سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا ہے کہ آئین کے تحت ایگزیکٹو کے ماتحت آرمڈ فورسز عدالتی اختیار کا استعمال کر سکتی ہیں یا نہیں؟
عزیر بھنڈاری کے دلائل
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ دیکھنا یہ ہے کہ آئین کس چیز کی اجازت دیتا ہے، عام ترامیم بنیادی حقوق متاثر نہیں کر سکتیں، سلمان اکرم راجہ صاحب نے جو مثال دی تھی وہ سویلینز میں ہی آئیں گے جس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا تھا کہ 83 اے کے تحت آرمڈ فورسز کے سٹیٹس کو دیکھنا ہوتا ہے، آرمی ایکٹ میں ٹو ون ڈی کی پروویشن کے علاؤہ کچھ بھی نہیں ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 243 کے مطابق اسکا اطلاق پہلے سے ہوتا ہے، وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اس پر آپ کی ججمنٹس موجود ہیں، ملزم کے اعتراف کے لیے سبجیکٹ کا ہونا ضروری ہے، کورٹ مارشل کے علاؤہ کوئی پروویشن نہیں ہے جو اس میں لگے۔
جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ وہ نہ لگے اس کا لگنا ضروری تو نہیں ہے، وکیل عزیر بھنڈاری نے مؤقف اپنایا کہ یہ اتنا سادہ نہیں ہے، ایف بی علی نے سٹیٹس واضح کر دیا تھا، کوئی بھی ممبر جس کا تعلق ہو قانون کے مطابق اطلاق ہو گا، ٹو ون ڈی والے 83 اے میں نہیں آتے یہ ایف بی علی نے واضح کیا، اگر یہ اس میں آ گئے تو بنیادی حقوق دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی، آرمی ایکٹ کا تعلق صرف ڈسپلن سے ہے۔
جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ شق سی کے مطابق جو ملازمین آتے ہیں وہ حلف نہیں لیتے ہوں گے، وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ شق سی والے کبھی بھی کورٹ مارشل نہیں کر سکتے، کورٹ مارشل ہمشیہ آفیسرز کرتے ہیں، جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ جرم کی نوعیت آرمڈ فورسز ممبرز بتائیں گے، وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ جرم کی نوعیت سے بنیادی حقوق ختم نہیں ہوتے۔
عزیر بھنڈاری نے کہا کہ بھارت کے آئین میں بھی ہمارے آئین کی 175 کی شق 3 جیسی شق موجود ہے، پارلیمنٹ بہت سی چیزوں کو خود کرتی ہے لیکن پارلیمنٹ ہر چیز بھی نہیں کرتی، جو پارلیمنٹ نہ کرے وہ عدلیہ کرسکتی ہے، برطانیہ میں بھی ایسا ہے، برطانوی پارلیمنٹ کو عدلیہ کہ جانب سے کیا جاتا رہا کہ اس معاملے کو دیکھیں، 10 سال تک پارلیمنٹ نے نہیں کیا تو انہوں نے خود کر دیا۔
میرے ہاتھ عدالتی نظیروں نے باندھ رکھے ہیں: عزیر بھنڈاری
وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ میں عدالتی دائرہ اختیار کی کمی کا قائل نہیں، میں چاہتا ہوں عدالتی دائرہ اختیار میں وسعت ہو، میرے ہاتھ عدالتی نظیروں نے باندھ رکھے ہیں۔
جسٹس محمد مظہر نے ریمارکس دیئے کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ڈیکلریشن عدالتیں دیتی ہیں جس پر وکیل عزیر بھنڈاری نے مؤقف اپنایا کہ ضیاء دور کی ترامیم بے نظیر بھٹو کیس میں عدالت نے کالعدم قرار دیں، پارلیمنٹ کو آئین سازی، ترمیم اور ترمیم واپس لینے کے اختیارات ہیں، اگر قانون غلط ہو تو لوگ عدالتوں میں اسکے خلاف آتے ہیں، اقبال ظفرا جھگڑا کیس میں عدالت نے کولیکشن آف ٹیکس 1937 ختم کیا، کورٹ مارشل کا جو سسٹم موجود ہے وہ 175 اے میں نہیں آتا۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر کوئی شخص 2 ون ڈی ون میں آتا ہے تو پھر کیا ہو گا؟ عزیر بھنڈاری نے استدلال کیا کہ اس بنیاد پر آپ کورٹ مارشل سسٹم کو سٹرائیک ڈاؤن نہیں کرسکتے، ہمارا مدعا یہ ہے کہ کورٹ مارشل سسٹم میں عام سویلینز کو نہیں ڈالا جا سکتا، جن کو کورٹ مارشل سسٹم میں ڈالا گیا ان کو نہیں ڈالا جا سکتا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل استفسار کیا کہ 2 ون ڈی ون کو نکال دیں تو پھر؟ عزیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ کورٹ مارشل کا سسٹم پھر بھی چلے گا، ٹرین چل رہی ہے اس کو نہیں روکا جاسکتا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ یعنی ٹرین کو چلنے دیا جائے اور ایک بوگی نکال دیں، عزیر بھنڈاری نے مؤقف اختیار کیا کہ جسٹس منیب اختر نے اپنے فیصلے میں کورٹ مارشل کا تاریخی تناظر پیش کیا، جسٹس منیب اختر نے بھی فیصلے میں لکھا کہ کورٹ مارشل کو ختم نہیں کیا جاسکتا لیکن انہوں نے فیصلہ دیا کہ سویلینز کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ کے سلمان اکرم راجہ نے تو جسٹس منیب اختر کے فیصلے سے اختلاف کیا، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں اور میرا موکل جسٹس منیب کے فیصلے سے قطعاً متفق نہیں، اگر سویلینز کا گٹھ جوڑ ہو تو پھر کیا آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل ہو گا؟
وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ آئین بننے سے پہلے کے جاری قوانین کا بھی عدالت جائزہ لے سکتی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ 2 ون ڈی ون کو نکالنے کے باوجود بھی کیا ملڑی جسٹس سسٹم چلتا رہے گا؟
سویلینز کے ٹرائل صرف 175 کے تحت ہی ہو سکتے ہیں: وکیل
عزیز بھنڈاری نے مؤقف اپنایا کہ ٹرین چلے گی سوال ہے کہ کس کو بٹھایا جا سکتا ہے کس کو نہیں، جسٹس منیب کے فیصلے سے بھی کورٹ مارشل جاری رہنے کا تاثر ہے، اگر چہ مارشل لاء میں بھی پارلیمان کے زریعے بہتری کی آپشنز موجود ہیں، فوجی عدالتیں 175 سے باہر ہیں، سویلینز کے ٹرائل صرف 175 کے تحت ہی ہو سکتے ہیں، فوج 245 کے دائرہ سے باہر نہیں جا سکتی۔
سماعت میں وقفہ
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ کیا (3)8 کے مقصد کیلئے بنائی گئی عدالتیں دوسروں کا ٹرائل کرسکتی ہیں؟ آئین کے تحت آرمڈ فورسز ایگزیکٹو کے ماتحت ہیں، کیا ایگزیکٹو کے ماتحت فورسز عدالتی اختیار کا استعمال کرسکتی ہیں یا نہیں؟ کیا عدالتوں کو آزاد ہونا چاہیے یا نہیں؟ جس پر عزیر بھنڈاری نے کہا کہ وقفے کے بعد عدالتی سوالات کے جوابات دوں گا اور ساتھ ہی عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا۔