آئس لینڈ میں خوفناک آتش فشاں پھٹنے سے بڑی تباہی کا خدشہ، تمام شہری محفوظ مقامات پر منتقل

ریویک: آئس لینڈ کے جنوبی حصے میں واقع ماہی گیری کے گاؤں گرینڈاوِک میں ایک شدید آتش فشاں پھٹنے کے بعد حکام نے فوری طور پر تمام شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔

منگل کی صبح 9:45 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق 12:45 بجے) آتش فشاں کے دھماکے کے بعد لاوے نے حفاظتی رکاوٹوں کو توڑ دیا، جس سے پورا گاؤں خطرے میں آ گیا۔ حکام کے مطابق، یہ دیواریں 2023 میں کار کے سائز کے پتھروں سے تعمیر کی گئی تھیں تاکہ ممکنہ آتش فشانی خطرات کو روکا جا سکے۔

زلزلے کے جھٹکوں کی پیش گوئی کے بعد لگژری سیاحتی مقام "بلیو لیگون" سے پہلے ہی تمام سیاحوں کو نکال لیا گیا تھا۔ تاہم، کچھ مقامی افراد نے انخلاء کے احکامات پر عمل نہیں کیا، جس پر پولیس کمشنر الفار لوووِکسن نے خدشات کا اظہار کیا۔

حکام نے دوپہر 3 بجے (پاکستانی وقت) اعلان کیا کہ گرینڈاوِک کو مکمل طور پر خالی کر دیا گیا ہے۔ 2023 میں شروع ہونے والی آتش فشانی سرگرمیوں کے باعث زیادہ تر لوگ پہلے ہی نقل مکانی کر چکے تھے، تاہم تقریباً 40 گھر اب بھی آباد تھے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آتش فشانی دراڑیں ایک کلومیٹر سے زیادہ طویل ہو چکی ہیں اور ایک نئی دراڑ بھی بن چکی ہے۔ یہ آئس لینڈ میں 2021 سے اب تک ہونے والا 11واں بڑا آتش فشاں دھماکہ ہے۔

آئس لینڈک میٹرولوجیکل آفس کے مطابق، فی الحال کسی نئے زلزلے کی سرگرمی کا اندیشہ نہیں، مگر یہ آتش فشانی سلسلہ کئی سال بلکہ صدیوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئس لینڈ بحرِاوقیانوس کی درمیانی ریج پر واقع ہے، جہاں شمالی امریکہ اور یوریشین پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ علاقہ ہمیشہ زلزلوں اور آتش فشانی خطرات کی زد میں رہتا ہے۔