میں آنسوو¿ں کو تبسم میں ڈھال لیتا ہوں

اور کچھ دن میں برطانیہ کے ساحلی شہر’گریٹ یار متھ‘ کی رونقیں ماند پڑ جائیں گی،اس شہر میں صبح سویرے سے رات بہت دیر تک ایک میلہ کا سماں ہوتا ہے ،مگر گرمی کی چھٹیاں ختم ہونے سے پہلے پہلے یہ سب بے فکرے اپنے اپنے علاقوں کو لوٹ جائیں گے پھر یہ شہر بہت چپ اور اُداس سا ہو جائے گا، اور اتفاق یہ بھی ہے کہ مجھے بھی بشرط زندگی رواں ماہ کے آخر آخر میں یہ شہر چھوڑ دینا ہے ورنہ دل تو کرتا تھا کہ اس شہر کی اُداسی کا حصہ بن کے کچھ وقت یہاں بتاو¿ں مگر مسافروں کے پڑاو¿ کب مستقل ہوتے ہیں،گریٹ یار متھ میں سیاحوں کو دیکھ کر مجھے پاکستان کی خوبصورت جھیلوں کو آباد کرنے والے سائیبریا کے خوبصورت مہمان پرندے یاد آتے ہیں جوبرف سے ڈھکے پہاڑوں تند طوفانوں اور دشوار گزار علاقوں سے ہزاروں میل کی پرواز کر کے آتے ہیں، پاکستان کے میزبان ان مہمانوں کی پذیرائی کچھ بہتر طریقے سے نہیں کرپائے ، جھیلوں کے نیلگوں پانی اب آلودگی کی وجہ سے اپنی رنگت بدل رہے ہیں، اس بات کا ادراک مہمان پرندوں کو بھی ہونے لگا ہے جس کی وجہ سے اب مہمان پرندوں کی تعداد بہت سمٹ گئی ہے،گریٹ یار متھ کے لئے بھی ستمبر کا مہینہ ستمگر ثابت ہو تا ہے مہمان رخصت ہونا شروع ہو جاتے ہیں ،شنید ہے کہ ستمبر کے بعد کا زمانہ بہت خاموش ہو تا ہے محض مقامی لوگ یا پھر جاب کی مجبوری کی بنا پر رکے ہوئے لوگ رہ جاتے ہیں بازاروں میں بہت سے سٹور خصوصاََ بچوں کی بیشتر تفریحی دکانیں تقریباََ بند ہو جاتی ہیں، کچھ ہوٹل اور ریستوران بھی اپنی دکانیں بڑھا دیتے ہیں، ایسا بھی نہیں کہ یہ شہر زمستانی موسم میں اپنی خوبصورتی کھو دیتا ہے ، اس کی خوبصورتی میں کوئی فرق نہیں آتا ،کھلا سمندر ،آبی پرندے اور چمکیلی ریت کو تو یہیں رہنا ہو تا ہے لیکن ان کے مہمان چلے جاتے ہیں ،ان کو پھر سے روٹی روزی کے لئے اپنی اپنی جاب کی طرف لوٹنا ہو تا ہے، باہر کی دنیا میں ’جاب‘ آکسیجن کی طرح ناگزیر ہے، اور گھر کے ہر فرد کو جاب لازمی کرنا ہوتی ہے، کالج پہنچنے والے بچے بھی پڑھائی کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم جاب کررہے ہوتے ہیں برطانیہ میں باہر سے تعلیم کے لئے آنے والے سٹوڈنٹ بھی اپنی فیسیں بھرنے کے لئے پارٹ ٹائم کام کرتے ہیں، لیکن جو مقامی لوگ ہیں ان کے لئے کام کے مواقع بھی زیادہ ہیں اور ان کو اجرت بھی بہتر ملتی ہے جس کی وجہ سے وہ سال بھر کام کر کے اچھی بھلی رقم اکٹھی کر لیتے ہیں،اور پھر اپنے ملک میں یا کسی اور ملک میں چھٹی گزارنے چلے جاتے ہیں،پاکستان میںستر کی دہائی میں یورپ اور امریکہ کے بہت سے بے فکرے چھٹیاں گزارنے آتے تھے،قصہ خوانی کے اطراف کے ہوٹل بھر جاتے تھے، برادر بزرگ آغا جی پیر محمد شاہ ان دنوں پشاور میں تھے ان کے بہت دوست تھے اکثر کو گاو¿ں بھی لے آتے تھے، انہیں دیکھنے اور ملنے کے لئے پورا حجرہ بھر جاتا تھا، جب میں پشاور بڑے بھائی کے پاس کٹرہ مہابت خاں آیا تو ان کے بہت سے دوستوں سے میری بھی ملاقات ہوتی رہتی تھی ایک بار پشاور میں ان کے دو دوست ان سے ملنے آئے تھے میں ان کو ناولٹی سینما پشاور میں پاکستانی فلم ” من کی جیت“ دکھانے لے گیا تھا۔ انہیں فلم بہت اچھی لگی فلم کے بعد ہم کبھی کی بہت معروف کیفی کیسینومیں آ بیٹھے اور من کی جیت فلم سے شروع ہونے والی بات محبت کے موضوع تک جا پہنچی،میری دلچسپی مغربی ممالک میں جوائنٹ فیملی سسٹم کے حوالے سے تھی جسے محبت ہی باندھے رکھتی ہے مگر وہ اس بات پر مصر تھے کہ مل جل کر رہنے سے شخصی آزادی ختم ہو جاتی ہے ماں باپ سے محبت احترام اور عزت ان سے دور رہ کر بھی کی جاسکتی ہے، تب یہ بات سمجھنا بہت مشکل تھا مگرجب سے باہر کی دنیا میں آنا جانا شروع ہوا اور یہاں کی زندگی کا پیٹرن دیکھا جو ہم سے بہت مختلف ہے تو بات کچھ کچھ سمجھ آنے لگی ہے، یہ بات سمجھانے میں مرحوم سعید احمد اختر کے اس شعر نے بھی بہت مدد کی
