ان دنوں بس وہی چند لمحے نسبتاََ خوشگوار ہوتے ہیں جب آپ فجر کے آس پاس کھڑکی میں کھڑے ہوتے ہیں اور صبح کی لطیف ہوا میں شامل ہلکی سی خنکی آپ کے دل کی کلی اگر نہیںبھی کھلاتی تو چہرے کے تناو¿ میں بڑی حد تک کمی آ جاتی ہے مگر یہ لمحے جاڑے کی دھوپ کی طرح بہت مختصر ہوتے ہیں جاڑے کی دھوپ میں بھی جب آپ کو سکون ملنے لگتا ہے دھوپ ڈھل جاتی ہے، صبح کھڑکی میں لطیف ہوا کی خنکی کا مختصر دورانیہ بھی بہت دیر تک سرشار رکھتا ہے،مگر یہ سارا کھیل سورج کی پہلی کرن کی آمد تک ہی کھیلا جاسکتا ہے ،پھر جو موسم کی شدت اور سورج کی حدت مل کر سارا دن خبر لیتے رہتے ہیں ،اس کا تو احوال بیان کرنے سے بھی زبان پر چھالے پڑنے کا خدشہ ہے، اس پر بجلی کی آنکھ مچولی بھی جان کو آ جاتی ہے کیونکہ یہ آنکھ مچولی بھی بجلی ایسے کھیلتی ہے کہ جو ایک بار چھپ گئی تو پھر پورا شہرا سے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہلکان ہو جاتا ہے مگر ڈھونڈ نہیں پاتا، کہیں بچپن میں سنا تھا کہ کچھ دوست بیٹھے اپنے بزرگوں کی جوانی کے کچھ واقعات ایک دوسرے سے شیئر کر رہے تھے ایک دوست نے اپنے دادا جان کے بارے میں بتایا کہ جب وہ دریا میں غوطہ لگاتے تو چھ سات منٹ تک پانی میں رہ کر کئی گز آگے جا کر سطح پر نمودار ہوتے تو دوسرے دوست نے اس میں اضافہ کیا کہ میرے دادا جان کا غوطہ تو دس ،دس منٹ تک بھی جا پہنچتاتھا ان کی بحث بڑھ گئی کہ ایسا ممکن ہے یا نہیں تو تیسرے دوست نے کہا آپ سات اور دس منٹ پر جھگڑ رہے ہیں، میرے دادا جان نے ایک بار غوطہ لگا یا تھا اور آج پانچ سال ہو گئے ہیں اور سطح پر واپس نہیں آئے،مجھے لگتا ہے کہ جس دریا میں اس کے دادا جان نے غوطہ لگایا تھا یہ بجلی اسی دریا کے پانی سے بنتی ہے اس لئے اتنے طویل غوطے کی عادی ہو چکی ہے، سو بجلی سے تو امید نہیں کہ موسم کی اس شدت اور حدت میں کسی کی کوئی مدد کر سکے ،اس لئے بے بسی کے عالم میں آنکھیں اوپر کی طرف اٹھ جاتی ہیں مگر پشاور کے حصے کے فراخ آسمان پر دور دور تک کوئی ٹکڑا بادل کا دکھائی نہیں دیتا، ساون اب آخری سانسوں پر ہے اور اب تک تو ایک بوند بھی نہیں برسائی اس لئے یار لوگوں نے اب اور چار دنوں میں آنے والے بھادوں سے امیدیں باندھ لی ہیں ،شاید انہوں نے ابن انشا ءکی معروف و مقبول نظم ” دروازہ کھلا رکھنا“ کا یہ بند سن رکھا ہے یہ نظم مجھے بھی اسی
موسم میں خوب یاد آتی ہے۔
سینے سے گھٹا اٹھے آنکھوں سے جھڑی برسے
پھاگن کا نہیں بادل جو چار گھڑی برسے
برکھا ہے یہ بھادوں کی ، برسے تو بڑی برسے ۔دروازہ کھلا رکھنا
مگر ساون کی دیکھا دیکھی بھادوں بھی کم کم پشاور کی طرف اپنے مہربان بادل بھیجتا ہے اور کوئی بادل بھولے بھٹکے آئے بھی تو جیسے حاضری لگانے آ تا ہے،آیا چھاگلوں میں بچا کچھا پانی یہاں وہاں انڈیلا اور واپس لوٹ گیا وہ جو برسات کے موسم میں کبھی جھڑی لگتی تھی اور سات سات دن برستی بارش سورج کو ذرا بھی چہرے دکھانے نہیں دیتی تھی ، برسات کی وہ بہاریں جانے اب ادھر کا راستہ کیوں بھول بیٹھی ہیں، پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ ہلکان و پریشان کرنے والی گرمی سے کچھ کچھ سمجھوتہ ہونے لگتا ہے تو اچانک دوست مہرباں میجر عامر کا فون آ جاتا ہے اور پہلی بات ہی موسم کی ہوتی ہے،پوچھتے ہیں پشاور میںموسم کیسا ہے، شدید گرمی کا سن کر کہتے ہیں،” او ھو۔۔ یہاں اسلام آباد میں تو چھاچھوں مینہ برس رہا ہے، صبح سے ٹھنڈی ہوائیں میلہ لگائے ہوئے ہیں“ لیجئے صاحبو موسم کی حدت میں اور شدت پیدا ہو جاتی ہے، چھوٹی سکرین کی طرف دیکھیں تو کراچی اور لاہور کی سڑکیں نہروں اور ٹھاٹھیں مارتے دریاو¿ں کا روپ دھارتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں،پڑوسی ملک کے کئی شہر بھی یہی منظر دکھارہے ہیں ،قدرت کے نظام کے صدقے جاو¿ں ،ساون بھادوں کا یہ موسم جولائی اگست میں آ تا ہے اور ایک خیال آتا ہے کہ بارش ہو گی تو دل کی کلی بھی کھل اٹھے گی، انسان کو بچپن سے پانی کے ساتھ ایک انسیت اور لگاو¿ ہو تا ہے، جو ساتھ ساتھ ہی جوان ہو تا ہے ، اکثر موسم گرما کی سہ پہروں میں یار لوگ چھڑکاو¿ یا پودوں کو پانی دینے کے بہانے دیر دیر تک پائپ پکڑے پانی اچھال رہے ہوتے ہیں آپ سے کیا چھپانا مجھے اب بھی مو قع ملتا ہے تو کسی اور کو موقع نہیں دیتا ہوں۔
