جب میں امریکہ سے دو ہزار بیس کے پہلے مہینے میں پاکستان واپس آ رہا تھا تو ” کووڈ“ کے بارے میں اڑتی اڑتی سی خبریں آنا شروع ہو چکی تھیں چین سے شروع ہونے والی یہ بیماری دوسرے ممالک تک رفتہ رفتہ پھیل رہی تھی ، جلد ہی پھر امریکہ سمیت بہت سے ممالک اس کی لپیٹ میں آ گئے تھے اور یہ بھی اچھا ہوا کہ ہم امریکہ سے نکل آئے بعد میںبہت سی پروازیں ملتوی اور مو¿خر ہونے لگی تھیں،اور کئی لوگ پھنس کر رہ گئے تھے ،لیکن پاکستان میں ابھی اسے زیادہ سیریس نہیں لیا جارہا تھا البتہ کہیں کہیں تقریبات کو ملتوی کئے جانے کی خبریںمل رہی تھیں ، مجھے یاد ہے کہ مارچ کے مہینے میں جب ائیر یونیورسٹی میں ہر سال ہونے والے کل پاکستان مشاعرے کی دعوت ملی تو مجھے یقین تھا کہ یہ مشاعرہ ملتوی ہو جائے گا، وہ مشاعرہ تو ہو گیا لیکن اس کے بعد کوئی اور تقریب نہ ہو پائی کیونکہ تب تک کووڈ نے پاکستان میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑھ لئے تھے،لوگ سہم گئے تھے گھروں میں سمٹ گئے تھے بہت ہی کڑے دن تھے دکھ بھری خبریںبہت قریب سے آنا شروع ہو گئی تھیں، سرکاری دفاتر میں بھی ہو کا عالم تھا ، ضروری میٹنگز ” آن لائن “ شروع ہو گئی تھیں اور کہیں آنا جانا تو بس خواب ہی بن کر رہ گیا تھا، اور میں جو کم و بیش ہر برس امریکہ جاتا تھا اب ملاقاتیں ” آن لائن“ مشاعروں میں ہونے لگیں، رفتہ رفتہ کووڈ کا زور کم ہوا اور پھر سے محافل کا انعقاد ممکن ہو گیا، امریکہ سے دوست مہرباں اور روزنامہ ’ آج‘ کے کالم کلب کے مقبول کالم نگار عتیق احمد صدیقی کے پیغام آنا شروع ہو گئے کہ نیویارک کے دوست آپ کے منتظر ہیں اسلئے جلدی سے آنے کا پروگرام بنائیں، ادھر برمنگھم(برطانیہ) کی رومی سو سائٹی کی دعوت پر میں لندن چلا گیا، تو ارادہ تھا کہ واپس پاکستان جا کر پروگرام بناتا ہوں مگردوستوں کی محبت سے برطانیہ میں قیام طویل ہو گیا اور اس دوران امریکہ کے احباب نے یکے بعد دیگرے کئی تقریبات میں شرکت کی دعوت ہی نہیں دی بلکہ تقریبات کے ” فلائیر“ ( اطلاعی پوسٹر) بھی بھیج دئیے سو پاکستان کی بجائے امریکہ آ گیا ہوں ،اب کے کوئی ساڑھے تین برس بعد امریکہ آنا ہوا ہے ،بہت کچھ نیا نیا لگ رہا ہے ابھی میں پہلے پڑاو¿ پر کو لو راڈو کی ریاست کے شہر ڈینور میں افراز علی سیّد کے ہاں ہوں ،جہاں سے پندرہ ستمبر کو بشرط صحت و زندگی میں نیو جرسی اپنی پہلی ادبی تقریب کےلئے چلا جاو¿ں گا ،کولو راڈو نسبتاََ ایک چپ چپ اور پرسکون سٹیٹ ہے، اور اسے ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کےلئے ایک عمدہ علاقہ سمجھا جاتا ہے، ڈینور سے اوپر پہاڑوں کی طرف تفریح کے لئے
جانا اس علاقہ کے رہنے والوں کا ایک پسندیدہ شغل ہے، سردیوں میں یہ سارے پہاڑ برف سے ڈھک جاتے ہیں اور دنیا بھر سے سکیئنگ کے شوقین مہم جو یہاں پہنچ جاتے ہیں موسم بہت سرد ہو جاتا ہے اور پہاڑ ی علاقہ تو ایک طرف رہے ڈینور شہر کا عمومی درجہ حرارت بھی منفی35 تک گر جاتاہے، اور اوپر پہاڑوں پر تو منفی پچاس سے زیادہ کی خبر لاتاہے، ان پہاڑوں کی اور جاتے ہوئے راستے میں ایک بہت ہی خوبصورت جھیل بھی آتی ہے جہاں معتدل موسموں میں گرد و پیش کے منچلے ہر ویک وینڈ اس کے کنارے پکنک منانے اس جھیل پر پہنچ جاتے ہیں، ” ڈ ِلن نامی اس جھیل کا مسحور کن حسن انسان کو چپ کرا دیتا ہے پہاڑوں کے دیس کی نیلگوں پانی والی اس جھیل کا پاٹ بہت وسیع ہے، اس کے شمال مغربی کنارے پر چھٹیوں کے دنوں میں ایک میلہ کا سماں ہو تا ہے ،یہاں وہاں چٹائیوں پر اور میسر و موجود بنچوں پر کھانے پروس دئیے جاتے ہیں ، پھر موسم اور جھیل کی خوبصورتی سے لطف لیتے ہوئے کھانا کھایا جاتا ہے،اطراف میں یار