امریکا کو رسائی دینے پر افغان طالبان نے پاکستان کو خبر دار کردیا

کابل: افغان طالبان نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے قیام سے متعلق رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں اجنبی فوجیں  بے امنی اور جنگ کا اصل سبب ہیں۔

 پڑوسی ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی کو ایسا موقع فراہم کرنے کی اجازت نہ دیں اگر ایسا کیا گیا تو یہ تاریخی غلطی  اوررسوائی ہو گی۔

افغان طالبان کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ متعدد میڈیا رپورٹس کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ افغانستان سے انخلاء کے بعد ہمارے ملک میں کارروائیوں کے لئے ہمارے ہمسائے میں رہنا چاہتا ہے۔

 معاملے کی حساسیت کی وجہ سے اسلامک امارت یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ غیر ملکی افواج خطے میں عدم استحکام اور جنگ کی بنیادی وجہ ہیں اور سب سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ گزشتہ 20 سالوں میں ہر کس نے مشاہدہ کیا ہے، خاص طور پر ہمارے لوگوں نے دیکھا ہے جو سب سے زیادہ مشکلات کا شکار رہے ہیں اور مسلسل کسی اور کے مقابلے میں مشکلات سے دوچار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہمسایہ ممالک پر زور دیتے ہیں کہ کسی کو ایسا کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اگر ایک مرتبہ پھر ایسا قدم اٹھایا گیا تو یہ ایک بڑی اور تاریخی غلطی اوررسوائی ہو گی جو تاریخ میں لکھی جائے گی۔

 انہوں نے ایک بار پھر یہ باور کرایا کہ افغان مسلم و مجاہد قوم اس طرح کی گھناؤنے اقدام کے خلاف خاموش نہیں رہے گی۔

 اس کے بجائے اپنی مذہبی اور تاریخی ذمہ داریوں کو اسی انداز سے نبھائیں گے جیسا کہ تاریخ میں کرتے آرہے ہیں۔ 

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم بار بار یہ یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ ہماری زمین دوسروں کی سکیورٹی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اسی طرح ہم دوسروں پر بھی زور دیتے ہیں  اور یقین دہانی چاہتے ہیں کہ   پڑوسی ملک  اپنی زمین اور فضاء کو ہمارے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے  دے۔  اگر اس طرح ہوا تو مشکلات کی ذمہ داری غلطیاں کرنے والوں پر عائد ہو گی۔