ہزاروں سال سفر کر کے پھر وہیں پہنچے

لیجئے ایک بار پھر گھروں سے باہر کی سرگرمیوں کے اوقات محدود کر دئیے گئے ہیں پارکس چھے بجے تک اور بازار دس بجے تک بند کرنے کے احکام جاری ہو گئے ہیں ‘ایک زمانے تھا جب قصبوں میں سر ِ شام اور شہروں میں عشا کے بعد لوگ گھروں میں سمٹ جایا کرتے تھے ، اور سحر خیزی عام تھی اور گھروں سے کام کاج کے لئے جانے والوں کو صبح کا تارا صبح بخیر کہا کرتا تھا، مقبول عامر نے سفر کی صبح کا نقشہ کچھ یوں کھینچا ہے۔
 نظر میں نقش ہے صبح ِ سفر کی ویرانی
 بس ایک میں تھا اور اک صبح کا ستارہ تھا
گویا ’ مسافر شب کو اٹھتے ہیں جو جانا دور ہوتا ہے ‘ بلکہ تب یہ تاثر بھی عام تھا کہ کھیتوں میں ہل چلاتے ہوئے کسان اپنے بیلوں کے دو سینگوں کے بیچ میں سے سورج کو طلوع ہوتا دیکھتے تھے اور جب شام کو کھیتوں سے واپس گھر وں کو لوٹ رہے ہوتے تو سورج ان کی پشت پر غروب ہو رہا ہوتا یہ دن فطرت کے قریب کے دن تھے، مگر پھرپہلے شہروں کی تہذیب میں رات دیر تک گھروں سے باہر رہنا رچ بس گیا پھر ان کی دیکھا دیکھی قصبوں نے بھی اپنی راتیں اجالنا شروع کر دیں، رہی سہی کسر کھیتوں کےلئے میسر آنے والے آلات و اوزار اور طریق کار نے پوری کر دی صبح سے شام تک ہل چلانے اور خود کو اپنے بیلوں کےساتھ ہلکان کرنے والوں کو ٹریکٹر نے چند گھنٹوں میں فارغ کردیا اور رہٹ سے پورا پورا دن پانی نکالنے والے بیلوں کوٹیوب ویل نے نجات دلا دی ،مزید یہ ہوا کہ کم وقت میں زیادہ کام نکلنے کی وجہ سے اب کسانوں کومنہ اندھیرے گھروں سے جانے کی سرے سے ضرورت نہ رہی،یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا ،سہولتوں اور سہل پسندی کا یہ زہر غیر محسوس طریقے سے آہستہ آہستہ رگوں میں دوڑنے لگا، اور جب تک یار لوگوں کو اس کا علم ہوتا بہت دیر ہو چکی تھی، سو وہ شہر ہوں کہ دیہات رفتہ رفتہ زندگی کا چلن اور سے اور ہو گیا،یہی وہ زمانہ تھا کہ دیہاتوں سے لوگوں نے شہر کا رخ کیا، پہلے پہل شہر جانے والے شام سے پہلے پہلے واپس آجایا کرتے، اور شہر میں شب بسری کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا بھلے سے دوسرے دن پھرشہر کیوں نہ آنا پڑے ،اور کسی مجبوری کے تحت ایسا ممکن ہو جاتا تو پھر خاور احمد کہہ اٹھتا۔
 بستیوں کے کتنے لڑکے رہ گئے شہروں کے بیچ
 راہ تکتی رہ گئیں پگڈنڈیاں بارش کی شام
مگر شہروں کی طرف دیہاتوں سے ہجرتوں کا یہ سلسلہ دراز ہو تا گیا اور پھر جو بھی چند دنوں کے لئے شہر جاتا وہیں کا ہو کر رہ جاتا، ایک ہندی نظم میں شاعر کہتا ہے کہ ” جو بھی شہر جاتا ہے لوٹ کر نہیں آتا ،آخر شہر میں ایسا کیا ہے جو دیہاتوں سے جانے والوں کو واپس نہیں آنے دیتا، یہ راز جاننے کے لئے میں شہر دیکھنے گیا اور پھر کبھی لوٹ کر نہ آیا “ شہروں کی فراخ دلی اور شہریوں کی فیاضیوں نے نئے آنے والوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا اور نئے آنے والوں نے بھی شہر کو بنانے سنوارنے میں دل و جان سے اپنا کردار ادا کیا، کوئی مانے نہ مانے یہ ایک حقیقت ہے کہ شہروں کی ترقی میں دیہات سے آنے والوں کا حصہ زیادہ ہے ،جس کی ایک روشن مثال مملکت خدا داد کے عروس