احتیاط کریں، اپنے پیاروں کیلئے۔۔۔۔

یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ ہم ہر صحیح بات کو نہ ماننے کیلئے طرح طرح کے دلائل ڈھونڈتے ہیں اور غلط کو صحیح ثابت کرنے کیلئے ہر طرح کے جواز پیش کرتے ہیں۔ ایک بات پر ڈٹ جائیں تو پانچ سال بعد بھی اس پر ڈٹے رہتے ہیں اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ بات صحیح ہے یا غلط اور اس میں ہمارا اور باقی لوگوں کا فائدہ ہے  یا نقصان۔ دوسرے کے دلائل اور ثبوت نہ ماننا اور اپنی بات پر اڑے رہنا ہمارا شیوہ ہے۔خواہ  بات ہم نے غیر مستند ذریعے یا شخص سے سنی ہو، موجودہ حالات میں خواہ روزانہ ارد گرد لوگ جاں بحق ہورہے ہوں، ہسپتالوں میں بستر اور ونٹی لیٹر سارے بھرے پڑے ہوں ہم لوگوں نے نہ تو کورونا اور اس سے ہونے والے نقصانات کو ماننا ہے  اور نہ کبھی ماسک پہننے، سماجی فاصلہ رکھنے، ہاتھ دھونے اور غیر ضروری طور پر خاص کر ہجوم والی جگہوں پر نہ جانے کی زحمت کرنی ہے۔ حتیٰ کہ ارد گرد ہونے والی اموات پر بھی یہی کہنا ہے کہ دنیا میں ان کا دانہ پانی ختم ہوگیا تھااور اس کی موت اس وقت لکھی تھی۔ کوئی جواز دے گا کہ فلاں موت کورونا سے نہیں بلکہ گردے فیل ہونے یا ہارٹ اٹیک، فالج یا دیگر وجوہات کی بنا پر ہوئی ہے۔ اس حقیقت کو جانے بغیر کہ وائرس کاانہی اعضاء کو کمزور کرنا موت کا سبب بنتا ہے، اسی وجہ سے بیمار افراد اور معمر افراد کیلئے یہ وائرس اور زیادہ خطرناک ہے۔ کورونا کی موجوودہ لہر نے دنیا بھر میں تباہی پھیلادی ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت میں ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے مختص بستر اور وینٹی لیٹر کی قلت کی وجہ سے لوگ ہسپتال سے باہر مر رہے ہیں۔ صرف ایک دن کے دوران بھار ت میں 2365افراد کورونا کی وجہ سے جان کی بازی ہارگئے جبکہ صرف چوبیس گھنٹوں میں 3لاکھ 32 ہزار 52نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ دوسری طرف پاکستان میں گزشتہ روز5870نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 144افراد کورونا کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ملک میں کورونا سے اب تک 16ہزار842افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد ہسپتالون کے آئی سی یوز، کورونا وارڈز یا گھروں میں اس کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے گھروں میں از خود ادویات لینے والوں یا گلی محلے کے ڈاکٹروں اور عطائیوں سے علاج کروانے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ بہت سے لوگ بستر نہ ہونے کی وجہ سے اور کئی ہسپتالوں سے خوفزدہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں زیر علاج ہیں۔ کئی نے اپنے طور پر نہ صرف ڈاکٹر اور ادویات کا انتظام کیا ہے بلکہ بہت سے لوگوں نے آکسیجن کا بھی انتظام کر رکھا ہے۔ یہ لوگ ہسپتال صرف اس صورت میں جاتے ہیں جب ان کی حالت خراب ہوجاتی ہے اور بچنے کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ صورتحال یقینا بہت سنگین ہے اللہ کی جانب سے یہ دنیا پر ایک بہت بڑی آزمائش ہے،جس کے خلاف دعا، عبادت،گناہوں سے توبہ اور دوا کے ساتھ ساتھ احتیاط کے ذریعے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔اگر آپ کی بے احتیاطی کی وجہ سے آپ کورونا وائرس کا شکارہوتے ہیں اور صحت مند ہونے کی بناء پر کسی اور وجہ سے آپ ہسپتال کے بغیر بھی صحت یاب ہوتے ہیں تو بھی اس بات کا خدشہ ہے کہ آپ زیادہ متاثر ہوئے بغیر بھی جراثیم گھر میں معمر افراد یا کسی بیمار کو منتقل کر سکتے ہیں۔ جس کی حالت بگڑ سکتی ہے اور جو آپ کی وجہ سے موت کے منہ میں جا سکتا ہے۔
اس وقت اگر دنیا کو ایک مشکل کا سامنا ہے تو نہ تو اس سے گھبرانا ہے اور نہ ہی اس سے انکار کرنا ہے۔ کورونا وبا سو فیصد حقیقت ہے جس سے بچاؤ کا واحد راستہ احتیاط ہے۔ اگر آپ اپنے پیاروں اپنے بزرگوں، بچوں، خاندان  اور دوستوں سے پیار کرتے ہیں،اگر آپ کو اپنی نہیں مگر ان کی زندگیاں عزیز ہیں اور آپ ان کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتے  تو احتیاط کریں۔ ہجوم والی جگہوں پر یا غیر ضروری طور پر کسی جگہ نہ جائیں۔ زیادہ سے زیادہ گھر پر رہیں، کاروبار اور دیگر معمولات زندگی جاری رکھیں مگر ماسک پہنیں، زیادہ سے زیادہ صابن سے ہاتھ دھوئیں، نزلہ زکام والے لوگوں سے دور رہیں اور خود اس کا شکار ہیں تو ماسک نہ اتاریں اور لوگوں میں نہ جائیں۔ علامات ظاہر ہوں تو اچھے ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور گھر والوں سے دور رہیں۔ احتیاط اور بروقت علاج اس  عالمی وباء سے نکلنے کا واحد راستہ ہے اور اس سے انکار اور احتیاط نہ کرنا یا ماسک نہ پہننا بہادری نہیں، جہالت ہے جس کی سزا آپ اپنے پیاروں کوبھی دیں گے۔