بھارت میں مسلمانوں کی جائیداد پر قبضے کا متنازع وقف قانون منظور کرلیا گیا جس پر اپوزیشن جماعتوں اور مسلم رہنماؤں کی جانب سے سخت احتجاج کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں ہندو انتہا پسند حکومت نے مسلمانوں کی وقف املاک پر قبضہ جمانے کیلئے“وقف ترمیمی بل 2025“ کو لوک سبھا سے منظور کروا لیا۔
رپورٹ کے مطابق متنازعہ بل لوک سبھا میں 12 گھنٹے کی بحث کے بعد منظور کیا گیا، بل کی حمایت میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔
وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں منظوری کے بعد آج ہی راجیہ سبھا میں پیش ہو گا۔
کانگریس رہنما سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ وقف ترمیمی بل آئین پر بڑا حملہ ہے، مودی حکومت آئین کو بھی برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
وہیں پارلیمنٹ میں آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے رہنما اسدالدین اویسی نے متنازعہ بل کی کاپی پھاڑ کر کہا کہ یہ قانون آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو مسلمانوں کے مذہبی اور جائیدادی حقوق کو سلب کرنے کی کوشش ہے۔
وقف بل کیا ہے؟
مودی سرکار نے املاک پر قبضہ کرنے کے لیے مسلمانوں کی وقف کردہ زمین کے انتظام میں یہ منصوبہ بنایا ہے جس سے بھارتی حکومت اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
زمینیں اور جائیدادیں وقف کے زمرے میں آتی ہیں اور مذہبی، تعلیمی یا خیراتی مقاصد کے لیے کسی مسلمان کی جانب سے عطیہ کی گئی اراضی کو منتقل یا فروخت نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت اور مسلمان تنظیموں کا اندازہ ہے کہ وقف بورڈ کے پاس تقریباً 8 لاکھ 51 ہزار 535 جائیدادیں اور 9 لاکھ ایکڑ اراضی ہے جس سے ان کا شمار بھارت کے سرِ فہرست تین بڑے زمینداروں میں ہوتا ہے۔