پشاور کی عید اور سادہ سی یادیں 

سکول کالج کی زندگی ایک ایسا زمانہ ہوتا ہے جس میں ہر انسان کا بچپن معصومیت سادگی‘ حماقتیں‘ ڈانٹ ڈپٹ‘ اچھل کود‘ سکول کے دوست سہیلیاں ا ور ان کی ان تھک باتیں  شامل ہوتی ہیں پشاور شہر کی اپنی ایک سادہ سی زندگی ہوتی تھی تین چار پانچ دہائیاں قبل جب نئی نئی آبادیاں وجود میں آئی تھیں یہ نہیں پتہ تھا پوش علاقے کیا ہوتے ہیں ایک خاص حد کے باہر ویران علاقے کا ساسامان ہوتا تھا جب اپنی چھوٹی چھوٹی گلیاں بڑی بڑی نظر آتی تھیں مرلے دو مرلے تین مرلے کے گھر محل لگتے تھے اسی محل کی صفائیاں کرتے ہوئے اور اسکو ترتیب دیتے ہوئے دن بیت جاتا تھا کبھی ایک فیصد بھی احساس نہیں ہوتا تھا کہ ہمارا گھر چھوٹا ہے اس میں کوئی امیر رشتہ دار یا امیر مہمان نہیں آسکتا کوئی جھجھک کوئی شرم مانع نہیں ہوتی تھی کسی صوفے یا قالین کانام بھی نہیں جانتے تھے چارپائی یا بڑے بڑے پایوں والے صحن میں بچھے پلنگ ہی صوفہ سیٹ کی کمی پورے کرتے تھے کمی کیا جب ان دکھاوے یا تصنع سے زندگی آشنا ہی نہ تھی تو پھر صوفے قالین رنگ روغن ڈرائینگ روم سے کیا لینا دینا جب گھر صرف سکون اور آرام کی آماجگاہ ہوتے تھے ان ہی میں کئی تہوار‘ کئی موسم کئی دکھ کئی سکھ بھی دروازوں سے آن وارد ہو جاتے تھے خاندان بھر مل کر وہ دکھ بھی جھیلتے تھے اور سکھ بھی اطمینان بھری مسکراہٹ سے گزارتے تھے رمضان آجاتا تھا جیسے پشاور میں اک بہار بھرا موسم آجاتا تھا تیاریاں ہفتوں پہلے شروع ہو جاتی تھیں یہ تیاریاں نہیں کہ گراسری سٹورز سے سامان اکٹھا کیا جاتا تھا بھلا اتنے پیسے فالتو ہوتے ہی کب تھے تیاریاں صرف اس ضمن میں اس طرح ہوتی تھیں کہ گھر اور برتنوں کو صاف کیا جاتا تھا قلعی گھر کی دکانیں آباد ہوجاتی تھیں چولہا ٹھیک کیا جاتا تھا کیونکہ تندور سے روٹی لانے کا وقت مہینے بھر کیلئے چھٹی کیلئے جانا ہوتا تھا کچھ  تھوڑا سا سودا سلف رمضان کا خاص سامان جیسے اصلی گھی‘ آٹا وغیرہ وغیرہ‘ باقی تمام سامان نہ تو اسٹاک کرنے کا رواج تھا نہ فریج تھا‘نہ ڈبوں میں  پیک اشیاء‘ میسر تھیں  روز کے روز تازہ دودھ ملائی دہی برف آتی تھی اور اگلا دن پھر منہ پھاڑے آن وارد ہوتا تھا نہ جانے ہر رمضان میں صحن میں بچھی ہوئی ماں کیوں یاد آجاتی ہے مٹی کے تیل کے چولہے پر گھنٹوں پہلے اٹھ کر پراٹھے پکانا شروع کردیتی تھی کہ کہیں اذان نہ ہو جائے اور کوئی فرد بھی بغیر سحری کئے ہوئے  رہ نہ جائے نہ جانے ماں خود کب کھاتی تھی اور کیا کھاتی تھی‘بالکل یاد نہیں قربانیاں دینے والی واری صدقے ہونے والی مائیں‘ غصے اور دبدبے سہتی ہوئی بہنیں‘ ہر شے ہر کھانا ہر چٹنی گھر کے مردوں کیلئے رکھنے والی عورتیں بہت بڑے دل کی مالک ہوئی تھیں ریڈی میڈ کپڑوں کاکوئی رواج نہ تھا درزی کے چکر لگتے تھے بھائیوں کے‘ عید کے دن بوسکی کی قمیض اور لٹھے کی شلوار‘ نئی بنیاں‘ نیا جوتا‘ پہننا جیسے پشاوریوں کیلئے آن بان کی حیثیت رکھتا تھا لڑکیاں شاید ہی نئے کپڑے بناتی تھیں کم از کم مجھے یاد نہیں کہ میرا کوئی نیا جوڑا ہوتا اس پر سلمہ ستارہ ہوا ہوتا‘میں اٹھ اٹھ کر اپنے