رواں برس عیدالفطر کا سیزن تاجروں کے لیے انتہائی مایوس کن ثابت ہوا کیونکہ خریداری کی شرح میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ ہوشربا مہنگائی، معاشی بدحالی اور قوتِ خرید میں خطرناک حد تک کمی کے باعث عید کی روایتی چہل پہل بے رنگ ہو گئی۔
آل کراچی تاجر اتحاد کے مطابق رمضان کے آخری عشرے میں بھی خریداروں کا رجحان مایوس کن رہا، جبکہ مارکیٹوں میں چہل پہل کے باوجود خریدار کم نظر آئے۔ تاجروں کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں عید خریداری میں 25 تا 30 فیصد کمی ہوئی، جبکہ قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تاجروں کے مطابق 60 تا 70 فیصد اسٹاک فروخت نہیں ہو سکا اور بمشکل 15 ارب روپے کا مال فروخت ہو پایا۔ آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر کے مطابق مہنگائی اور مسلسل بڑھتے ہوئے معاشی بحران نے عوام کی عید کی خوشیاں چھین لی ہیں۔
عید شاپنگ زیادہ تر خواتین اور بچوں کے سستے ملبوسات، جوتے، کھلونے، مصنوعی جیولری اور زیبائش کے سامان تک محدود رہی، جبکہ بیشتر افراد نے صرف ایک سوٹ خریدنے پر اکتفا کیا۔
سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث تاجر بڑے پیمانے پر اسٹاک رکھنے سے بھی ہچکچا رہے ہیں۔ رمضان میں مصنوعی مہنگائی مافیا اور سرکاری اداروں کی ملی بھگت سے اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں، جس سے غریب طبقہ شدید متاثر ہوا۔
تاجر رہنماؤں نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رمضان میں ڈاکو، پولیس اور لٹیرے ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئے، جبکہ پارکنگ مافیا نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