل کلنٹن کو اس صورتحال سے آگاہ کیا اسوقت واشنگٹن میں شام کے پانچ بجے کا وقت تھا اور بحر اوقیانوس کے دوسری طرف کی دنیا میں رات کے سائے پھیل چکے تھے رات کی بھیگی زلفوں کے اس ذکر کے بعد اوباما نے لکھا ہے کہ I expected my most difficult call to be with Pakistan's beleaguered president, Asif Ali Zardari یعنی مجھے توقع تھی کہ میری سب سے مشکل کال پاکستان کے پریشان حال صدر آصف علی زرداری کو ہو گی یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس ملک پر صدر اوباما نے چارسو سے زیادہ ڈرون حملے کر کے ہزراروں کی تعداد میں بیگناہ شہریوں کا قتل عام کیا‘ جس ملک میں صدر اوباما کے احکامات کے مطابق چار سو ریمنڈ ڈیوس نما جاسوس واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کے دستخطوں سے لگے ہوے ویزوں کے ذریعے اتارے گئے اس ملک کے صدر سے گفتگو صدر امریکہ کیلئے اتنی مشکل کیوں تھی مجھے تو یہ بات سراسر منافقت نظر آتی ہے براک اوباما کو ایسی کوئی مشکل درپیش نہ تھی وہ صرف دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ امریکہ ایک ملک کی علاقائی خودمختاری کی دھجیاں بکھیرنے کے معاملے میں کتنا مجبور اور حساس تھا اتنا حساس کہ آصف علی زرداری سے بات کرنا بھی مشکل تھا اس گفتگو کے بارے میں اوباما نے لکھا ہے کہ صدر زرداری نے انکی بات سنکر مبارکباد دی اور اپنے تعاون کا یقین دلایا یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ اس سے زیادہ تعاون تو انہیں مزید حملوں کی اجازت دیکر ہی کیا جا سکتا تھا صدر زرداری نے کہا Whatever the fall out, it's very good news یعنی جو بھی نقصان ہوگا یہ ایک اچھی خبر ہے اسکے بعد زرداری نے یہ بھی کہا انکی بیوی بینظیر بھٹو کو بھی القاعدہ کے انتہا پسندوں نے ہلاک کیا تھا بین السطور اسکا مطلب یہی ہے کہ آصف زرداری جانتے ہیں کہ بینظیر کے قتل میں القاعدہ کا ہاتھ ہے پاکستان کے عوام کو یہ بات تو انہوں نے کبھی نہیں بتائی وہاں تو اپنے دور صدارت میں وہ غیر ملکی سراغرسانوں سے تفتیش اور تحقیقات کرواتے رہے اس سیاق و سباق میں یہ ایک ثانوی بات ہے اصل نقطہ یہ ہے کہ کیا صدر پاکستان کو اتنے بڑے حملے کے بعدحملہ آور سے اتنا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنا چاہئے تھا کیا انہیں احتجاج نہیں کرنا چاہئے تھا اس احتجاج کیلئے عقل و دانش‘ سمجھ بوجھ اور جرات اظہار کی ضرورت تھی جسکی توقع کم از کم آصف علی زرداری سے تو نہیں کی جا سکتی ہمیں یاد ہے کہ انیس ستمبر 2001 کی رات پاکستان کے وقت کے مطابق بارہ بجے جب صدر بش کے سیکرٹری آف سٹیٹ کولن پاول نے اسوقت کے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے سامنے سات مطالبات رکھے تھے تو انہوں نے کیا جواب دیا تھا ایک دنیا جانتی ہے کہ سب کچھ طشتری میں رکھ کے پیش کر دیا گیا تھا دکھ کی بات ہے کہ جس ملک کے سربراہ اپنی سرزمین کی حفاظت‘ دفاع اور سلامتی کے بارے میں حساس نہ ہوں اسکی خودمختاری کے بارے میں حساسیت کی توقع کسی دوسرے ملک سے کیسے کی جاسکتی ہے ۔میں نے اس سلسلے کی پہلی قسط میں لکھا تھا کہ براک اوباما کی کتاب میںمیری دلچسپی صرف بن لادن کے قتل کی تفصیلات جاننے کی حد تک تھی یہ تفصیلات کچھ اختصار کیساتھ میں نے اپنے قارئین تک پہنچا دی ہیں اسلئے اس پراسرار کہانی کو یہاں ختم کرتے ہیں ۔