چلے تھے یار بڑے زعم میں ہوا کی طرح

 اور پھر سوشل میڈیا پر کچھ دن اس مہم نے خوب زور پکڑا کہ پھل بہت مہنگے ہو گئے ہیں اس لئے آئیے پھل خریدنے کا بائیکاٹ کرتے ہیں اور شنید ہے کہ پھر پھل واقعی قدرے سستے ہو گئے تھے، معلوم نہیں کہ پھل کے سستے ہونے کی وجہ واقعی بائیکاٹ تھا یا محض یہ اتفاق تھا جسے یار لوگوں نے بائیکاٹ کے ساتھ جوڑ دیا مگر یہ بات سچ ہے کہ مہنگائی کے خلاف اس طرح کی مہم جوئی کرنے والے بھول گئے تھے کہ پھل خریدنا اور کھانا تو ایک عرصہ سے عام آدمی کی ترجیحات سے نکل چکا ہے، اب تو سبزی خریدنے سے پہلے بھی سو بار سوچنا پڑتا ہے پہلے پہل ٹماٹر اور پیاز کی قیمتوں کو پر لگ جایا کرتے تھے باقی سبزیاں اپنی اوقات ہی میں رہتی تھیں جن کی دیکھا دیکھی ٹماٹر بھی کچھ دن اونچی اُڑان میں رہ کر فورا َ َ زمین پر واپس آ جاتے لیکن اب تو ہر سبزی سولو فلائٹ پر ہے، کبھی دس پندرہ روپے کی سبزی خریدنے پر دکاندار دھنیا سبز مرچ بن مانگے دے دیتا تھا ،اب دھنیا یا مرچ مانگو تو پوچھتا ہے کتنے کی دوں ؟، کون کہہ سکتا تھا کہ ابھی سال دو پہلے تک بیس پچیس روپے کلو تک بکنے والی سیزن کی توری بھنڈی قسم کی سبزیاں دیکھتے ہی دیکھتے ا س وقت کم و بیش دو سو روپے کلو تک جا پہنچی ہیں،ویسے تو یہ مہنگائی کا عفریت ہمیشہ سے ہمارے آس پاس سانس لیتا رہتا ہے کچھ بھی کیا جائے کوئی بھی طلسم پھونکا جائے اسے دیس نکالا نہیں دیا جاسکا۔باز پرس پہلے تو ہوتی نہیں ہمارے ہاں اس کا رواج ہی نہیں ہے کوئی پوچھ بھی لے تو اسے یہ کہہ کر مطمئن کر دیا جاتا ہے کہ پیچھے سے مہنگی آ رہی ہیں یادش بخیر کوئی چار دہائیاں پیشتر پشاور کے جناح پارک میں مختلف سرکاری محکموں کے کلرک حضرات ایک بہت بڑے جلوس کی شکل میں آئے تھے اور ایک بڑا جلسہ منعقد ہوا تھا، دھواں دھار تقریریں کی گئی تھیں ، شرکاءکے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے جن پر مہنگائی کے خلاف اور اپنی کم تنخواہوں کے حوالے سے مختلف نعرے لکھے ہوئے تھے مجھے ان میں سے ایک نعرہ اب بھی یاد ہے جو بار بار سٹیج سے لگایا جا رہا تھا کہ ” کلرک کی تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر کی جائے“ میں ان دنوں اندر شہر بازار کے ایک کٹرہ میں رہتا تھا اور اندر شہر در اصل سونے کے زیوارت کی عالیشان دکانوں کا بازار تھا اب بھی ہے اس بازار میں تاریخی مسجد مہابت خان بھی ہے مجھے پشاور آئے ہوئے تھوڑے ہی دن ہوئے تھے اور میں اسی مسجد کے رہائشی کٹرہ مہابت خان کے کمرہ نمبر پچیس میں رہتا تھا وہاں تین چار کمروں میں تو میری طرح ہی کے مسافر رہتے تھے مگر اس سہ منزلہ کٹرہ کے باقی کمرے زیورات بنانےوالے کاریگروں کے پاس تھے سو میرے چاروں طرف سونا ہی سونا تھا مانو سونے کی کان میں رہتا تھا لیکن مجال ہے کہ کبھی پو چھا ہو کہ سونا کا نرخ کیا ہے، البتہ اس دن جب تنخواہ کو ایک تولہ سونے کے برابر کا نعرہ سنا تو اپنے کٹرہ میں داخل ہوتے ہی مرحوم مرتضیٰ استاد سے پو چھا تھاکہ ایک تولہ سونا کتنے کا ہے؟ جس کے جواب میں پہلے تو انہوں نے سوال کیا کہ شاہ جی سونا چاہئے یا؟ میں نے کہا مجھے کیا کرنا بس نرخ معلوم کرنا ہے انہوں نے جواب دیا آج کا نرخ ڈیڑھ سو روپے فی تولہ ہے، ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سوچا کہ کلرک بادشاہ تو بہت بڑی جمپ مانگ رہے اس وقت جونئیر کلرک کی تنخواہ 115 روپے اور سالانہ ترقی محض پانچ روپے تھی اور یہ ترقی 175 پر رک جاتی اور ایک تولہ کے برابر کا مطلب ایک دم پینتیس روپے بڑھانا تھا یہ وہ زمانہ تھا جب پشاور کے بے بدل طناز اور مزاحیہ شاعر مرزا سرحدی نے کہا تھا 
