خیبر پختونخوا کے شہر مانسہرہ میں ایک خاتون اور اس کی 16 ماہ کی بیٹی کو مبینہ طور پر ان کے رشتہ دار نے ’غیرت‘ کے نام پر گولی مار کر قتل کر دیا۔
مانسہرہ کے صدر تھانے میں مقتولہ کی ساس نسرین بی بی کی جانب سے درج کرائی گئی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق نسرین گھر میں موجود تھی کہ مسلح ملزمان مبینہ طور پر ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان پر بندوق تان لی۔
شکایت کنندہ نے کہا کہ میں نے اپنی بہو کے کمرے سے چیخنے کی آواز سنی کہ انکل مجھے مت مارو، مزید کہنا تھا کہ وہ ملزم کی شناخت نہیں کرسکی، ایف آئی آر میں مزید الزام لگایا گیا کہ ان کی بہو کو گولی مارنے کے بعد ملزمان نے بچی کو بھی گولی مار دی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
شکایت کنندہ نے ایف آئی آر میں کہا کہ دہرے قتل کا مقصد یہ تھا کہ اس کے بیٹے نے مقتولہ سے شادی کی تھی، انہوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کا بیٹا کام کے سلسلے میں بیرون ملک گیا ہوا ہے۔
صدر تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) محمد عامر نے دہرے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے صدر تھانے میں دفعہ 34، دفعہ302، دفعہ 452، دفعہ 506 کے تحت ایف آئی آر درج کر لی، کیس کی تفتیش شروع کر دی ہے۔
واضح رہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 2024 میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ پورے پاکستان بالخصوص سندھ اور پنجاب میں ایک سنگین مسئلہ رہا، جنوری سے نومبر تک ملک میں کل 346 افراد ’غیرت‘ کے جرائم کا شکار ہوئے۔