وطن عزیز کی سڑکوں پر موٹر سائیکلوں کے حادثات کے باعث روزانہ درجنوں ہلاکتیں ہو رہی ہیں شاذ ہی کوئی ہیلمٹ پہن کر موٹر سائیکل چلاتا ہو ٹریفک پولیس نے موٹر سائیکل چلانے والوں کو لگتا ہے کہ جیسے کھلی چھٹی دے رکھی ہو کہ وہ سڑکوں پر ون ویلنگ بھی کرتے پھریں والدین بھی اپنے بچوں کو بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے سے منع نہیں کرتے اس لئے روزانہ کئی موٹر سائیکل سوار یا تو ٹریفک حادثات میں لقمہ اجل بن رہے ہیں اور یا بھر جسمانی طور پر معذور ہو رہے ہیں۔ مقننہ کو فوراً سے پیشتر قانون میں ترمیم کر کے اس ضمن میں سخت قوانین پر مشتمل بل پاس کرنا ہو گا اور ٹریفک پولیس کو موٹر سائیکل بغیر ہیلمٹ چلانے والوں کو نکیل ڈالنا ہو گی اور اگر کوئی جواں سال لڑکا یا لڑکی کو بغیر ہیلمٹ پکڑا جائے تو اس کے والد یا سربراہ کے خلاف بھی پولیس پرچہ کاٹے کیا ہی اچھا ہو اگر ان کا موٹر سائیکل بھی بحق سرکار ضبط کر لیا جائے اور ان کا ڈرائیونگ لائسنس دس سال کے لئے کینسل کر دیا جائے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ آج وطن عزیز کے کئی شہر ایسے ہوں گے کہ جن میں وہاں کے کسی میونسپل ادارے کے پاس کوئی فعال اور قابل اعتبار فائر بریگیڈ سسٹم موجود ہو کہ جو کسی جگہ ناگہانی لگی آ
گ کو بجھانے کی صلاحیت رکھتا ہو لامحالا متعلقہ حکام کو افواج پاکستان یا کنٹونمنٹ بورڈ کے فائر بریگیڈ سے مدد مانگ کر ان کے فائر بریگیڈ پر تکیہ کرنا پڑتا ہے یہ یقینا ایک بہت بڑا
افسوسناک امر ہے۔ تو بات ہو رہی تھی موٹر سائیکلوں کے انبار کی جو ملک بھر کا مسئلہ ہے ویسے تو موٹر سائیکل ایک ایسی سواری ہے جو سستی بھی ہے اور اندرون شہر گلیوں میں رہائش پذیر لوگوں کے لئے‘ اس لئے بھی اچھی ہے کہ گھر کی دہلیز سے اس کی سواری شروع ہو جاتی ہے تاہم وہ جو پہلے کہا کہ اس کے استعمال میں بے احتیاطی دن بدن بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے‘ ہیلمٹ کا استعمال جب تک کوئی بھی حادثے کی صورت میں خود دیکھ نہ لے یا پھر کسی سے سن نہ لے اس
کی افادیت کو نہیں جان سکتا‘ اس لئے یہ والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ہیلمٹ لازمی پہنائیں اور اس کے لئے ضروری یہ بھی ہے کہ وہ خود بھی ہیلمٹ پہنیں‘ جب وہ خود ہیلمٹ پہنیں گے تو لازم ہے کہ ان کے بچے بھی بڑوں کی تقلید کریں گے‘ ہیلمٹ کا استعمال اس لئے بھی ضروری ہے کہ پچھلے تین چار دنوں کے دوران یعنی عید الفطر کے دوران بڑی تعداد میں ملک بھر میں موٹر سائیکلوں کے حادثات رونما ہوئے جن میں متعدد اموات بھی ہوئیں اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے ان حادثات میں دیکھنے میں آیا کہ جن سواروں نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا وہ تقریباً سب کے سب ہی کسی بڑے حادثے کا شکار ہونے سے محفوظ رہے اور زیادہ تر زخمیوں نے ہیلمٹ نہیں پہن رکھے تھے اس لئے وہ آج ہسپتالوں یا گھروں میں تکلیف دہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہیلمٹ کی افادیت سے نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں کو بھی آگاہ کیا جائے اور بات جہاں تک ون ویلنگ کی ہے تو نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پولیس کی غفلت سے یہ کھیل دن بدن فروغ پا رہا ہے اور اس کے تدارک کے لئے رسمی سی کاروائیاں کی جاتی ہیں کوئی ٹھوس کاروائی نہیں کی جاتی۔