سی پیک، دوسرے مرحلے میں داخل 

عوامی جمہوریہ چین کے نائب وزیر اعظم ہی لی فینگ کی پاک چین اقتصادی راہداریکی پہلی دہائی کی تکمیل پر منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کیلئے پاکستان آمد ایک خوش آئند اور قابل قدر پیشرفت ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری جسے چین کے وسیع اور جامع ترقیاتی منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے کلیدی منصوبے کا درجہ حاصل ہے نے پاکستان اور چین کے مابین دوستی کو ایک نئی بنیاد ہی فراہم نہیں کی بلکہ خطے میں معاشی اور سماجی ترقی کے نئے دور کا آغاز بھی کیا ہے۔ اس منصوبے کی پہلی دہائی زیادہ تر انفرسٹرکچر کی تعمیر پر صرف ہوئی جو اس بین الاقوامی اہمیت کے جامع منصوبے کو مضبوط اور پائیدار بنیادیں فراہم کرنے کیلئے ضروری تھا۔ شاہراہوں کی تعمیر توانائی کے منصوبوں کی تکمیل، گوادر کو بین الاقوامی اہمیت کے شہر کی حیثیت سے ترقی دینے کیلئے ضروری منصوبے اور ملک کے کئی بڑے شہروں میں جدید پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کے منصوبوں کی تکمیل اس سلسلے میں قابل ذکر ہے۔ سی پیک کا دوسرا مرحلہ اس بنیاد پر اقتصادی تعاون کو فروغ دینے سے متعلق ہے۔ 
اس سلسلے میں دونوں ممالک کے مابین متعدد منصوبوں کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں۔ بہت سے منصوبوں کی شروعات ہوئی ہے جبکہ کئی ایسے ہیں جن پر پہلے ہی کام جاری ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ضمن میں توجہ اور دلچسپی کو بڑھایا جائے اور ترقیاتی اور اقتصادی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جائے ۔ سی پیک اگر چہ پاکستان اور چین کا مشترکہ منصوبہ ہے مگر فی الحقیقت اس کی ضرورت و اہمیت پاکستان کیلئے کہیں زیادہ ہے؛ چنانچہ ضروری ہے کہ ہم سب اس حقیقت کو مان کر چلیں اور سی پیک کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کر کے اس کے معاشی ثمرات کا حصول ممکن بنایا جائے۔ قریب 25 کروڑ آبادی کے اس ملک جس کا قریب 65 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے کی معیشت کو سالانہ کم از کم چھ سات فیصد کی شرح سے ترقی کرنی چاہئے تا کہ بیروزگار آبادی کو کام کے مواقع مل سکیں، ملکی برآمدات میں قابل ذکر اضافہ ہو سکے اور کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ اور تجارتی خسارہ کے رجحان میں پاکستان کی معیشت کے حق میں بہتری آسکے۔ آخر کہاں تک ہم قرضوں سے اپنی معیشت کا انجن چلانے کی کوشش کرتے رہیں گے؟ ہر سال پچھلے قرضوں کی ادائیگی کیلئے مزید قرض اٹھاتے ہیں یوں یہ ادائیگیوں کا بوجھ ہماری معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ معیشت کے اس ماڈل کے ساتھ آگے بڑھنے، ترقی کرنے اور عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ ضروری ہے کہ قومی معاشی قوت پیداوار میں اضافہ ہو اور اس کیلئے روزگار کے مواقع بڑھانا ہوں گے اور ملکی معدنی دولت اور وسائل کو بہتر طور پر کام میں لانا ہوگا۔ سی پیک اس سلسلے میں 
ہمارے لئے نہایت اہم منصوبہ ہے۔ اس منصوبے پر کام کی رفتار پچھلے دس برس میں کیا رہی اور کس حکومت نے کام تیز کیا اور کس نے سست روی دکھائی یہ کہنے اور کسی کو مورد الزام ٹہرانے کا محل نہیں۔ اگر ماضی کی ناکامیوں سے کچھ سیکھا جائے تو آنیوالے وقت میں یہ ہمارے کام آسکے گا اور غلطیوں کا صدور کم سے کم ہوتا جائے گا۔ سی پیک کے تحت حکومت کو آنے والے وقت میں جن شعبوں کو ترقی دینی چاہئے ان میں زراعت اور صنعتی شعبہ سرفہرست ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس اور قیمتی دھاتوں کی کان کنی کے شعبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی کے حوالے سے بھی نتیجہ خیز پیش رفت کا انتظار ہے۔ یہ سی پیک کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے اور پاکستان کیلئے نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پاکستان میں افرادی قوت وافر ہے جسے مصروف کار بنانا قومی اور سماجی حوالے سے بھی ضروری ہے اور معاشی حوالے سے بھی۔ اس سلسلے میں سی پیک کے اکنامک زونز کی تعمیر وترقی ناگزیر ہے۔