بلکہ مجھے یاد ہے کہ لڑکپن میں پانی کی جھالر سی سورج کے رخ پر بنا تے تھے اور پھر مقابلہ ہوتا تھا کہ بہتر اور واضح قوس و قزح کون بناتا ہے، برسات کے دنوں میں جب بھی جمعرات کی جھڑی لگتی اور اس کے بعد جب مطلع صاف ہونا شروع ہو تا تو آسمان کے کناروں کے درمیان بہت بڑی قوس و قزح بن جاتی میری والدہ مرحومہ کہتیں آج اور بارش نہیں ہو گی کیونکہ سورج اور بادلوں کی صلح ہو گئی ہے یہ اس صلح کی نشانی ہے اور واقعی پھر بارش نہیں ہو تی تھی، ویسے بارش پھاگن کی ہو جب سرما اپنے عروج پر ہوتا ہے یا گرما کے ساون بھادوں کی مجھے بہت بھاتی تھی مگر تب اکوڑہ خٹک کے گلی کوچے کچے تھے اور گھر سے باہر صرف کیچڑ ہی نہیں پھسلن بھی ہو تی اور کتنی بھی احتیاط کی جاتی بچے تو بچے بڑے بھی رپٹ ہی جاتے، برستی بارش میں اگر کبھی بازار یا کسی اپنے پرائے کے گھر جا نا ہو تا تو چھاتے کے طور پر گھر میں پڑی اناج کی خالی بوری کا برقعہ سا بنا کر نکل جاتے، میں نے پہلی چھٹری ساٹھ کی دہائی کے نصف آخر میں باہر کے سامان کی خرید و فروخت کے پہلے بازار ’ لنڈی کوتل ‘سے خریدی جب گورنمنٹ کالج نو شہرہ سے ہمیں ٹور پر لے جایا گیا، یہ ایک یادگار ٹور تھا ، کیونکہ نوشہرہ کالج صوبے کا واحد کالج تھا جس میں ” کو ایجو کیشن “ تھی ،بات چھتری کی ہو رہی تھی جو میں نے خرید تو لی تھی مگر پھر جیسے بارش پورے گاو¿ں سے روٹھ گئی تھی اور مجھے ایک طویل انتظار کرنا پڑا تھا جب پہلی بار بوری کی بجائے میں نے چھتری تلے خود کو بھیگنے سے بچایا تھا۔
کیونکہ تب برسات کی رت بیت چلی تھی اور پھاگن ابھی دور تھا،یہ اب جو پشاور میں ساون بھادوں کی رت میں بارش کا نہ ہونا مجھے کھلتا ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میں نے بچپن،لڑکپن اور اوائل جوانی کا ایک بڑا حصّہ گاو¿ں میں گزارا ہے جہاں برسات کھل کر برستی تھی اور ان دنوں اس رت میں گھروں میں مزے مزے کے پکوان بنتے تھے، مجھے یاد ہے کہ کوئی دو دہائیاں پیشتر جب میں کیپ کاڈ (امریکہ) میں دوست مہرباں اور ہمسایہ کالم نگار عتیق احمد صدیقی کے ” کیپٹن جوناتھن موٹل“ میں تھا ،تو ایک شام جب بارش تھی تو میں عتیق صدیقی کو آفس میں چھوڑ کر باہر نکل آیا اور موٹل کے وسیع لان کے ایک سائبان تلے لگے جھولے پر جھولنے لگا، کچھ ہی دیر میں عتیق صدیقی گرم گرم سوئیوں کا باو¿ل لے کر آ گئے، کہنے لگے کہ میں نے تمہاری بھابھی کو کہا ہوا ہے کہ جب یہ کچھ لکھتا ہے یا جب بارش ہوتی ہے تو اسے کچھ کھانے کی طلب ہو تی ہے ،سو اس نے تمہیں بارش میں بھیگتے اورجھولتے دیکھ کر یہ سوئیاں بنائی ہیں، واقعی یہ چونچلے برسات تک یا پشاور تک محدود نہیں ، البتہ گاو¿ں میں برسات کی رت میں گھر وں میںسوئیاں،حلوہ ، بطور خاص بیسنی روٹی اور میٹھی روٹی ( کلچہ شیریں ) سمیت بہت پکوان بنتے ،مگر شہر کے اپنے پکوان اور اپنے موسم ہیں بارش یہاں کم کم ہی برستی ہے اور جھڑی کا سماں بھی نہیں بندھتا، لیکن پشاور میں دور پار سے آنے والی ٹھنڈی ہواو¿ں اور بھیگے بھیگے موسم میں گاو¿ں کی برسات بہت یاد آتی ہے اور پھرکہیں سے خاور احمد کا شعر پاس آ بیٹھتا ہے اور آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگتے ہیں۔
بستیوں کے کتنے لڑکے رہ گئے شہروں کے بیچ
راہ تکتی رہ گئیں پگڈنڈیاں بارش کی شام