کراچی: مصطفیٰ عامر قتل کیس میں تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں، ملزم ارمغان قریشی کا کریمنل ریکارڈ اور واردات کا مکمل طریقہ سامنے آگیا۔
تفتیشی رپورٹ کے مطابق ارمغان قریشی خیابان مومن میں کال سینٹر چلاتا تھا، جہاں 30 سے 40 افراد کام کرتے تھے اور بنگلے میں شیر کے 3 بچے بھی غیر قانونی طور پر رکھے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق 6 جنوری کو ارمغان نے جھگڑے کے بعد مصطفیٰ کو بنگلے پر بلا کر لوہے کی راڈ سے تشدد کا نشانہ بنایا، اسے باندھ کر سیڑھیوں سے گھسیٹا اور گاڑی میں ڈال کر حب لے گیا جہاں گاڑی کو آگ لگا دی۔
ارمغان پر پہلے سے 11 مقدمات درج ہیں، جن میں سے 2 میں صلح ہو چکی ہے۔ ان مقدمات میں منشیات اسمگلنگ، ہوائی فائرنگ، شہری کو دھمکانے، اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات شامل ہیں۔
پولیس مقابلے کے بعد گرفتاری کے دوران بھی ارمغان نے پولیس پر فائرنگ کی۔ عدالت نے ارمغان کو 15 مارچ کو طلب کر رکھا ہے، جہاں اس کے خلاف مقدمات کا ریکارڈ پیش کیا جائے گا۔