کچھ ذ ہن کے پردے میں چھپا لیتا ہے فنکار

جب چھوٹی سکرین پر پاکستان ٹیلی ویژن کا بلا شرکت غیرے راج تھا تو مختلف پروگراموں اور خصوصاََ ڈراموں میں چھوٹا سا کردار کرنے والے بھی دیکھنے والوں میں مقبول ہو جاتے تھے، اس لئے بہت سے احباب کی خواہش اور کوشش ہوتی کہ کسی طورشام کے وقت کی اکلوتی تفریح کا حصہ بن جائیں ،مرکزی کرداروں میں کاسٹ ہونے والے فنکار تو کم کم مگر سپورٹ کردار والے فنکاربہت تھے جن کو باری باری کام ملتا، پہچان کے سو بکھیڑے ہیں مگر ایک پر لطف سا سکھ بھی ہوتا ہے ، البتہ ان کے درمیان ایک مقابلے اور کھینچا تانی کی فضا بھی بنی رہتی کہ کس کے نام ٹی وی سے بلاوا آ تا ہے، اس لئے شام کے وقت اگر ان دوستوں میں سے کوئی ایک دوست بھی غیر حاضر ہوتا توباقی دوست پریشان ہو جاتے کہ۔” خدا نخواستہ ٹی وی تو نہیں گیا “ یہ پیشہ ورانہ رقابت ان کی ایک معصوم سی مجبوری تھی ورنہ وہ سارے فنکار بلا کے مہذب اور محبتی تھے، کچھ فنکار وں پر مزاحیہ کردارکی چھاپ لگی ہوئی تھی ان کو کام ملتا رہتا تھا کیونکہ ایک ہر ڈرامہ میں ایسے ایک دو کردار ضرور لکھے جاتے جو سنجیدہ ڈراموںکے ناظرین کو چند لمحوں کے لئے ” ڈرامیٹیک ریلیف“ دیتے ، پھر ہر ہفتے ایک مزاحیہ سیریل یا سیریز بھی آن ائیر ہوتی۔ اس لئے بہت سے فنکاروں کو پرفارمنس کا موقع ملتا رہتا، اس زمانے میں پشتو مزاح میں قاضی ملا،اسماعیل شاہد،گل بالی(مراد علی) کا طوطی بولتا تھا حالانکہ کچھ اور بہت اچھے فنکار بھی اپنے عمدہ کام کی وجہ سے مقبول تھے ،اور ان کے فین انہیں ڈرامے میں ادا کرنے والے کرداروں کی وجہ سے جانتے ،پکارتے اور پیار کرتے تھے،قاضی ملا نے بعد میں پشتوکے سٹیج ڈراموں کی عمدہ ڈائرکشن بھی دی۔ ، بعد میں اس کھیپ میں سید رحمان شینو اور عالمزیب مجاہد بھی شامل ہو گئے ، سید رحمن شینو ریڈیو سٹیج اور ٹی وی پر یکساں طور پر مقبول تھے ،ان دنوں مجھے ایک پراڈکٹ کی اشتہاری مہم کے طور پر پورے صوبے کے بڑے شہروں اور قصبوں میں جا کر وہاں کے لوگوں کے لئے تفریحی پروگرام کرنے کا موقع ملا تو جہاں موسیقی کے لئے اس وقت سٹیج پرفارمنس کے بادشاہ گلریز تبسم اور الماس خلیل میسر تھے وہاں ون مین شوکے لئے سید رحمان شینو بھی دستیاب تھے۔ ہم نے بہت یادگار اور شاندار پروگرام کئے جس میں حاضرین کی تعداد دس سے بیس ہزار تک ہوا کرتی۔میں نے ایک غیر ملکی این جی او کے لئے اردو سٹیج ڈرامہ ” کس کو کہہ رہے ہو “ لکھا تو چونکہ ڈائرکشن بھی میری اپنی تھی اس لئے میں نے مرکزی کردارمیں سید رحمان شینو کو کاسٹ کیا جس پر دبے لفظوں میں اعتراض بھی ہوا کہ وہ پشتو فنکار ہے، مگر سید رحمان شینو نے اپنی بے ساختہ اداری سے ایسی دھاک بٹھا دی کہ ڈرامہ ختم ہونے کے بعد ہر زبان پر شینو کا نام تھا۔ اور پورے ہال نے کھڑے ہو کر اور تالیاں بجا کر انہیں داد دی۔ اردو سٹیج ڈراموں میں پشتو کے عالمزیب مجاہد اور پشتو ہی کی بہت ہی شوخ اور چنچل فنکارہ خالدہ یاسمین کو بھی پہلے پہل میں نے ہی اپنے اردو ڈراموں اور میوزک شوز میں خاکوں کے لئے کاسٹ کیا، ،شروع کے زمانے میں پشتو کی مقبول گلوکارہ نازیہ اقبال گاہے گاہے یہ اعتراف کرتی تھی مگر ” پھر بڑی فنکارہ“ ہو گئی ( آٹھ سال کی عمر میں اس کی پہلی سٹیج پرفارمنس میرے شو میں تھی ) ، اسی طرح اردو پشتو اور ہندکو تینوں زبانوں کے ڈراموں اور شوز کی ایک مقبول فنکارہ آج بھی برملا اپنے شوز اور انٹرویوز میں کہتی ہے کہ مجھے کون اس فیلڈ میں لایا، میرے ایک ڈرامہ سیریل ” زندگی “ جس کے پروڈیوسر اورنگزیب آفریدی تھے ، کی آوٹ ڈور ریکارڈنگ باغ ناران میں ہو رہی تھی،ڈاکٹر ثروت کے ساتھ ایک چھوٹی لڑکی ریکارڈنگ دیکھنے آئے تھی پوچھا ڈرامہ میں کام کرو گی، شرما کر کہا کیوں نہیں اور آج و ہ” مینا شمس “ہے،اسی ڈرامہ میں جہاں کم و بیش پانچ چھے نئے لڑکوں اور ایک ایسی فنکارہ کو بھی کاسٹ کیا جو میرے پڑوس میں رہتی تھی اور ہروز مجھے ٹی وی لے جانے کا کہتی تھی میری شرط تھی کہ میٹرک میں اچھے نمبر لو گی تو دوسرے ہی دن ٹی وی لے جاو¿ں گا، وہ لڑکی بھی آج ” ارم سحر“ کے نام سے مقبول ہے، خیر یہ ایک لمبی کہانی اور فہرست ہے جس میں آج کے بڑے فنکار ہی نہیں بہت سے شاعر اور ادیب بھی شامل ہیں،،پشتو کے ساتھ ساتھ پشاور سٹیج اور پشاور ٹی وی سنٹر کے اردو ہندکو مزاحیہ فنکاروں میں جن فنکاروں نے ناظرین کے دلوں پر راج کیا ان میں صلاح الدین،شاد اخونزادہ،حفیظ برکی ،مسزشمس، ارباب وحید اور مقبول فنکار افتخار قیصر شامل ہیں، بابائے ہندکو کے ہندکو پروگرام ”دیکھا جاندا رہ “ کے ذریعے ہندکو کے بہت سے فنکارسامنے آئے اور یہ پروگرام راوالپنڈی سنٹر سے بھی نشر ہوتا، اس لئے یہاں کے فنکار پورے ملک بلکہ کیسٹ کے ذریعے پڑوسی ملک میں بھی مقبول تھے۔ شااید اسی وجہ سے انہیں نظر بھی لگ گئی کیونکہ شاد اخونزادہ،حفیظ برکی،عرفان مفتی،صفیہ رانی،صلاح الدین اور افتخار قیصر سمیت اس شو سے جڑے ہوئے کچھ اور فنکار بھی یکے بعد دیگرے بچھڑتے گئے۔ ان مزاحیہ کرداروں کی وجہ سے شہرت حاصل کرنے والے فنکاروں نے اردو کے کچھ یاد گارڈراموں میں بہت عمدہ سنجیدہ پر فارمنس بھی کی جن میں سے یوم آزادی کے حوالے سے طارق سعید کے ایک ڈرامے میں صلاح الدین نے ایک ہندو کردار میں بلا کی عمدہپرفارمنس اور ڈائیلاگ ڈیلیوری سے بتا دیا تھا کہ وہ کس کلاس کا فنکار ہے، اسی طرح افتخار قیصر نے میرے جتنے بھی ڈراموں میں کام کیا ہے ،ان کے کردار سنجیدہ ہی تھے، ان میں سندھی کلچر پر بنا ہوا میرا لانگ پلے ” کالا دوپٹہ “ بھی شامل ہے جس کے ہدایتکار دوست مہرباں عتیق احمد صدیقی “ تھے۔پشاور ٹی وی کے کچھ فنکار ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی سنجیدہ اداکاری سے ملک بھر میںخاص پہچان اور احترام حاصل کیا، ان میں بے بدل فنکار نجیب اللہ انجم اور عشرت عباس کو جب بھی مزاحیہ کرداروں میں کاسٹ کیا گیا تو انہوں نے اپنی چپ کرا دینے والی لا جواب پرفارمنس سے اپنے بہترین ورسٹائل فنکار ہونے کا ثبوت دیا ،اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب بہت بڑے فنکار ہیں ان کو سکرین پر اس لئے بھی رہنا چاہیئے کیونکہ ابھی ان کی زنبیل میں بہت فن پڑا ہوا ہے۔
 کچھ ذہن کے پردے میں چھپا لیتا ہے فنکار
 تصویر کا ہر نقش ہویدا نہیں کرتا