تعلیم جب اولین ترجیح نہ تھی!!!

 بالکل یہ ایک اٹل ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم و تربیت یعنی علم و تعلم کبھی بھی ریاست کی اولین ترجیح نہیں رہی ورنہ پاکستان جیسے مالامال ملک80ہزار ارب روپے بیرونی  قرضے تلے دب کر نہ رہتا اقراء کی اہمیت افادیت بلکہ فرضیت غار حراء میں نازل ہونے والی پہلی وحی سے واضح اور ثابت ہے ہمارے جوانوں میں صلاحیتوں محنت اور آگے بڑھنے کی جستجو کی کمی ہے اور نہ ہی قدرتی وسائل کی ناپیدگی کا خلا پایا جاتا ہے اگر کوئی کمی ہے تو ہماری قیادت اور پالیسی ساز اداروں کی ہے جنہوں نے تعلیم و تربیت کو یکسر نظر انداز کرکے اپنی تمام تر توجہ محض کرکٹ پر مرکوز رکھی ستاروں پر کمند ڈالنے والوں کی کمی نہ تھی مگر کیا کریں کہ ہم نے یہ کام دوسری اقوام پر چھوڑ دیا اور یوں انہوں نے ہمارے اسلام ہی کے اقراء سے استفادہ کرتے ہوئے ہم جیسے بے ہمت اور ناعاقبت اندیش لوگوں کو کوسوں پیچھے چھوڑ دیا‘ موجودہ دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جو شرح خواندگی میں ہم سے پیچھے ہو اور ایسا ملک بھی آپ کو کہیں نظر نہیں آئے گا جہاں پر تعلیم و تربیت کے پانچ نظام بیک وقت رائج ہوں یہی وجہ ہے کہ ایک مثبت تعمیری اور جمہوری معاشرے کی تعمیر دنیا بلکہ کم از کم ایشیا کی پانچویں معیشت بنتے اورپولیو اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے ہمارے دعوے کھوکھلے ہی ثابت ہو رہے ہیں اخلاقیات کی تعلیم کو بھلا کر کردار سازی میں حد درجہ پسماندہ بلکہ کہیں کے بھی نہیں رہے اگر فضول خرچی میں روایتی طریقوں کو خیرباد کہہ کر ہماری سیاست کاروبار کی جگہ خدمت‘ قومی تعمیر‘ نجات اور ترقی کا ذریعہ بن جائے تو ہماری جمہوریت اور طرز حکمرانی میں پائی جانے والی تمام تر خامیاں اور کوتاہیاں خودبخود دور ہو جائیں گی ہاں بالکل اس طرح کرنا ہوگا سب سے پہلے تو تعلیم و تربیت کو ریاست کی تمام تر ترجیحات پر فوقیت دینا ہوگی ساتھ ہی رموز جمہوریت کو جانچنے کے لئے افلاطون اور علامہ اقبال کا مطالعہ کرنا ہوگا موجودہ پالیسیوں‘ نت نئے ناکام تجربات اور اخراجات یعنی بجٹ میں تعلیم کو کہیں پر بھی نہ رکھنے کے جو نتائج منطقی طور پر ہوا کرتے ہیں وہ اس وقت ہمارے سامنے ہیں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک کی امداد کے باوجود ہم صحت مند ہوئے اور نہ ہی تعلیم یافتہ لہٰذا اب وقت ہے کہ تعلیم کو بذریعہ آمدن یعنی روزگار اور تجارت بنانے کی بجائے قوم کا قبلہ درست کرنے اور تمام ترمسائل مشکلات محرومیوں اور چیلنجز سے نجات کا راستہ قرار دے کر وسیع تر سرمایہ کاری کیلئے مگر مکمل بلکہ کڑے احتساب کیساتھ آگے بڑھیں اعلیٰ تعلیم کو صوبوں کے حوالے کرکے بازیچہئ اطفال بنانے کی بجائے اس کا انتظام و انصرام اور سرپرستی قومی سطح پر رکھی جائے ساتھ ہی محض لیپ ٹاپ کے لالی پاپ کی بجائے آگے بڑھنے کے اہل طلباء وطالبات کیلئے مختلف فائدہ مند پروگرامات شروع ہوں تاکہ قومی ذہنیت اور صلاحیت کو ملکی مفاد میں استعمال ہونا ممکن ہو سکے‘ شعبہ تعلیم میں سرمایہ کاری اور اپنے محنتی باصلاحیت مگر نادار طلباء کی داد رسی کوئی ناممکن کام نہیں بشرطیکہ ریاست روایتی فضول خرچیوں‘ نمودونمائش اور پروٹوکولی اخراجات سے جان چھڑا کر وہ پیسہ تعلیم کے لئے مختص کر دے یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ موجودہ برائے نام تعلیمی بجٹ‘ مختلف نصاب اور نظام ہائے تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کی قومی حیثیت ختم کرنے کی صورت میں ہم بحیثیت قوم اس قابل ہو ہی نہیں سکتے کہ تعلیم میں دنیا کو چھوڑ کر صرف اس خطے کے کسی ملک کا ہم پلہ بن سکیں۔