23 مارچ 1940‘ پاکستان معرض وجود میں آیا 


  پوری قوم آج پاکستان ڈے منا رہی ہے تاکہ منٹو پارک لاہور میں قرار داد پاکستان جو23 مارچ 1940ء کو منظور ہوئی تھی اس کی یاد تازہ ہو۔ آج کا دن بلاشبہ پاکستان کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اکیاسی برس قبل ٹھیک اسی روز برصغیر کے مسلمانوں نے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع ہوکر بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اپنے لئے ایک الگ ملک کے حصول کا تعین کرکے اس کیلئے بھرپور جدوجہد کا آغاز کیا تھا، مسلمان اس جدوجہد میں اتنے ثابت قدم تھے کہ صرف 7 سال کے اندر یعنی14 اگست 1947ء کو اپنا الگ ملک پاکستان بنا ڈالا۔مغل سلطنت کے خاتمہ کے بعد سیاسی افق پر ہندو ابھرنا شروع ہوئے۔ 1857 ء کی جنگ آزادی کے بعد تو انگریز بھی مسلمانوں کے دشمن بن گئے اور انہوں نے بطور پالیسی مسلمانوں کو اقتدار میں آنے سے روکنے کیلئے ہندوؤں کی حمایت شروع کر دی۔ سرسید احمد خان پہلی مسلمان شخصیت تھے جنہوں نے محسوس کیا کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف قومیں ہیں جو ایک ساتھ رہ نہیں سکتیں۔ انہوں نے دو قومی نظریے کی داغ بیل ڈالی۔ انہی کے نظریہ کو پاکستان موومنٹ کے دوسرے رہنماؤں نے اپنایا  چوہدری رحمت علی، سرعلامہ اقبال‘ قائداعظم محمد علی جناح اسی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پیش قدمی کرتے ہوئے بالآخر14اگست 1947 میں مسلمانوں کے لئے الگ ریاست، پاکستان بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اگر مسلمانوں کی علیحدہ ریاست نہ بنتی تو مسلمانوں کا ہندوؤں کے ہاتھوں کیا حشر ہوتا اس کا اندازہ تاریخی شواہد سے کیاجاسکتا ہے۔ 1937ء سے لے کر1939ء تک کانگریس جماعت کو ہندوستان کے سات صوبوں میں حکومت کرنے کا موقع ملا۔ اس قلیل عرصہ میں متعصب ہندوؤں نے مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جس سے مسلمان قائل ہوگئے کہ ہندوؤں کے ساتھ مل جل کر انصاف کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ جنگ عظیم دوئم کے خاتمے کے بعد برطانیہ نے تہیہ کرلیا تھا کہ  وہ ہندوستان میں حکومت کانگریس کے حوالے کردینگے اور اس طرح سے مسلمانوں کو متعصب ہندوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینگے۔ صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر علامہ اقبال نے اپنی رحلت سے کچھ ہی دن پہلے قائداعظم کو مشورہ دیا کہ مسلم لیگ ہندوستان کی تقسیم کیلئے جدوجہد زور وشور سے کرے تاکہ مسلم اکثریت اور ہندو اکثریت کی دو علیحدہ مملکتیں قائم ہوجائیں اسی مقصد کو حاصل کرنے کیلئے مسلم لیگ نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جو بالآخر”لاہور ریزولوشن“ کی شکل میں 23 مارچ 1940 لاہور کے منٹو پارک میں نمودار ہوئی۔ اس قرارداد کو پیش کرنے کا اعزاز بنگال سے تعلق رکھنے والے عظیم رہنما اے کے فضل الحق کو حاصل ہوا‘ اس سیشن کی صدارت قائداعظم محمد علی جناح نے کی تھی۔ مسلم لیگ نے قرارداد لاہور کے ذریعے اعلان کیا کہ وہ کوئی ایسے پلان کو قبول نہیں کرینگے جو مسلمانوں کو مسلم اکثریت والے علاقوں میں علیحدہ خود مختار ریاست قائم کرنے نہیں دے گا تاکہ وہ اسلام کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں‘یوم قرارداد پاکستان منانے کا یہی فلسفہ ہے کہ اس قومی د ن کے موقع پر قوم اپنی گزشتہ سالوں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر اپنی کامرانیوں اور ناکامیوں کا تجزیہ کرے۔ اس حوالے سے ہم اپنی کارکردگی کی رفتار پر اگرچہ پوری طرح اطمینان کا اظہار نہیں کرسکتے تاہم عدم اطمینان کا بھی کوئی جواز نہیں۔ قیام پاکستان کا بنیادی مقصد برصغیر کے مسلمانوں کو انگریز اور ہندو کی غلامی سے نجات دلا کر ایک آزاد اسلامی ریاست کا قیام، معاشی عدم مساوات کا خاتمہ، اقتصادی خوشحالی اور تعصبات کا خاتمہ تھا، آج ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم سیاسی عدم استحکام کا شکار کیوں رہے؟ عوام کی اقتصادی اور معاشی حالت کیوں نہ سدھرسکی؟  سات دہائیاں گزرنے کے باوجود آج ہم غیر ملکی بینکوں کے قرضوں کے بوجھ تلے کیوں دبے ہوئے  ہیں۔ گزشتہ صدی کے اوائل میں مسلمان ایک طرف انگریز سرکار کے غلام تھے تو دوسری جانب ہندوؤں کے تعصب کا نشانہ بنے رہے۔ تاہم نامساعد حالات میں بھی مسلمان اپنے لئے خود مختار آزاد مملکت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ اسی کامیابی کا راز قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت اور مسلمانوں کے اتفاق میں تھا۔یہ تو  خدا کا شکر ہے کہ پاکستان دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے آج وطن کے بیس کروڑ عوام نے تہیہ کرنا ہے کہ قرارداد پاکستان کے اغراض و مقاصد کو عملی جامہ پہنائیں۔ یہی آج کے دن کا تقاضا ہے۔یہاں یہ امر قابل اطمینان ہے کہ وطن عزیز کا مستقبل درخشان ہے یہاں پر وسائل کی فروانی ہے اور اس سے استفادہ کرنے کیلئے منصوبے بھی پروان چڑھ رہے ہیں۔ضرورت ہے تو بس اس جذبے کی جو قیام پاکستان کے وقت تھا کہ بے سروسامانی میں وہ کارنامے انجام دئیے گئے جو دیکھنے  میں ناممکن نظر آتے تھے۔ سرکاری دفاتر میں سٹیشنری نہیں تھی، فرنیچر بھی ضرورت کے مطابق موجود نہیں مگر جو افراد ان دفاتر میں تھے وہ جس جذبے سے لیس تھے اس نے ان تمام کمیوں کو پورا کردیا تھا۔ اب اس وقت جب وطن عزیز ترقی کے سفر پر روان دواں ہے اسی جذبے سے ایک با ر پھر اس کے استحکام اور ترقی و خوشحالی کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔وطن عزیز میں وسائل کی کمی نہیں ان سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوان آبادی کاایک بڑا حصہ ہیں ان کو حالات کی مناسبت سے تعلیم و ہنر سے لیس کرنا ضروری ہے تاکہ وہ وطن کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ یعنی تعلیم اور ہنر کو عام کرنا ہوگایہی ملکی ترقی اور استحکام کی بنیاد ہے اور دیکھا جائے تو یہ کوئی ناممکن کام نہیں۔ بس خلوص نیت سے منصوبہ بندی اور اس پر عمل پیرا ہونا شرط ہے۔