امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، جہاں امریکی صدر نے امام خامنہ ای کو ایک دھمکی آمیز خط لکھا ہے۔
اس خط میں جوہری ہتھیاروں کے معاہدے یا جنگ کی تیاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایران نے اس کے جواب میں بلاواسطہ مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔
اگر ایران مذاکرات کی بجائے جنگ کی راہ اختیار کرتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن متاثر ہو جائے گا، اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کو جغرافیائی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران کا نیوکلیئر طاقت بننا خطے میں پراکسی جنگوں اور عسکریت پسندی کو بڑھا سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک بھی نیوکلیئر پروگرام شروع کر سکتے ہیں۔