جوڑے کو دیکھتی‘ ایسا کچھ بھی نہیں تھا ایک صاف ستھرا دھلا ہوا نسبتاً اچھا نظرآنے والا ہی عید کا جوڑا قرار پاتا ماں کو تو میں نے ہمیشہ سفید قمیض اور نیلی شلوار پہنے ہوئے ہی  دیکھا تھا عید پر جو واحد پکوان عید کے دن کو دوسرے تمام دنوں سے ممتاز بناتاتھا جو ہم سب کے دلوں کی شاید دھڑکن تھا وہ عید کے دن صبح پکنے والے سویاں ہوتی تھیں‘ ابلی ہوئی سویاں‘ تڑکا لگا ہوا‘ ملائی اور شکر اور دودھ کو ملا کر ہاتھوں سے ان سوئیوں کو کھانا اپنے بچپن کی عید کا سب سے پرتکلف اور خوش کن لمحہ یادوں میں اکثر ہی جھانکتا ہے چھوٹے چھوٹے بچے پیارے کپڑے پہن کر گلیوں میں آجاتے تھے محلے کا ہر فرد ہی ان کا خیال رکھنے میں پیش  پیش ہوتا تھا لیکن اس دن خاص طورپر بچوں کا ابا سب بچوں کیلئے دستیاب ہوتا تھا جو ان کو جھولوں تک لے جانے میں اور جھولے درانے میں رہنمائی کرتا تھا غربت اور سفید پوشی تھی لیکن کوئی ایسی سچی خوشی ہوئی تھی کہ بعد کے آنے والی کتنی ہی پرتکلف‘ امیر اور بہترین پوشاک پہنے ہوئے بھی وہ خوشی کبھی دل کو میسر نہ نصیب ہوئی‘ سلطانی مہندی ہر گھر کی زینت ہوتی تھی صبح سے ماں ایک برتن میں مہندی گھول دیتی تھی ایسا سچا زمانہ تھا ایسے سرخ رنگ کی مہندی نکلتی تھی اور ہاتھوں پاؤں پر ماں سب بہنوں کو مہندی خوب پھیلا کر لگا دیتی تھی پرانے کپڑوں کو ہاتھوں اور دونوں پیروں پر باندھ دیتی تھی صبح اٹھتے تھے تو مہندی سوکھی ہوئی ہوتی تھی کوئی شک شبہ نہ ہوتا تھاکہ صبح عید نہیں ہوگی صرف ایک دن عید اور ایک دن روزہ ہوتا تھا‘چاند ایسا صاف نظر آتا تھا شاید ہمارا پشاور مغربی حصے میں واقع تھا اور پھر ہر مہینے ہی تو چاند دیکھنے کا طریقہ کار رائج تھا پتہ ہوتا تھا پہلی کا چاند اس طرف نظرآئے گا سوکھی ہوئی مہندی کو جب حمام کے نلکے کے نیچے دھونا شروع کرتے تھے تو مہندی کا رنگ نکھر کر نکل آتا تھا اور پھر ان سرخ ہاتھوں سے سوئیاں کھانا میری یادوں سے کبھی بھی محو نہیں ہوتا جس کے لگن میں ماں کے ہاتھوں کی پکی ہوئی لذیر سوئیاں بھی کبھی نصیب میں نہ ہوئیں آج میں بھی سوئیاں پکاتی ہوں لیکن وہ ذائقہ کہاں‘ نہ جانے ہماری ماؤں ماسیوں کے ہاتھوں میں ایسا کیا جادوتھا کہ دال بھی پکائیں تو جیسے اسکو بھی دوبالا پن لگ جاتا ہم بھی کبھی کبھار نمک منڈی کے جھولے لینے جاتے وہ کیچر سے لت پت سڑک بھی ایسی خوبصورت نظر آتی کیونکہ اس پر جھولوں والا اپنے چھ سات قسم کے جھولوں کے ساتھ کھڑا ہوتا تھوڑی سی جو پیسوں کی شکل میں عیدی ملتی وہ ساری خرچ ہو جاتی اور پھر تیلیوں کی بنی ہوئی گاڑی خرید کر اور بھمبیری کو لہراتے ہوئے گھرواپس آتے‘گلی میں اک عجیب رونق ملتی ہر کوئی عید مبارک کہتا‘ ماں دوپہر کے کھانے کا بندوبست کر رہی ہوتی بوسکی کے جوڑے پہننے والے بھائی راتوں کو واپس لوٹ کر آتے اور اب جیسے زندگی ان کے بغیر بے رونق ہے بوسکی پہننے والے منوں مٹی تلے جاسوئے پراٹھے اور مزیدار سوئیاں پکانے والی مائیں قبرستانوں میں چھپ گئیں اب بھی عیدیں آتی ہیں لیکن کتنی ہی سادہ سی یادیں ساتھ لے کر آنکھوں کے سامنے ہاتھوں کو لہراتی ہیں۔