افغانستان کتنا پیارا، کتنا نیارا، کتنا راج دلاراملک تھا اور پھر اسے نظر لگ گئی جس نے ڈالی بری نظرڈالی۔مجھے جب کبھی پوچھا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں کس ملک کے زمینی مناظر نے آپ کو متاثر کیا تو میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ یہ افغانستان کی وسیع تیز ہواؤں میں شوکتی ویرانیاں اور بلندیاں ہیں جو میرے دل پر اثرا نداز ہوتی ہیں۔ کابل سے قندھار جاتے ہوئے ایک بار ہماری بس کا ٹائر پنکچر ہوگیا چونکہ فالتو ٹائر کی سہولت حاصل نہ تھی اس لئے ڈرائیور صاحب سب مسافروں کو ایک ویرانے میں چھوڑ کر ایک اور بس پر سوار ہوکر جانے کونسے قصبے کو کوچ کر گئے جہاں سے ٹائر کو پنکچر لگوایا جاسکتا تھا میں سڑک سے اتر کر ایک نیم صحرائی سرزمین پر چلتا ان پہاڑوں کی قربت میں چلا گیا جن کی عظمت میں ایک آبائی دہشت تھی۔ یوں تن تنہا اس ویرانے میں بیٹھے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ کائنات ابھی ابھی تخلیق ہوئی ہے اور کن فیکون کی گونج ابھی ہواؤں میں ہے۔ ان زمانوں کا کابل ایک سحر انگیز شہر تھا۔ یورپ سے جو ہپی ٹریل شروع ہوکرنیپال تک جاتا تھا اس کے راستے میں ہرات‘ قندھار اور کابل جیسے شہر آتے تھے اور غیر ملکی سیاحوں کے ہجوم ان قدیم شہروں کے کوچہئ و بازار میں آزادی سے گھومتے تھے۔ افغان ان غیر ملکیوں کی بے حد قدر کرتے تھے، ان کیساتھ حسن سلوک سے پیش آتے تھے کہ یہ ہمارے مہمان ہیں۔ کابل کا بازار مرغ جسے عرف عام میں چکن مارکیٹ کہا جاتا تھا، کھٹمنڈو کے بازار تھمل کی مانند سیاحوں کا پسندیدہ بسیرا تھا چائے خانوں اور افغانی نوادرات کی دکانوں سے یہ بازار مرغ بھرا پڑا تھا۔ان دنوں لاہوریوں کیلئے کابل جانا ایک فیشن تھا۔ لاہور سٹیشن سے خیبر میل آٹھ بجے شب چلتی تھی۔ تقریباً چھ بجے پشاور پہنچتی تھی۔ سٹیشن سے ٹانگے پر سوار ہوکر بس سٹیشن پر پہنچئے جہاں کابل کیلئے پہلی بس آٹھ بجے کے قریب روانہ ہوتی تھی۔ طورخم اور جلال آباد کے راستے آپ چار بجے قریب کابل پہنچتے تھے اور آپ کیسے سحر انگیز شہر میں ہوتے تھے جس کی خنکی سے لبریز ہوا شفاف اور کھنکتی ہوتی تھی، بدن میں اترتی تھی تو کسی سمفنی کی مانند گونجنے لگتی تھی۔ کوہ ہندوکش کی بلندیوں پر برفیں براہ راست آپ کو تازگی کے بو سے روانہ کرتی تھیں۔ قدیم چائے خانوں کے دھواں آلود ماحول میں لمبے چوغے پہنے پگڑیوں والے بزرگ آپ کو اپنے برابر میں جگہ دے کر بدخشاں کی جھیلوں سے منسلک عجیب و غریب داستانیں سناتے تھے۔لاہور سے جانیوالے اکثر حضرات انڈین فلموں کے چاؤ میں وہاں جاتے تھے کہ ابھی وی سی آر وغیرہ ایجاد نہیں ہوئے تھے۔۔ یہ صرف افغان عوام تھے جنکے دل میں ہم پاکستانیوں کیلئے نرم گوشہ تھا ورنہ وہاں ماضی میں جو بھی حکومت ہوتی پاکستان کی جانی دشمن ہوتی۔یہاں تک کہ پاکستانی صرف چند ایک تھرڈ کلاس ہوٹلوں کے سوا کہیں اور قیام نہ کرسکتے تھے تاکہ ان پر کڑی نظر رکھی جاسکے۔البتہ انڈین حضرات کھلے عام پھرتے تھے ایک ایسے ہی ہوٹل میں جو دریا کے پار تھا مجھے ایک ایسا کمرہ نصف کرائے میں پیش کیاگیا جس میں ایک جرمن ٹورسٹ کی لاش پڑی تھی۔ ہوٹل کا مالک اس کافر کے بچے سے سخت خفا تھا جو اس کے کمرے میں مر گیا تھا”تم دوسرے بستر پر سوجانا۔ ایک لاش نے تم سے کیا کہنا ہے اور کرایہ بھی آدھا۔۔“کابل سے پانچ چھ گھنٹوں کی مسافت پر وادیئ بامیان تھی جس کی آب و ہوا اور خوبصورتی بے مثل تھی۔وہاں بند امیر نامی جھیلیں ایسی تھیں کہ ویرانوں میں وہ نیلاہٹ کے جزیرے دکھائی دیتی تھیں۔ بہت سارے سیاّح ادھر کا رخ کرتے اور ان کے کناروں پر خیمہ زن ہوکر ان کے شیشہ پانیوں میں ڈبکیاں لگاتے۔ اور پھر وہاں وہ د نیا کے سب سے بلند اور بڑے بدھ مجسمے تھے۔میں ہر بار بامیان جانے کا ارادہ کرتا لیکن ہمیشہ سوچتا کہ یورپ سے واپسی پر چلا جاؤں گا اور میں نہ جاسکا اور وہ چلے گئے۔۔۔مجھے یہاں قندھار کی وہ شب بھی یاد آتی ہے جب پاکستانی کونسل خانے میں چائے پینے کی پاداش میں افغان سی آئی ڈی کے ایک جاسوس صوفی صاحب میرا پیچھا کرنے لگے تھے اور پھر نصف شب ایک نوجوان اہلکار شاید مجھے گرفتار کرنے کیلئے میرے ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوگیا تھا۔میں نے اسے یقین دلایا کہ میں پاکستانی جاسوس نہیں ہوں، محض ایک ادیب ہوں اور یہ میری خوش قسمتی تھی کہ وہ بھی فارسی میں افسانے لکھتا تھا اور پھر ہم تمام شب باتیں کرتے رہے تھے۔لیکن افغانستان کا سب سے پرفُسوں شہر ہرات ہے، قدیم ہرائے جسے سکندراعظم نے آباد کیا تھا۔۔ تیموری عہد کا نیلگوں عمارتوں والا شہر جہاں بہزاد ایسے عظیم مصور نے جنم لیا تھا۔ بے مثال کاریگروں، مصوروں اور شاعروں کا شہر۔ افغانستان کتنا پیارا، کتنا نیارا، کتنا راج دلارا ملک تھا اور پھر اسے نظر لگ گئی۔