الفاظ جو ہماری زندگی میں کبھی بھی نہ تھے۔۔

کیمرج ڈکشنری کا ایڈیٹر اپنے ایک انٹرویو میں کہہ رہا ہے کہ سال2020 میں سب سے زیادہ تلاش کیا جانے والا لفظ ”قرنطین“ تھا اور 18 مارچ سے 24 مارچ تک اس لفظ کو کروڑوں لوگوں نے گوگل ڈکشنری پر تلاش کیا۔ قرنطین نام کا لفظ 2020 سے پہلے کبھی سننے میں نہیںآیا۔ ڈکشنری کے کسی صفحہ کے کسی کونے میں تو موجود ہوگا لیکن وہاں سے نکل کر یوں دنیا کے ہر فرد کے ہونٹوں پر اپنی اولین جگہ بنالے گا۔ فروری 2020 سے پہلے کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔اسی طرح چند الفاظ جو خالص انگریزی کے ہیں لیکن دنیا کی ہر زبان بولنے والے کے منہ پر ان گزشتہ سالوں میں بار بار آتے گئے ان میں سینی ٹائزر بھی سرفہرست ہے۔ اگلے دو لفظ لاک اور ڈاﺅن ان دونوں متاثرہ سالوں کے سب سے زیادہ بولے جانے والے الفاظ ہیں۔ کیمرج ڈکشنری کا آپریٹر بتاتا ہے کہ لاک ڈاﺅن کے الفاظ نے کورونا کی بیماری کے دوران نئے معانی متعارف کروائے اور ان دو الفاظ کو ایک کرکے نئی تعریف بیان کی۔ جن کا ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے کہ ”ایک خاص مدت تک جب لوگوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ اپنے گھروں سے آزادی کے ساتھ نکل پڑیں یا آزادی کے ساتھ سفر کا آغاز کریں صرف اس لئے کہ وہ بیماری کا شکار نہ ہوجائیں“۔ کیمرج یونیورسٹی نے ہی ایک سروے وسیع پیمانے پر کروایا کہ ایسا کون سا لفظ ہے جو اس سال ڈکشنری میں شامل ہونا چاہئے کیونکہ ڈکشنری مرتب کرنے والوں کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ ہر سال نئے الفاظ جو ہماری روزمرہ تہذیب کا حصہ بنتے ہیں اس کو لغت میںشامل کر لیتے ہیں تو اس سروے کے نتائج کے مطابق لوگوں نے جس لفظ کو سب سے زیادہ فوقیت دی وہ قرنطین تھا۔ اسی طرح ایک اور لفظ خاص طورپر مغربی دنیا میں کورونا وائرس کے دنوں میں بڑا مقبول ہوا اور وہ تھا ایلبوبمپ اس لفظ کا مطلب ہے کہ گلے ملنے کی بجائے کہنیاں ملا کر دوستی کا اظہار کریں۔ اس لفظ کو فاصلہ رکھنے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسا فاصلہ جہاں آپ کا منہ اور ناک ملنے والے سے نہ ٹکرائیں اور نہ ہی اس حد تک قریب آجائیں کہ وائرس آپ کے منہ یا ناک کے ذریعے اندرجانے کا خطرہ بڑھ جائے تو دوستی اور خلوص کا اظہار اس طرح کریں کہ آپ نے ماسک پہنا ہوا ہو اور اپنی ایک کہنی اپنے دوست کی کہنی کے ساتھ لگا دیں اس طرح آپ نے دوستی کا اظہار کرد یا ہے۔ اگر دیکھاجائے تو یہ اشارہ تو ہماری سوسائٹی میں ہمارے آباﺅاجداد سے شامل ہے اور ہم کہنی مار کر اپنے ہم خیال کو متنبہ کرتے کہ ادھر دیکھ کیا تماشہ ہو رہا ہے یا پھر کسی کی برائی کرتے کرتے کہنی مار کر خبردار کر دیا جاتا ہے کہ خطرہ ہے سنبھل جاﺅ لیکن کیسا عجیب وقت ہے کہ یہ اشارہ آج وائرس سے بچاﺅ کیلئے گلے ملنے کیلئے استعمال ہو رہاہے اور اعلیٰ ترین طبقوں میں وزیر، سفیر، مشیر کہنیاں ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر اپنائیت کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ اسی طرح کورونا وائرس اور کووڈ19 کے الفاظ بھی2020 سے پہلے کسی نے بھی کبھی نہیں سنے لیکن پھر ان الفاظ کی ایسی دھوم مچی کہ مغرب سے مشرق تک اورگھر سے قبرستان تک صرف یہی الفاظ ہوا کی لہروں پر اور انسان کے ہونٹوں پر تھے۔ کووڈ19 کے ساتھ ساتھ بہت سی ایسی اصطلاحیں بھی ہمارے گھروں تک آگئیں جن کی بجا آوری کرنا ہر ایک ذی روح کیلئے لازمی ٹھہرا۔ ماسک بھی اسی میں سے ہے۔ میں نے ہمیشہ ماسک کا لفظ خواتین سے سنا ہے جو چہرے کو خوبصورت کرنے کیلئے بازار کے بنے ہوئے یا خود گھروں میں تیار کئے گئے لوشن کو منہ پر ایسے تھوپتی ہیں کہ ان کے چہرے کی جلد ایک دم نکھر کر جوان اور تازہ دم نظر آنے لگتی ہے کیا خبر تھی کہ ایسی خوبصورت بات سے ہوتا ہوا ماسک اتنا بھیانک بن جائے گا کہ سارا چہرہ اور اس کی خوبصورتیاں اس لفظ کے پیچھے چھپ کر خوف اور احتیاط کی علامت بن جائےں گی۔ایک اور لفظ ہیومن ٹو ہیومن اس دور کا مقبول ہونے والا لفظ ہے جو مغرب اور کسی حد تک مشرق بھی ہر ایک کی زبان پر اکثر وبیشتر آہی جاتاہے۔ اسی طرح ایس او پی مخفف ہے سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کا یا ان احتیاطی تدابیر کو اپنانے کا جو آپ کو ان دیکھے وائرس سے بچا سکتے ہیں۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ دس میں سے تین لوگوں کو ہی اس کا مطلب معلوم ہوگا کہ ایس او پی کن الفاظ کےلئے بولا جاتا ہے لیکن ہر ایک خصوصاً سرکاری محکموں میں تو اس لفظ کو ضرور استعمال کیا جاتاہے۔ سوشل ڈسٹنس بھی2020 اور 2021 کا عام فہم انگریزی کا لفظ بن چکا ہے جس میں ایک انسان کا دوسرے انسان سے مناسب فاصلہ رکھنا ہے۔ یہ دو الفاظ تواتر سے آپ کو نظر آتے رہیں گے جو ان سالوں سے پہلے شاید ہی کبھی کی کی نظروں سے گزرے ہوں یا کسی کے کانوں نے سنے ہوں اور سیلف آئی سولیشن ایک اور نہایت عام لفظ ہے جس کا مطلب ہے خود ساختہ تنہائی۔ تنہا رہنے کا ایسا فیصلہ جو انسان وائرس سے بچنے کیلئے خود کرتا ہے اور پھر اس پر قائم بھی رہتا ہے اور اس فیصلے میں کسی کو بھی اعتراض نہیں ہوتا بلکہ سب خوش ہوتے ہیں کہ ان کو ایسے شخص سے دوری ملی جو ہوسکتا ہے بیماری لےکر پھر رہا ہے اور اگر یہی حرکت یہ خودساختہ تنہائی ہم 2020 سے پہلے اختیار کرنے کا صرف سوچ لیتے تو دماغی امراض کے ڈاکٹر علاج کیلئے مشورے دے رہے ہوتے۔