البلاد کی ہے ، لیکن بایںہمہ شہروں کی طرف جانے والوں کو کچھ لوگوں کو اپناگاو¿ں نہیں بھولتا اور جب بھی موقع ملتا ہے کچھ دن گزارنے ضرور آجاتے ہیں ،مجھے یاد ہے کہ بچپن میں گرمی کی چھٹیوں میں یا شادی بیاہ کے موقع پرہمارے محلے کی پشاور میں رہائش پزیر قریشی فیملی کے بڑے اپنے بچوں کو گاو¿ں لےکر آتے تو محلے میں ایک میلہ سا لگ جاتا،میرے ہم عمر معروف شاعر خالد رو¿ف قریشی(کینیڈا) سے میری دوستی تب سے ہے اور اب تک اسی طرح قائم ہے، ہم ایک دوسرے کا حافظہ ہیں جس کا ذکر میں نے ان کے کسی شعری مجموعہ کے پیش لفظ میںبھی کیا ہے۔ تب بھی میںسوچا کرتاتھا کہ لوگ اپنا گاو¿ں چھوڑ کر کیسے شہر کو اپنا لیتے ہیں ،لیکن پھر یوں بھی ہوا کہ مجھے یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا اور کہنا پڑا
 کچھ شہر کی شاموں میںبھی اک سحر تھا ناصر
 کچھ گاو¿ں کی صبحوں نے بھی ہم کو نہ پکارا
 شہروں کی آبادی بدلی مختلف مزاج کے لوگ آگئے تو روایتی رہن سہن میں بھی ایک بدلاو¿ آنا شروع ہوا، دن کو جلد سمٹنے والے کام اب زیادہ دیر لینے لگے اور باہر سے آنے والوں کے کھانے پینے اور رہائش کےلئے بازار دیر تک کھلے رہنے لگے، پشاور کی بات کی جائے تو یہاں قہوہ خانوں کا رواج تو تھا جب گھروں سے کھانا کھا کریار لوگ قہوہ پینے آتے اور دن بھر کی تھکن خوش گپیوں سے اتارکر چلے جاتے مگر باہر کے لوگ جو ابھی گھر بار نہیں بنا پائے تھے بازاروں میں دیر تک رہتے جس کی وجہ سے بازاروں کی رونق نصف شب اور سنیماو¿ں کے آخری شو ٹوٹنے تک کھلے رہتے، مانو جاگتا شہر سونا بھول بیٹھا تھا، باقی بازار بند بھی ہو جاتا مگر کھانے پینے کی دکانیں دیر تک کھلی رہتیں،پھر پکوان بھی بدلنے لگے ،روایتی کھانوںکی بجائے نئے پکوان رواج پانے لگے ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مختلف شہروں کے نام سے کھانے مشہور ہوئے ،بریانی کراچی کی تو پلاو¿ کابل کا،قلفہ لاہور کا تو نہاری دلی کی پشاور کے چپل کباب اور بہت بعد کے زمانوں میں نمکمنڈی کے تکے بھی شہرت پا گئے،ان سے پہلے قصہ خوانی کی پشت پر ہوٹل ان پکوانوںکےلئے مخصوص تھے، البتہ اسی علاقے میںجو پکوان پہلی بار خاص و عام میں مقبول ہوا وہ ” تاوانی پلاو¿ “ تھا ،رات دیر تک وہاں بہت بھیڑ رہتی، البتہ حیرانی یہ تھی کہ پشاور کا روایتی پلاو¿ ” چنا میوہ “ جسے پشاوری محبت سے ” چہلا پلاو¿“ کہتے ہیں ،وہ گھروں اور غمی خوشی کی تقریبات میں تو ملتا مگر بازار میںکہیں دستیاب نہ تھا(اب اس پلاو¿ کی ، ا پنی نوعیت کی ایک دکان کا افتتاح گزشتہ کل گل بہار میں ہوا ہے، خیر مگر اب تو موسم ایک بار پھراحتیاط کا چھانے لگا ہے اور ” ایک بار پھر گھروں سے باہر کی سرگرمیوں کے اوقات محدود کر دئیے گئے ہیں پارکس چھے بجے تک اور بازار دس بجے تک بند کرنے کے احکام جاری ہو گئے ہیں ۔ایک زمانے تھا جب قصبوں میں سر ِ شام اور شہروں میں عشا کے بعد لوگ گھروں میں سمٹ جایا کرتے تھے “ لگتا ہے سرکار کا حکم ٹائم مشین ہے گویا ہمیں ایک بار پھر اس زمانے میں لے جایا جارہا ہے۔، وحید اختر یاد آگئے۔
 ہزاروں سال سفر کر کے پھر وہیں پہنچے
 بہت زمانہ ہوا تھا ہمیں زمیں سے ملے