تین ماہ میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً دہشت گردی کے 2حملے ہوئے ہیں اور اوسطاً 5افراد روزانہ شہید جبکہ پانچ ہی زخمی ہو رہے ہیں۔
یہ ایک بڑا ہی ہائی نمبر ہے ۔ جو وار آن ٹیرر تھی اس وقت جب پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا ، وہ پاکستان کی جنگ نہیں تھی، وہ امریکا کی جنگ تھی۔ ہم اس میں پارٹنر بنے اور اس وقت جو نقصانات ہوتے تھے اس کا کوئی نہ کوئی تخمینہ رکھا جاتا ہے۔
پاکستان کی جو اکانومی ہے اس کی وہ حالت نہیں ہے، کہ اتنا بڑا نقصان جو ہے برداشت کر سکے۔ جو جانوں کا ضیاع ہورہا ہے وہ تو ایک سائڈ پہ جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ اربوں ڈالر بھی اس کو کمپینسیٹ نہیں کر سکتے۔ کیا اب بھی ایک ایس ایچ او کی مار والی اپروچ ہے، یا حکومت نے اپنے اپروچ کو چینج کیا ہے۔
9/11 حملوں کے بعد ہم جانتے ہیں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی اور یہ جنگ لڑنے کے دوران ہم نے مردوں اور مادی لحاظ سے بہت نقصان بھی اٹھائے لیکن اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ 2017،2018 کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے اس ناسور پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا تھا لیکن گزشتہ چند سالوں میں خاص طور پر جب سے افغان طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے ہیں، تو ہم نے دیکھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہونا شروع ہوا۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان دو ایسے صوبے ہیں جہاں سب سے زیادہ دہشت گردی کے جو واقعات ہیں وہ دیکھنے کو ملے۔ ،پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز ان کے مطابق 183دہشت گردی کے حملے اور واقعات پاکستان میں ہو چکے ہیں، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو کامیابی ہم نے حاصل کر لی تھی ، ایک دفعہ پھر ہمیں اس کا سامنا ہے، ایک اور جنگ ہمیں لڑنا پڑے گی ،سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہاکہ میری نظر میں دہشت گردی بڑھنے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔
ایک تو یہ ہے کہ 2021 میں جب طالبان کا ٹیک اوور ہوا اور امریکا نے انخلا کیا، اس وقت کی پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت انھوں نے ایک بہت بھیانک فیصلہ کیا ۔ انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ایک بزدلانہ مصالحت کر لی، لانگ ٹرم ایشو ہے کہ جب ہم نے عسکری کامیابیاں حاصل کر لیں2017 میں اس کے بعد معاشرے کے اندر جو پولیسنگ بھی کرنی تھی اور ذہن سازی بھی کرنی تھی وہ ہم نہیں کر پائے۔
بلوچستان کے جو سیاسی ڈائنیمکس ہیں وہ بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوئے اب وہاں جو ہے، حقیقت یہ ہے کہ ایک بڑی دھندلی تصویر ہے
غلطیاں ہوتی ہیں اور اسٹیٹس جو ہیں وہ اس قسم کے پراسیسز میں انڈلج کرتے ہیں۔ کیونکہ اس ٹائم پہ بھی جب یہ پراسیس شروع ہوا تھا، لگتا تو ایسا ہے کہ اسی ٹائم شروع ہوا تھا ، لیکن جب سے آپریشن ضرب عضب ختم ہوا ، 2016 سے یہ ایک کنٹنوس پراسیس تھا جس میں بات چیت مختلف گروپوں کے ساتھ ہو رہی تھی۔