لوگ جھیل کے حسن کو کیمروں میں محفوظ کررہے ہوتے ہیںمیں کوئی دس برس پہلے اس جھیل پر پہلی بار افراز علی سیّد کے ساتھ آیا تھا بلکہ پھر اس سے آگے ہم پہاڑوں کی طرف بھی گئے تھے اور اسپن نامی مقام پر ایک دو شاندارراتیں بھی گزاریں تھیں ،سردی کے دن تھے کیونکہ مارکیٹ کے بیچ کے چھوٹے میدان میں الاو¿ روشن تھا، سرما کے موسم میں جب یہ سارا علاقہ برف سے ڈھک جاتا ہے تو ڈ ِلن جھیل کے پانی کی سطح بھی برف بن جاتی ہے اور یار لوگ اس پر نہ صرف چہل قدمی کرتے ہیں جو دھوپ والے دن ایک بہت خوشگوار تجربہ ہو تا ہے بلکہ اس برف میں ایک گہرا سوراخ کر کے اور فشنگ راڈ ڈا ل کر مچھلی کا شکار بھی کرتے ہیں،انسان اپنی تفریح کےلئے کسی بھی حد تک جانا پسند کرتا ہے، اس نیلے آسمان نے ایک ایسا سفاک زمانہ بھی دیکھا ہوا ہے جب بادشاہ سلامت کے گماشتے ملزموں کو کشتی میں بٹھا کر بیچ دریا تک لے جا کر انھیں محض اس لئے دریا میں پھینک دیتے تھے کیونکہ ڈوبتے ڈوبتے بچنے
کےلئے بے بسی سے وہ بے چارے جو ہاتھ پاو¿ں مارتے تھے وہ منظر بادشاہ سلامت اور ان کی بیگمات کو بہت پسند تھا۔ خیر میں کو لوراڈو کے پر امن اور پرسکون ماحول کی بات کر رہا تھا جو نیو یارک،شکاگو کیلے فورنیا جیسی پرشور ریاستوں کی نسبت کم آبادی ،کشادہ سڑکوں اور تا حد نظر پھیلے میدانوں اور سیر گاہوں کا علاقہ ہے۔ جن کے بیچوں بیچ قریب ترین مارکیٹ ہو، مسجد یا ائیر پورٹ ، کئی کئی منٹ کی ڈرائیو سے جانا پڑتا ہے،اب کے میں کوئی چار سال بعد آیا ہوں مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ اس دوران بہت کچھ بدل گیا ہے، کولو راڈو عموماََ اور ڈینور خصوصاََ اچانک ہی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا اور ان چار برسوں میں ڈینور کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے، میں نے یہ بھی دیکھا کہ بہت سے علاقوں میں بہت سے نئے گھر اور عمارتیں تعمیر ہو گئی ہیں اور ہو رہی ہیں، گزشتہ ہفتہ لیبر ڈے کی وجہ سے لانگ ویک اینڈ تھا امریکی یکم مئی کے بر عکس لیبر ڈے ہر سال ستمبر کے مہینے کے پہلے سوموار کو مناتے ہیں، یکم مئی کے لیبر ڈے کا تعلق شکاگو میں مزدوروں کے مظاہروں کے دوران دھماکہ میں گیارہ لوگوں کی ہلاکت کی یاد سے ہے جب کہ امریکہ کے ستمبر کے پہلے سوموار کے پس منظر میں انیسویں صدی کے صنعتی انقلاب کے عروج کا وہ زمانہ ہے جب امریکی ہفتہ کے ساتوں دن بارہ بارہ گھنٹے مسلسل کام کرتے تھے اجرت بھی کم تھی اور بچوں کو بھی کام کرنا پڑتا تھا، پھر مزدوروں کی انجمنیں آگے آئیں اور مظاہرے کر کے اپنے حقوق منوائے دو دو چھٹیاں آٹھ گھنٹے کام اور اجرت بھی زیادہ کروائی، اس کی خوشی میں امریکی ستمبر کا پہلا سوموار لیبر ڈے کے طور پر مناتے ہیں ،اس دن امریکی پہاڑوں اور ساحلوں کی طرف سیر کو نکل جاتے ہیں مزے مزے کے پکوان بناتے ہیں اوراس دن کو پکنک کی طرح مناتے ہیں، ایسی ہی پکنک لیبر ڈے کو منانے ہم بھی ڈ ِ لن جھیل جا پہنچے اس جھیل کے کناروں پر بھی اب بہت کچھ بدل چکا تھا ہوا کےساتھ ہلکورے لینے والی ،جھیل کی سطح کی پرسکون لہروںکو موٹر بوٹس بے چین کر رہی تھیں ، اس دن موسم بہت مہرباں تھا اور ہر پل ایک نیا رنگ دکھا رہا تھا،گرمی سردی بوندا باندی بارش تیز بارش معتدل اور پھرکبھی دھیمی کبھی تیز ٹھنڈی ہوا و¿ں نے الگ سے میلے لگائے ہوئے تھے لیکن اس دن مجھے جھیل بہت اُداس لگی کیونکہ اس سے ملنے کےلئے آنےوالے سارے لوگ جھیل کی خوبصورتی سے بے نیازکھانوں ،پکچرز اور خوش گپیوں میں مگن تھے، مجھے کرشن بہاری نور یاد آ گئے۔
میں تو غزل سنا کے اکیلا کھڑا رہا
سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں کھو گئے