 چکور خوش ہے کہ بچوں کو آ گیا اُڑنا
 اُداس بھی ہے کہ رت آگئی بچھڑنے کی، 
لیکن یہاں گریٹ یار متھ میں تفریح کے لئے آنے والی بہت سی فیملیز کو میں نے دیکھا ہے کہ ان کے ساتھ ان کے بزرگ افراد بھی ہوتے ہیں، ستر سال اور اسّی کے پیٹے میں مرد اور عورتیں جن میں سے کچھ لاٹھی کے سہارے آہستہ آہستہ چلتے تھے او باقی افراد ان کی ہی رفتار سے چلتے ہیں اور پھر ایسے معمر افراد کی بھی کمی نہیں جو ویل چئیرز پر ہوتے ہیں اور کوئی جوان سال لڑکی ان کے ساتھ خوش گپیاں کرتی ہوئی جارہی ہو تی ہے، زیادہ تر ویل چئیرز الیکٹرک ہوتی ہیں پھر بھی ان کو ایک خیال رکھنے والے کی ضرورت ہوتی ہے، البتہ میں نے ایسے کئی عمر رسیدہ میاں بیوی بھی دیکھے ہیں جو ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہوئے اس رونق میلہ کا حصہ بنے ہوتے ہیں، میں انہیں دیر تک دیکھتا رہتا ہوں، یا جب وہ کسی بنچ پر بیٹھ جاتے ہیں تو میں ان کے سامنے یا قریب کے کسی بنچ پر بیٹھ کر ان کا جائزہ لیتا ہوں ان کی کہانی کچھ بھی ہو وہ کم از کم اس تفریحی مقام پر خوش و خرم نظر آتے ہیں، اور ہنستے ہوئے بات چیت کر رہے ہو تے ہیں، میں اس وقت بطور خاص انہیں دیکھتا ہوں جب شریر بچوں کی ہنستی کھیلتی ٹولی ان کے سامنے سے گزرتی ہے یا پھر کوئی ایسی فیملی گزرتی ہے جس میں ان کے ساتھ ان کے ماں باپ یا دوسرے بزرگ افراد بھی ہوتے ہیں، لیکن ان کے چہرے پر مجھے ایسا کچھ لکھا نظر نہیں آ تا جس سے ان کے اندر کے دکھ نمایاں ہوں، یا ممکن ہے یہ فقط میرا احساس ہو، وہ یا تو خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑچکے ہوں یا پھر گزرتے وقت نے ان کے سارے زخم مندمل کر دئیے ہوں،ان کو صبر آگیا ہو، ان کے آنسو خشک ہو چکے ہوں پھر سوچتا ہوں ایسا کہاں ممکن ہے بس ایک جبر ہوگا جسے وہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونے کے فرحت بخش احساس سے جھیل رہے ہوں گے ، ایسے ہی کچھ دن پہلے کھلی دھوپ میں ایک معمر جوڑا میرے سامنے والی بنچ پر بیٹھا ہوا تھا میں انہیں دیکھ رہا تھا ،مرد کے ہاتھ میںکوئی لفافہ تھا دونوں باری باری اس سے کچھ نکال کر کھارہے تھے اور مرد کوئی بات کر رہا تھا جسے خاتون انہماک سے سن کر متفق ہونے کے انداز میں سر ہلا رہی تھی، اتنے میں ان کے قریب سے بھاگتا ہوا ننھا اشمان ’ دادا‘ کہتا ہوا میرے پاس آیا میں نے اسے گلے لگا لیا مجھے اپنے چہرے پر کسی کی نگاہوں کا بوجھ محسوس ہوا تو بے اختیار میری نظر اس معمر جوڑے پر پڑی جو اپنی بات جیسے بھول کر ہم دادا پوتے کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہے تھے، تو میں بھی جواب میں مسکرایا ،مگران کی مسکراہٹ نے دل چھلنی سا کر دیا اور میں بوجھل دل کے ساتھ آ نکھیں بند کر اپنے ہی ایک شعر کی بوندوں میں بھیگنے لگا۔
 میں آنسوو¿ں کو تبسم میں ڈھال لیتا ہوں
 کھلے گی کس پہ مری چشم ِتر کی بے چینی