اب تو ہم بھی خوشی منائیں گے
 اب تو اوڑھیں گے ہم بھی دو شالے
پے کمیشن نے موج میں آ کر
ایک دم دو روپے بڑھا ڈالے 
 اور اس زمانے کی جس مہنگائی کے خلاف کلرک بادشاہ سڑکوں پر نکلے ہوئے تھے اور سرکار کے خلاف صف آرا تھے اس مہنگائی کا عالم یہ تھا کہ میں گھنٹہ گھرکے پاس زمیں پر انگیٹھی لگا کر بیٹھنے والے کشمیری تکہ کباب فروش سے تین سیخ تکہ گوشت لیتا تب کہ ہر سیخ میں آٹھ تکے ہوتے اور ایک روٹی جو کم ازکم وزن میں آج کے نان سے تین گنا زیادہ وزن کی ہوتی جس کے لئے میں چار آنے دیتا تھا جب مہنگائی بڑھی تو پہلے سیخ میں تکے آٹھ سے چھے ہوئے اور پھر ان کا سائز(وزن) کم ہو نا شروع ہو گیا ،تو پھر ڈنر بھی آٹھ آنے میں پڑتا، پھر وہ زمانہ آ گیا جب کلرک کی تنخواہ میں اضافہ ہوتے ہوتے بالآخر ڈیڑھ سو روپے مقرر ہوئی مگر بد قسمتی سے اس وقت تک سونا دو سو بیس روپے فی تو لہ ہو چکا تھا اور اب کشمیری تکہ فروش نے ایک دکان خرید لی تھی اور چار آنے کا ڈنر ڈھائی سے تین روپے تک جا پہنچا تھا، اور اندر شہر کے مغربی دروازے ( آسامائی گیٹ ) کے باہر دال کا ایک دیکچہ رکھ کر بیچنے والے میرے گاو¿ں کا سردار محمداب دروازے کے اندر اندر شہر کی پہلے آخری ایک دکان اور پھر ملحقہ دوسری دکان اور اس کے پیچھے کا بہت بڑا سٹور خرید کر ” سردار ہوٹل “ کا مالک بن گیا تھا، جس ہوٹل میں چپل کباب کی کڑاہی کے ساتھ پندرہ بیس طرح کی ڈشزہو تیں اور اتنے ہی مستعد ملازمین بھی بھرتی کر لئے گئے تھے، مگر سرکاری ملازم ان دنوں بھی محکمہ تعلیم کے ہمارے سر گرم دوست مرحوم پھل بادشاہ کی سربراہی میں جلسے جلوسوں پر مجبور تھے کہ ہماری تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر کی جائے حالانکہ اب کلرک کی تنخواہ میں قدرے اضافہ ہو چکا تھا مگر سونا بھی فی تولہ پھلانگتا ہوا کلاس ون آفیسر کے مشاہرہ یعنی آٹھ سو روپے کو بھی پیچھے چھوڑ گیا تھا مرحوم پھل بادشاہ سے دوستی ان کے نجی کالج ’سرحد کالج نیو رامپورہ ‘ کی وجہ سے تھی، جہاں شام کو میں اور صوفی دانشور اقبال سکندر پڑھایا کرتے تھے ، یہ ہمارے جد و جہد کے دن تھے ، بہر حال مہنگائی سے جنگ تب بھی برقرار تھی مرزا محمود سرحدی نے اس وقت بھی سرکاری ملازم کے شب و روز کی صحیح عکاسی کی تھی
میری تنخواہ سو ہے اور ان کے 
آٹھ سو کے قریب ہوتے ہیں
جب مہینہ تمام ہو تا ہے 
 میں بھی روتا ہوں وہ بھی روتے ہیں
 بات مہنگائی کے عفریت کی تھی کہ یہ ہمیشہ ہمارے آس پاس ہی سانس لیتا رہا ہے مگر اب تو لگتا ہے اسے کھلی چھوٹ دی گئی ہے کہ یہاں وہاں دندناتا پھر رہا ہے عام آّدمی تین چھوڑ ایک وقت کی پوری روٹی بھی پوری نہیں کر سکتا ، تنخواہ کا تناسب بہتر ہوا تو روپے کی قدر کم کر دی گئی، عام سرکاری ملازمین تو ایک طرف آٹھ سو روپے والے سرکار ی افسران کی بنیادی تنخواہ ایک لاکھ روپے سے اب زیادہ ہے مگر کیا کیاجائے کہ سونا فی تولہ اب دو لاکھ روپے فی تولہ تک جا پہنچا، گویا سونا ٹرک کی وہ بتی ہے جس کے پیچھے دوڑتے دوڑتے یار لوگ ہلکان ہو گئے ہیں،کون جانے یہ ریس کم ختم ہو گی، فراز نے کہا ہے نا کہ، 
 چلے تھے یار بڑے زعم میں ہوا کی طرح
 پلٹ کے دیکھا تو بیٹھے ہیں نقش ِ پا کی طرح