گورنر کے سامنے ایک لہجہ، عوام کے سامنے دوسرا: وزیراعلیٰ پر تنقید کا طوفان

گورنر خیبرپختونخوا  نے سکیورٹی کمیٹی کے اندرونی تضادات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کے کچھ ارکان اندر کچھ اور اور باہر کچھ اور کہتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی تبصرہ کیا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل میں افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کوئی بات نہیں کی، تاہم اب وزیراعلیٰ افغانستان کے وفد کو لے جانے کی بات کر رہے ہیں۔

گورنر نے مزید کہا کہ صوبے میں کرپشن کے الزامات لگنے شروع ہوگئے ہیں، اور اس بات کا عندیہ دیا کہ حکومت اپنے ہی معاملات میں الجھ کر رہ گئی ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ 4 اپریل کو صوبائی سیشن میں بہت کچھ دیکھنے کو ملے گا اور یہ پہلی بار ہے کہ گورنر کو زحمت دی گئی ہے کہ وہ سیشن بلائیں۔